9 اپریل راولپنڈی جلسہ، کیا پی ٹی آئی این او سی کے پیچھے چھپ رہی ہے؟

منگل 7 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے راولپنڈی میں 9 اپریل لیاقت باغ جلسے کی اجازت کے لیے درخواست دے کر کارکنان کو بڑی تعداد میں راولپنڈی پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے 9 اپریل کو راولپنڈی کے تاریخی لیاقت باغ میں جلسے کے اعلان پر پی ٹی آئی راولپنڈی کے جنرل سیکریٹری خان عاقل خان نے باقاعدہ این او سی کے لیے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی ہے۔

مزید پڑھیں: اتحادیوں سے مشاورت کے بغیر فیصلے، محمود اچکزئی کا پی ٹی آئی سے شکوہ

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف ایک بڑی سیاسی جماعت ہے اور آئین کے مطابق پرامن احتجاج کرنے جا رہی ہے، جس کی اجازت دی جائے، تاہم پی ٹی آئی کے مطابق ابھی تک درخواست پر کوئی جواب نہیں ملا۔

سہیل آفریدی کی پارٹی اراکین سے مشاورت

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران راولپنڈی کے تاریخی لیاقت باغ میں جلسے کا اعلان کیا تھا، ساتھ ہی کہاکہ جلسہ پرامن ہوگا اور باقاعدہ این او سی لیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے اعلان کے بعد گزشتہ روز اسلام آباد میں باقاعدہ پارٹی اراکین سے ملاقات کی اور 9 اپریل کے جلسے پر بات کی۔ پی ٹی آئی کے مطابق اجلاس میں بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجا اور پارٹی کے منتخب اراکین نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ نے بتایا کہ 9 اپریل کا جلسہ اہم ہے اور تمام قائدین اس کے لیے کام کریں۔ سہیل آفریدی نے تمام اراکین کو زیادہ سے زیادہ کارکنوں کو نکالنے کی ہدایت کی۔

تاہم پارٹی کے کچھ قائدین کا مؤقف ہے کہ جلسے کے لیے منظم منصوبہ بندی اور مشاورت نہیں کی گئی۔

پشاور کے ایک ضلعی رہنما نے بتایا کہ علی امین کے دور میں سیاسی سرگرمیوں کے لیے ضلعی سطح تک کے رہنماؤں سے باقاعدہ مشاورت ہوتی تھی، لیکن اس بار مشاورت نہیں ہوئی اور تیاریاں بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی اسلام آباد میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اور پشاور بہت کم آتے ہیں، صرف واٹس ایپ گروپس میں ہدایات مل رہی ہیں، عملی سطح پر کچھ بھی نہیں۔ پتا نہیں جلسہ کس طرح کامیاب ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ حالات سے لگ رہا ہے کہ جلسے کا انعقاد مشکل ہے، اور این او سی نہ ملنے پر پنڈی نہیں جایا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ابھی تک کوئی حکمت عملی بھی نہیں بنائی گئی کہ کہاں سے جائیں گے اور کون کہاں سے لیڈ کرے گا۔

این او سی نہیں ملے گا تو کیا جلسہ نہیں ہوگا؟

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق پاکستان تحریک انصاف باقاعدہ این او سی کے بعد جلسہ کرے گی اور جلسہ ان کا آئینی حق ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر جلسے کی اجازت نہیں ملی تو پورے ملک میں جو جہاں ہوگا وہیں احتجاج کریں گے۔

پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات اکرام کھٹانہ کے مطابق 9 اپریل کو ہر صورت جلسہ ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ جلسہ پرامن ہوگا اور پورے ملک سے کارکنان راولپنڈی پہنچیں گے۔

اس سوال پر کہ اگر اجازت نہ ملی تو پھر کیا لائحہ عمل ہوگا، اکرام کھٹانہ کا کہنا تھا کہ پارٹی کی جانب سے کارکنوں کو راولپنڈی پہنچنے کی ہدایت ملی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہم 9 اپریل کو راولپنڈی جائیں گے۔ اگر روکا گیا اور اجازت نہ ملی تو جہاں تک جا سکے وہاں تک جائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ موٹروے سے اسلام آباد میں داخل ہوں گے، اور اگر آگے جانے کی اجازت نہ ملی تو کسی بھی مقام پر جلسہ کریں گے۔

کیا پنجاب حکومت جلسے کی اجازت دے رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف راولپنڈی کی قیادت نے ڈپٹی کمشنر کو این او سی کے لیے درخواست دی ہے، تاہم ابھی تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

دوسری جانب ضلعی انتظامیہ راولپنڈی نے ضلع میں دفعہ 144 کا نفاذ کیا ہے، جس کے تحت جلسے جلوس اور غیر ضروری اجتماع پر 15 روز کے لیے مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔

دوسری جانب وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں جلسے جلوس کرنا مناسب نہیں ہے۔

انہوں نے کہاکہ یہ وقت جلسے جلوس کا نہیں ہے، اور شاید اتنے لوگ بھی نہیں آئیں گے کہ سڑکیں بند کرنے کی ضرورت پیش آئے۔

طلال چوہدری نے دبے الفاظ میں بتا دیا کہ حکومت کسی قسم کے جلسے کی اجازت نہیں دے گی۔ ساتھ ہی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی تعریف بھی کی اور کہاکہ موجودہ حالات میں سہیل آفریدی ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور انرجی بچت پالیسی پر مکمل عملدرآمد کر رہے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ سہیل آفریدی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے جلسے جلوس نہ کریں۔

محمود خان اچکزئی کا جلسے میں شرکت نہ کرنے کا عندیہ

دوسری جانب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے بھی پی ٹی آئی کے جلسے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 9 اپریل کے جلسے کے حوالے سے ان سے کوئی مشاورت نہیں ہوئی۔ کسی ایسے احتجاج کی حمایت نہیں کریں گے جس میں لوگوں کے بچے مارے جائیں، تاہم عمران خان کو مائنس کرنے کی ہر کوشش پر مزاحمت کی جائے گی۔

محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے احتجاج اور جلسے کا اختیار بھی انہیں دے رکھا ہے۔ جبکہ محمود خان اچکزئی نے عمران خان کا حوالہ دے کر کہا کہ عمران خان نے بھی بغیر این او سی جلسے کرنے سے منع کیا ہے۔

کیا پی ٹی آئی این او سی کے پیچھے چھپ رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف نے 9 اپریل کو ہر صورت جلسے کا اعلان کر دیا ہے، تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ لیاقت باغ میں جلسے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔

پشاور کے نوجوان صحافی شہاب الرحمان کا ماننا ہے کہ جلسے کے لیے تیاری بالکل بھی نہیں ہو رہی۔ اس سے پہلے پشاور میں جلسے ہوتے تھے تو ریلیاں نکالی جاتی تھیں، کارکنوں کو فعال کیا جاتا تھا، اس بار ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی قیادت این او سی کے پیچھے چھپ رہی ہے اور این او سی نہ ملنے پر مخالف شہروں میں علامتی احتجاج کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ سب کو پتا ہے جلسے کی اجازت نہیں ملے گی۔ بغیر اجازت کریں گے تو تصادم کا خدشہ ہے، بس سادہ الفاظ میں جلسہ ہونا مشکل ہے۔

سینیئر سیاسی تجزیہ کار و صحافی طارق وحید کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی نے کارکنوں کے دباؤ پر راولپنڈی میں جلسے کا اعلان کیا ہے، لیکن اب اس کی اجازت ملنے کے امکانات نہیں ہیں۔

مزید پڑھیں: پشاور جلسہ: کارکن نہ لانے پر پی ٹی آئی کے 25 ضلعی عہدیداروں کو شوکاز نوٹس

انہوں نے کہاکہ سہیل آفریدی کارکنوں کو مطمئن کرنے کے لیے موٹروے سے راولپنڈی مارچ کریں گے اور موٹروے پر احتجاج کریں گے۔

انہوں نے کہاکہ حالات سازگار نہیں لگ رہے اور اگر راولپنڈی جانے کی کوشش ہوئی تو تصادم کا بھی خدشہ ہے، جس کا سہیل آفریدی کو اندازہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp