دنیا میں کئی ایسے جاندار موجود ہیں جن کے ڈنک انتہائی تکلیف دہ سمجھے جاتے ہیں جن میں بُلِٹ چیونٹی، وارئیر بھڑ اور چھوٹے جیلی فِش شامل ہیں۔ یہ جاننے کے لیے کہ سب سے زیادہ دردناک ڈنک کون سا ہے کچھ ماہرین نے اپنی زندگیاں خطرے میں ڈال کر خود کو مختلف جانداروں سے ڈنک لگوائے۔
یہ بھی پڑھیں: جب ویلز کے رہائشی کو بھڑوں سے بھڑنا مہنگا پڑگیا
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین نے بتایا کہ بعض ڈنک ایسے ہوتے ہیں جیسے کسی باکسر کے زور دار مکے یا جسم پر شدید جھٹکے کا احساس ہو۔ اصل میں یہ جاندار اپنے دفاع یا شکار کے لیے ایسے زہریلے کیمیکلز استعمال کرتے ہیں جو اعصابی نظام اور جسم میں سوزش پیدا کرتے ہیں۔
کیڑوں کے ڈنک: سب سے خطرناک مقابلہ
اس شعبے کے بانی ماہر حشرات جسٹن شمٹ نے مختلف کیڑوں کے ڈنک برداشت کر کے ایک اسٹنگ پین انڈیکس تیار کیا جس میں درد کو 4 درجوں میں تقسیم کیا گیا۔
درجہ 1: ہلکا درد، جیسے شہد کی مکھی کا ڈنک
درجہ 2: زیادہ جلن اور تیز درد
درجہ 3: شدید اور دیرپا تکلیف
درجہ 4: انتہائی اذیت ناک، ناقابلِ برداشت درد
درجہ 4 کے خطرناک ڈنک
بلٹ چیونٹی
اس کا ڈنک 24 گھنٹے تک شدید درد دیتا ہے۔ اسے ایسے بیان کیا گیا جیسے جلتے کوئلوں پر چلنا اور پاؤں میں کیل دھنسا ہو۔
ٹارنٹولا ہاک بھڑ
بجلی کے جھٹکے جیسا درد، مگر چند منٹ تک محدود رہتا ہے۔
وارئیر بھڑ
انتہائی اذیت ناک، جیسے انسان کسی آتش فشاں میں قید ہو۔
یوٹیوبر اور وائلڈ لائف ایکسپرٹ کوئیوٹ پیٹرسن نے دنیا بھر کے 30 سے زائد جانداروں کے ڈنک برداشت کیے اور مزید 2 خطرناک جانداروں کو بھی درجہ 4 میں شامل کیا
جاپانی جائنٹ ہارنیٹ
اس کا ڈنک ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے مائیک ٹائسن نے چہرے پر مکہ مارا ہو۔
ایگزیکیوشنر بھڑ
اس کا درد تقریباً 12 گھنٹے تک رہتا ہے اور زہر جلد کو نقصان پہنچا سکتا ہے، حتیٰ کہ نشان بھی چھوڑ دیتا ہے۔
سمندری مخلوقات: ایک نئی سطح کا درد
کیڑوں کے علاوہ سمندری جاندار بھی انتہائی خطرناک ڈنک رکھتے ہیں۔ خاص طور پر ایروکانجی جیلی فش کا ڈنک ایک الگ ہی قسم کی اذیت پیدا کرتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا ابتدائی ڈنک اکثر محسوس بھی نہیں ہوتا، مگر کچھ دیر بعد شدید علامات ظاہر ہوتی ہیں:
گردوں میں شدید درد (جیک ہیمر جیسا احساس)
شدید پسینہ اور مسلسل قے
جسم میں کھچاؤ اور ناقابلِ برداشت درد کی لہریں
موت کا شدید خوف (نفسیاتی اثر)
ماہرین کے مطابق کچھ مریض اس قدر تکلیف میں ہوتے ہیں کہ وہ خود موت کی خواہش کرنے لگتے ہیں، حالانکہ زیادہ تر افراد بعد میں صحت یاب ہو جاتے ہیں۔
دیگر خطرناک سمندری جاندار
آسٹریلین باکس جیلی فش: دنیا کی مہلک ترین جیلی فش، جس کا ڈنک کھولتے تیل جیسا درد دیتا ہے۔
فائر ورم: اس کے باریک کانٹے جلد میں پھنس کر شدید جلن پیدا کرتے ہیں۔
اسٹون فش: سمندر میں پتھر جیسی شکل میں چھپی ہوتی ہے، اس کا ڈنک 48 گھنٹے تک شدید درد اور سوجن پیدا کرتا ہے۔
سب سے زیادہ دردناک ڈنک کون سا ہے؟
ماہرین کے مطابق حتمی طور پر یہ کہنا مشکل ہے کہ سب سے زیادہ دردناک ڈنک کون سا ہے کیونکہ مختلف جانداروں کا زہر مختلف انداز میں اثر کرتا ہے اور ہر انسان کا درد برداشت کرنے کا معیار مختلف ہوتا ہے البتہ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ بلٹ چیونٹی، ایگزیکیوشنر بھڑ اور ایروکانجی جیلی فش دنیا کے سب سے دردناک ڈنک دینے والے جانداروں میں شامل ہیں۔
مزید پڑھیے: مشہور و معروف گلوکارہ کوبرا سانپ کے ڈسنے سے جاں بحق
یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ فطرت میں موجود بعض جاندار نہ صرف خطرناک بلکہ انتہائی تکلیف دہ بھی ہو سکتے ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ایسے جانداروں کے قریب جانا یا جان بوجھ کر ان کے ڈنک کا تجربہ کرنا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔













