راولپنڈی میں اڈیالہ روڈ پر پی ٹی آئی کارکنوں کی ہنگامہ آرائی کے واقعے پر تھانہ صدر بیرونی میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ اور نورین نیازی کو نامزد کیا گیا ہے، جبکہ اقدام قتل اور پولیس سے مزاحمت سمیت دیگر دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ ایف آئی آر سب انسپکٹر عمران خان کی مدعیت میں درج کی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل میں ملاقات کرادی گئی
مقدمے میں ایم این اے شاہد خٹک، ایم پی اے مینا خان، ایم این اے شفقت اعوان اور خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان شفیع جان کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں سمابیہ طاہر ستی سمیت 1400 نامعلوم افراد کو بھی مقدمے میں شامل کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کے نتیجے میں 9 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے موقع سے 41 ملزمان کو حراست میں لیا تھا تاہم بعد ازاں متعدد افراد پولیس کی حراست سے فرار ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان کو وکیل سے ملاقات کی اجازت دی جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست
دوسری جانب سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف ہتک کیس میں نظر ثانی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔
جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کا حق دفاع ختم کر دیا تھا، جسے بعد ازاں سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔
بانی پی ٹی آئی نے اسی فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواستیں دائر کی تھیں جن پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔














