عالمی اور مقامی مالیاتی اداروں کی حالیہ رپورٹس نے پاکستانی معیشت کے حوالے سے مثبت اشارے دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بیرونی ادائیگیوں کے شدید دباؤ کے باوجود پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، جس سے روپے کی قدر میں بڑی گراوٹ کا خدشہ ٹل گیا ہے۔
زرمبادلہ کے ذخائر اور ادائیگیوں کا شیڈول
مالیاتی رپورٹس کے مطابق، پاکستان نے حال ہی میں 3.5 ارب ڈالر کے قرضوں اور 1.3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز کی کامیاب ادائیگی کی ہے۔ ان بھاری ادائیگیوں کے باوجود مارکیٹ میں کوئی افراتفری نہیں دیکھی گئی۔
مزید پڑھیں:پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟
اس وقت اسٹیٹ بینک کے ذخائر 16 ارب 30 کروڑ ڈالر ہیں جس میں کمرشل بینکوں کے ذخائر 5 ارب 40 کروڑ ڈالر ہیں، سونے کے ذخائر کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ یہ قریباً 10 ارب ڈالر کی سطح پر ہیں، جو ملکی معاشی استحکام کی ضمانت دے رہے ہیں۔
قرضوں کے بوجھ میں کمی، اہم فارمولے
معاشی تجزیہ کار محمد حمزہ گیلانی کے مطابق اس وقت حکومت کے پاس ادائیگیوں کے بوجھ کو مزید کم کرنے کے لیے 2 اہم فارمولے موجود ہیں اول ایکسچینج مارکیٹ سے خریداری ہے جس میں اسٹیٹ بینک براہ راست مارکیٹ سے ڈالر خرید کر روپے کی قدر کو متوازن اور ذخائر کو مزید بہتر بنا سکتا ہے۔ دوم یہ کہ جون 2026 تک کرنسی سوائپ کے ذریعے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کی حکمت عملی بھی زیر غور ہے۔
سعودی عرب سے 10 ارب ڈالر کا معاشی پیکیج
معاشی تجزیہ کار تنویر ملک کے مطابق حکومتِ پاکستان نے برادر ملک سعودی عرب سے 10 ارب ڈالر کے بڑے معاشی بیل آؤٹ پیکیج کی درخواست کر رکھی ہے، جس پر پیشرفت جاری ہے۔ اس پیکیج کے تحت، سعودی عرب 5 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس کو طویل المدتی قرض میں تبدیل کرے گا۔
تنویر ملک کا مزید کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے ادھار تیل کی سہولت کو 1.2 ارب ڈالر سے بڑھا کر 5 ارب ڈالر سالانہ کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے جو پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے بہتر ثابت ہوگا۔
مزید پڑھیں:ترکیہ کا ایران امریکا جنگ بندی کا خیرمقدم، ثالثی کے عمل میں پاکستان کے کردار کی تعریف
ان کا مزید کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر پر پریشر رہے گا آنے والے دنوں میں اب دیکھنا ہوگا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کیا آتی ہیں کیوں کہ وہ کہتے ہیں روپے کو مزید ڈی ویلیو کریں اور شرح سود میں اضافہ کیا جائے ساتھ ہی ہماری ایکسپورٹ اس وقت متاثر ہے یہ کچھ چیزیں ہیں انہیں دیکھنا پڑے گا۔
معاشی تجزیہ کار سلمان نقوی کے مطابق پاکستانی قرضوں کا مجموعی حجم ملکی پیداوار (GDP) کے مقابلے میں 32 فیصد سے کم ہو کر 26 فیصد پر آنا ایک بڑی کامیابی ہے۔ فچ جیسے اداروں نے بھی پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری کے امکانات ظاہر کیے ہیں، بشرطیکہ اصلاحات کا تسلسل برقرار رہے۔
انکا مزید کہنا ہے کہ روپے پر دباؤ اب ماضی کی بات بنتا جا رہا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی اور ترسیلات زر میں اضافے نے اسٹیٹ بینک کو اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ بیرونی جھٹکوں کا مقابلہ کر سکے۔














