اسلام آباد میں کل ہونے والے مجوزہ ایران امریکا مذاکرات کے حوالے سے ذرائع نے بتایا ہے کہ ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیوٹ نے ایران کے پیش کردہ 10 نکات مسترد کردیے ہیں تاہم ایران اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہیں، کل مذاکرات کا ممکنہ نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع کر کے مذاکرات کے لیے اگلی تاریخ دی جائے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے اس دور میں ممکنہ طور پر ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے شاید کچھ پیش رفت ہو سکتی ہے۔
مذاکراتی وفود کے کی آمد کے حوالے سے خدشات دور
امریکا ایران جنگ بندی مذاکرات کے لئے ایرانی وفد آج رات اسلام آباد پہنچے گا، اس کی تصدیق پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ کے ذریعے کردی تھی، جسے بعد میں ڈیلیٹ کر دیا گیا جبکہ پاکستان میں ایرانی سفارتخانے کے حکام کا کہنا ہے کہ آج کسی وقت اس حوالے سے واضح پیغام جاری کیاجائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات: امریکی اور ایرانی وفود آج پاکستان پہنچیں گے
اس سے قبل امریکی اخبار نیویارک پوسٹ نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے دورہ پاکستان کے حوالے سے لکھا کہ وہ شاید سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اسلام آباد نہ جا سکیں لیکن اس کے بعد وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے تصدیق کر دی کی نائب صدر جے ڈی وینس، جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف پاکستان جائیں گے۔
اس کے بعد جعمرات کےروز وزیر داخلہ محسن نقوی نے امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کے ساتھ ملاقات میں اس بات کی تصدیق کی اور انہیں یقین دلایا کہ امریکی وفد کو فول پروف سیکیورٹی مہیا کی جائے گی۔
مذاکرات کہاں ہوں گے؟
اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین ممکنہ طور پر اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع سیرینا ہوٹل میں مذاکرات کی میز پر سرجوڑیں گے، اس حوالے سے تمام سیکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
مذاکرات کے حوالے سے خدشات
آج صبح پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور سفارتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کے باوجود ایرانی مذاکراتی ٹیم آج رات اسلام آباد پہنچے گی۔
انہوں نے لکھا کہ ایرانی رائے عامہ ان مذاکرات کے خلاف ہے لیکن وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر آج رات ایرانی مذاکراتی ٹیم اپنے 10 نکات پر بات چیت کے لیے اسلام آباد پہنچے گی۔

ایرانی ذرائع کے مطابق اسرائیل ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے، آج ہی اسرائیل کی جانب سے لبنان میں 250 شہریوں کو شہید کیا گیا، اس کے باوجود کہ لبنان کی جنگ بندی بھی معاہدے کا حصہ ہے۔
ذرائع کے مطابق ان تمام خلاف ورزیوں کے باوجود ایرانی کی مذاکراتی ٹیم آج رات اسلام آباد پہنچے گی جس کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کریں گے جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اس وفد میں شامل ہونے کے امکانات بھی موجود ہیں۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ بہت ممکن ہے کہ طرفین کے سخت موقف کے باعث بات چیت مزید آگے نہ بڑھ سکے لیکن جنگ بندی میں توسیع اور مذاکرات کی اگلی تاریخ دے دی جائے، امریکی اپنے عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ امن مخالف لابیوں کی جانب سے جعلی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں جن کا واحد مقصد اسلام آباد امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنا ہے، یہ گمراہ کن مہم بنیادی طور پر را اور موساد کی جانب سے چلائی جا رہی ہے۔

اس میں امریکی میڈیا میں اسرائیلی اثر و رسوخ بھی شامل ہے، یہ منفی مہم اس وقت سے مزید تیز ہو گئی جب شہباز شریف نے جنگ بندی کی تجویز پیش کی، جسے امریکا اور ایران نے قبول کیا۔
اس کے بعد یہ شکوک پیدا کیے جا رہے ہیں کہ آیا وفود پاکستان آئیں گے یا نہیں، اب جبکہ دونوں فریق اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کر چکے ہیں، تو جان بوجھ کر پاکستان کی نیت اور ان مذاکرات کے انعقاد کی صلاحیت پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔
ہر منفی کردار کا مقصد ایک ہی ہے؛ اسلام آباد مذاکرات کو ناکام بنانا، اگرچہ ان کے محرکات مختلف ہو سکتے ہیں۔ اسرائیلی عناصر اور ایران کے بعض مخالف جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، جبکہ بھارتی عناصر پاکستان کے خلاف مایوسی اور عناد کی بنیاد پر یہ مہم چلا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے پاکستان کو ایسی بلندیوں پر پہنچا دیا جس کا تصور ممکن نہیں تھا، خواجہ آصف
نہایت ضروری یہ ہے کہ تمام ذمہ دار لوگ، خصوصاً میڈیا سے وابستہ افراد، ایسی جعلی خبریں اور منظم گمراہ کن مہم سے ہوشیار رہیں، حقیقت یہ ہے کہ اسلام آباد مذاکرات منعقد ہورہے ہیں، اور پاکستان نے وہ کام کر دکھایا ہے جسے بڑی عالمی طاقتیں بھی ناممکن سمجھتی تھیں۔
نتائج کچھ بھی ہوں، پاکستان کو اس ملک کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے انتہائی خلوص اور دیانت داری کے ساتھ دنیا کو ایک بڑے بحران کے دہانے سے واپس لانے کی کوشش کی۔













