امریکا ایران مذاکرات کے تناظر میں دفاعی تجزیہ کاروں نے موجودہ صورتحال کو نہایت حساس قرار دیا ہے، پاکستان نے جنگ بندی کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا ہے اب مذاکرات میں بھی بہترین کردار ادا کرے گا اور دنیا میں پاکستان اور اسلام آباد معاہدے کی پہچان ہو گی، لیکن اس سب میں اسرائیل اور بھارت کے شر سے محفوظ رہنا ہو گا۔
دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) وقار حسن نے کہا کہ عالمی سطح پر طاقتوں کا کردار اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے، ان کے مطابق ترکیہ جیسے ممالک پر بھی دباؤ موجود ہے اور نیٹو کی سیاست اس پورے منظرنامے پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی توجہ اسلام آباد پر، ایران اور امریکا کے مابین مذاکرات کا نتیجہ کیا نکل سکتا ہے؟
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ کشیدگی مزید 15 سے 20 دن تک جاری رہی تو اس کے سنگین معاشی نتائج سامنے آئیں گے اور عالمی معیشت شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔
انہوں نے یورپ خصوصاً فرانس میں گیس کے حصول کے لیے لگنے والی قطاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کے اثرات صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔

وقار حسن کے مطابق بھارت جیسے ممالک کا رویہ بھی قابلِ تشویش ہے، جہاں داخلی مسائل کے باوجود بیرونی محاذ پر جارحانہ پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔
’ایسے حالات میں پاکستان، ایران، ترکی، چین اور سعودی عرب جیسے ممالک کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے، تاہم اصل پیش رفت تب ہی ممکن ہے جب فریقین سنجیدگی سے مذاکرات کی طرف آئیں۔‘
مزید پڑھیں: بحرین کے بادشاہ کا امریکا ایران جنگ بندی پر وزیراعظم پاکستان کو خراج تحسین
انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ دباؤ کے ماحول میں ہونے والے مذاکرات اکثر زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں، اس لیے توقع ہے کہ موجودہ کشیدگی بھی بالآخر مذاکرات کی راہ ہموار کرے گی۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبد القیوم نے اپنی گفتگو میں پاکستان کے تاریخی اور اصولی مؤقف کو اجاگر کیا، قائد اعظم محمد علی جناح کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا مؤقف تھا کہ پاکستان نے قیام کے فوراً بعد ہی عالمی امن کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون قرار دیا تھا۔
ان کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری، تمام ممالک کے ساتھ دوستی، اور کسی کے خلاف جارحیت نہ کرنے کی پالیسی اپنائی۔
عبد القیوم نے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف نظریاتی طور پر بلکہ عملی طور پر بھی عالمی امن کے لیے کردار ادا کیا ہے، 1960 سے اب تک پاکستان 46 بین الاقوامی امن مشنز میں حصہ لے چکا ہے اور اس دوران 171 پاکستانی اہلکار عالمی امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، جبکہ درجنوں اہلکاروں کو اقوام متحدہ کی جانب سے بہادری کے اعزازات بھی ملے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے مختلف ادوار میں ایران اور امریکا، ایران اور سعودی عرب، اور دیگر ممالک کے درمیان مفاہمت کی کوششیں کیں، جبکہ خطے میں امن کے لیے ہمیشہ فعال کردار ادا کیا۔
ان کے مطابق افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا میں بھی پاکستان نے سہولت کاری کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان علاقائی اور عالمی امن کے لیے سنجیدہ ہے۔
مزید پڑھیں: ایران، امریکا کشیدگی میں کمی فیصلہ کن مرحلے میں، اسرائیل سے امن سبوتاژ ہونے کا خدشہ
بریگیڈیئر (ر) بابر علاءالدین نے مذاکراتی عمل کی پیچیدگیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حالیہ کوششیں وقتی جنگ بندی کے لیے نہیں بلکہ مستقل اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ہیں، کسی بھی تنازع کے حل کا پہلا مرحلہ جنگ بندی ہوتا ہے، جس کے بعد فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران فریقین اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے بعض اوقات غیر حقیقی مطالبات بھی پیش کرتے ہیں، تاہم اصل کامیابی ایک درمیانی راستہ تلاش کرنے میں ہوتی ہے جو دونوں فریقین کے لیے قابل قبول ہو، انہوں نے کہا کہ یہی ’وِن وِن‘ صورتحال دیرپا امن کی بنیاد بنتی ہے۔

بابر علاءالدین نے امید ظاہر کی کہ مجوزہ مذاکرات، جو جلد شروع ہونے کی توقع ہے، ایک ایسے معاہدے پر منتج ہوں گے جو خطے میں دیرپا امن کی بنیاد بنے گا، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ کچھ ممالک، خصوصاً اسرائیل اور بھارت، اس امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں کیونکہ ان کے مفادات کشیدگی میں پوشیدہ ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا جنگ بندی: عمر عبداللہ پاکستانی کردار کے معترف
انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز ہیں اور اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی، جس سے نہ صرف خطے میں استحکام آئے گا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص مزید مضبوط ہوگا۔
دفاعی تجزیہ کار نے کہا کہ پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششیں اور امن کے لیے اس کا کردار مستقبل میں بھی اہمیت کا حامل رہے گا، اور اگر یہی رفتار برقرار رہی تو خطے میں دیرپا امن کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔













