تاریخ کا تسلسل محض واقعات کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ ان انسانی ارادوں کی داستان ہوتی ہے، جو کبھی تباہی کے دہانے پر کھڑے ہو کر بقا کا راستہ تلاش کرتے ہیں۔
6 اور 7 اپریل 2026 کی صبح، جو عالمی افق پر ہولناکیوں کی چادر اوڑھے نمودار ہوئی تھی، انسانی تہذیب کے ماتھے پر ایک بدنما داغ بننے کے قریب تھی۔ یہ وہ لمحات تھے جب انسانیت کی سانسیں تھم سی گئی تھیں، جہاں بارود کی بو نے فضاؤں کو بوجھل کر دیا تھا اور جہاں سیاست کے ایوانوں سے صرف انتقام کی صدائیں سنائی دے رہی تھیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تہذیب کے خاتمے کی دھمکی محض ایک سیاسی بیان نہیں تھی، بلکہ یہ اس انسانی ’انا‘ کا اظہار تھا جو صدیوں کی محنت سے تعمیر شدہ تمدن کو چند گھنٹوں میں خاکستر کرنے پر تلی تھی۔
اس نازک گھڑی میں، جب مشرقِ وسطیٰ کے صحرا میزائلوں کی آگ سے دہک رہے تھے اور’ آبنائے ہرمز‘ کی لہریں عالمی معیشت کی نبض ڈبو رہی تھیں، ایسے میں پاکستان کے شہر اسلام آباد سے امن کی ایک ایسی آشا نے اڑان بھری جس نے ثابت کر دیا کہ قلم کی سیاہی اور تدبر کی روشنی، بارود کے دھوئیں سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔
یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی کہ طاقت کا توازن ہی کائنات کے وجود کا ضامن ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا حسن ہمیشہ سے اس کا وہ ’ نقطہِ اعتدال‘ رہا ہے جہاں متضاد مفادات کے دھارے آکر مل جاتے ہیں۔ ایک طرف واشنگٹن کے ساتھ دہائیوں پر محیط سیکیورٹی شراکت داری تھی اور دوسری طرف تہران کے ساتھ وہ برادرانہ، تہذیبی اور روحانی رشتے تھے جنہیں تاریخ کی کوئی بھی آندھی متزلزل نہ کر سکی۔
اس دہری اعتماد سازی نے پاکستان کو ایک ایسے ’ثالثی چینل‘ کے روپ میں ڈھال دیا جس کی اہمیت کسی مادی ترازو میں نہیں تولی جا سکتی۔ یہ ایک ایسی پگڈنڈی تھی جس پر چل کر دو دشمن ریاستیں ایک دوسرے کے قریب آئیں، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اسلام آباد کی سرزمین سے اٹھنے والی آواز میں خلوصِ نیت کی چاشنی اور امن کی سچی تڑپ موجود ہے۔ پاکستان نے یہاں ’خیرِ مطلق‘ کا راستہ چنا، جہاں ذاتی مفاد سے بڑھ کر عالمی امن کی بقا مقصود تھی۔
جب دو ممالک ایک دوسرے پر حملے کی آخری تیاریوں میں ہوں، تو ان کے درمیان بات چیت کا دروازہ کھولنا کسی معجزے سے کم نہیں ہوتا۔ پاکستانی قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بصیرت نے اس بحران میں جس ‘شٹل ڈپلومیسی’ کا مظاہرہ کیا، وہ عالمی مبصرین کے لیے ایک معمہ اور ایک شاہکار بن گئی۔
واشنگٹن میں جے ڈی وینس اور تہران میں عباس عراقچی کے درمیان براہِ راست رابطے استوار کرنا ایسے ہی تھا جیسے دو دہکتے ہوئے ’جوالامکھیوں‘ کے درمیان ٹھنڈی ہوا کا جھونکا گزر جائے۔
یہ محض سیاسی جوڑ توڑ نہیں تھا، بلکہ یہ نفسیاتی گرہوں کو کھولنے کا عمل تھا۔ اس ڈپلومیسی نے ثابت کیا کہ اگر آپ خود کو مساوات کے متوازن خول میں رکھیں اور ہر قوم کی جغرافیائی سالمیت اور غیرتِ ملی کا احترام کریں، تو دنیا خود بخود آپ کو ’منصف‘ اور ’فیصلہ ساز‘ تسلیم کر لیتی ہے۔ یہ عمل اس قدیم قول کی یاد دلاتا ہے کہ ’ اصل بہادر وہ نہیں جو تلوار چلائے، بلکہ وہ ہے جو چلتی تلوار کو روک دے‘۔
تاریخ کے پنوں کو پلٹا جائے تو 1970 کی دہائی میں بھی پاکستان نے امریکا اور چین کے درمیان جو ’خفیہ پل‘ کا کردار ادا کیا تھا، اس نے عالمی سیاست کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا تھا۔ آج، 2026 میں تاریخ نے پھر خود کو دہرایا، مگر اس بار چیلنج کی وسعت کئی گنا زیادہ تھی۔
اس بار صرف 2 ممالک کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ عالمی توانائی کی شہ رگ ’آبنائے ہرمز‘ کا سوال تھا اور ایٹمی تصادم کا وہ مہیب سایہ تھا جو پوری انسانیت کو نگلنے کے لیے تیار تھا۔
آج کے پاکستان نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ صرف جنوبی ایشیا کا جغرافیائی مرکز نہیں، بلکہ طاقت اور تدبر کا وہ سرچشمہ ہے جہاں سے نکلنے والی لہریں واشنگٹن، بیجنگ اور تہران تک یکساں اثر رکھتی ہیں۔ یہ پاکستان کی سفارتی تاریخ کا وہ سنہرا باب ہے جو آنے والی نسلوں کو یہ سبق دے گا کہ امن کی قیمت جنگ کی قیمت سے ہمیشہ کم ہوتی ہے۔
پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں جو 10 نکاتی امن منصوبہ سامنے آیا، وہ محض ایک رسمی دستاویز نہیں بلکہ ایک نیا ’میثاقِ انسانیت‘ ہے۔ اس منصوبے کے خالقوں نے انسانی نفسیات اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر فریق کے تحفظات کا مداوا کیا۔
ایران نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری سے دستبرداری کا جو عزم ظاہر کیا، وہ اس کی صلح جوئی کی دلیل ہے۔ لیکن اس کے بدلے میں اس کے پرامن جوہری پروگرام کو تسلیم کرنا ایک منطقی اور جائز مطالبہ ہے۔
ایران کی معیشت پر لگی بنیادی اور ثانوی پابندیاں محض معاشی سزا نہیں تھیں، بلکہ وہ ایرانی عوام کے جینے کے حق پر قدغن تھیں۔ ان پابندیوں کا خاتمہ عالمی برادری کے ضمیر پر ایک قرض تھا جسے پاکستان ادا کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔
دنیا کی 20 فیصد سے زیادہ تیل کی رسد جہاں سے گزرتی ہو، اسے بند کرنا عالمی معیشت کی خودکشی کے مترادف تھا۔ پاکستان نے اپنی حکمتِ عملی سے تہران کو قائل کیا کہ وہ اس عالمی گزرگاہ کو ’ٹیکنیکی حدود‘ کے اندر دوبارہ کھول دے۔ یہ فیصلہ ایشیا اور یورپ کی ڈوبتی ہوئی صنعتوں کے لیے آبِ حیات ثابت ہوا اور یوں پاکستان نے ’آبنائے ہرمز‘ میں دنیا کی ڈوبتی معاشی ناو کو بچا کر احسان عظیم کیا۔
دوسری جانب واشنگٹن کا ’میکسیمم پوزیشن‘ کا مطالبہ بظاہر سخت گیر تھا، مگر سفارت کاری کا کمال یہی ہے کہ ناممکن کو ممکن بنایا جائے۔ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کو اس بات پر آمادہ کرنا کہ وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں، بذاتِ خود ایک بڑی کامیابی تھی۔
ایران کا یہ فیصلہ کہ وہ ٹرانزٹ فیس سے حاصل ہونے والی آمدن کو جنگی تیاریوں کے بجائے ’تعمیرِ نو‘ پر خرچ کرے گا، ایک نئے عہد کا آغاز ہے۔ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ قومیں گولیوں سے نہیں، بلکہ خوشحالی اور استحکام سے عظیم بنتی ہیں۔
یقیناً اس پورے بحران نے ہمیں سکھایا کہ دنیا ایک ’گلوبل وویلج‘ ہی نہیں، بلکہ ایک جسم کی مانند ہے جس کا ایک حصہ بھی تکلیف میں ہو تو پورا وجود تڑپ اٹھتا ہے۔
اسلام آباد کی کامیاب سفارتکاری اس فلسفے کی جیت ہے کہ تصادم کا راستہ ہمیشہ تباہی کی طرف جاتا ہے، جبکہ مکالمہ وہ واحد راستہ ہے جو تاریک غاروں سے روشنی کی طرف ہی لے جاتا ہے۔
پاکستان نے اس بحران میں جو قیمت چکائی، وہ اس کی نیندیں، اس کی تگ و دو اور اس کا صبر تھا۔ لیکن اس کا صلہ ایک ایسی دنیا کی صورت میں ملا جہاں اب میزائلوں کی جگہ تجارتی جہاز لہروں کا سینہ چیر رہے ہیں۔ پاکستان کا یہ کارنامہ تاریخ میں ’امن کے سفیر‘ کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
آج جب ہم مڑ کر ان خوفناک لمحات کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ انسانیت کتنی بے بس تھی، مگر پھر اسلام آباد کی جانب سے اٹھنے والا وہ ایک قدم امید کا استعارہ بن گیا۔
پاکستان کی سفارتکاری اس سچائی کا اعتراف ہے کہ جنگیں صرف زمینیں فتح کرتی ہیں، لیکن امن دلوں کو فتح کرتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب کبھی دنیا بڑے بحرانوں کی زد میں آئی، چند ہی ممالک ایسے ابھرے جنہوں نے اپنی اسٹریٹجک اہمیت اور متوازن پالیسی کے ذریعے انسانیت کو تباہی سے بچایا۔ پاکستان کا نام اس فہرست میں اب سب سے اوپر رہے گا، کیونکہ اس نے ثابت کر دیا کہ ’امن کی ایک گھڑی، جنگ کے سو سالوں پر بھاری ہوتی ہے‘۔
اسلام آباد معاہدہ صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں، بلکہ یہ انسانی تہذیب کی بقا کا وہ عہد نامہ ثابت ہو گا جو آنے والی صدیوں تک امن پسندوں کی رہنمائی کرتا رہے گا۔
مکنہ اسلام آباد معاہدہ 2026 درحقیقت پاکستان کی اس عظمت کی واپسی ثابت ہو گا جس کا خواب اس کے معماروں نے دیکھا تھا۔ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ دنیا کی تقدیر کے فیصلے اب واشنگٹن سے نہیں بلکہ اسلام آباد سے ہوں گے ۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














