روس کے صدر نے آرتھوڈوکس ایسٹر کے موقع پر 32 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے، جس پر یوکرین نے بھی عمل کرنے کی تصدیق کردی ہے۔
روسی حکام کے مطابق جنگ بندی کا اطلاق ہفتے کی سہ پہر سے اتوار کی رات تک ہوگا، جس دوران تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں روک دی جائیں گی۔ حکام نے ہدایت کی ہے کہ اس دوران ممکنہ اشتعال انگیزی یا حملوں کا جواب دینے کے لیے فوج کو تیار رکھا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: روس یوکرین جنگ بندی کا انحصار پیوٹن پر ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
روسی صدر کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد مذہبی تہوار کے دوران کشیدگی میں کمی لانا ہے، تاہم اس سے قبل بھی اسی نوعیت کی عارضی جنگ بندی ہو چکی ہے جس کے دوران دونوں فریق ایک دوسرے پر خلاف ورزی کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔
یوکرین کے صدر نے کہا ہے کہ ان کا ملک پہلے بھی ایسٹر کے موقع پر جنگ بندی کی تجویز دے چکا ہے اور اب اس فیصلے کے مطابق کارروائی کرے گا۔ ان کے مطابق عوام کو ایسا ایسٹر درکار ہے جو خوف اور حملوں سے پاک ہو۔
یہ بھی پڑھیں: روس یوکرین جنگ بندی کے لیے برطانیہ اور فرانس کی تجویز کیا ہے؟
انہوں نے یہ بھی کہا کہ یوکرین کئی بار عارضی جنگ بندی کی پیشکش کر چکا ہے تاکہ امن کی طرف قدم بڑھایا جا سکے، تاہم ماسکو نے اکثر ان تجاویز کو مسترد کیا ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، لیکن اب تک کسی مستقل معاہدے کی جانب پیش رفت نہیں ہوسکی۔














