پاکستان کے سابق سفارتکار ضمیر اکرم نے پاکستان کی ثالثی میں آج ہونے والے مذاکرات کے بارے میں کہا ہے کہ اس وقت یہ بات خوش آئند ہے کہ امن مذاکرات کا آغاز ہوا ہے۔ ان مذاکرات سے خطے میں امن عمل کا آغاز ہوگا، ایک پراسیس شروع ہوگا کہ کوئی حل نکلے، یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ دو دن کے بعد معاہدہ ہوگا اور جنگ ختم ہو جائے گی۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہمیں حقیقت پسند ہونا چاہیے اور یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ فوری طور پر یہ جنگ بند ہو جائے گی، ہمیں کوشش یہ کرنی چاہیے کہ جنگ بندی برقرار رہے۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات: پاکستان ماضی میں کب کب عالمی سفارتکاری کا مرکز بنا؟
ضمیر اکرم نے کہاکہ اس میں خطرہ یہ ہے کہ اسرائیل مذاکرات کو خراب کرنے کی کوشش کرے گا، کیونکہ اس کا مفاد اس میں نہیں کہ جنگ بندی ہو اور کوئی حل نکلے۔ اسرائیل ان مذاکرات کو خراب نہ کرے، اور اس بات سے صرف امریکا اس کو روک سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لبنان کی طرف ہم کوشش کر سکتے ہیں اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف اس کی حمایت بھی کرتے ہیں۔
مذاکرات کا انحصار اس پر ہے کہ فریقین کتنی لچک دکھاتے ہیں
انہوں نے کہاکہ یہ بڑے پیچیدہ مذاکرات ہیں، جن میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں بات ہونی ہے، آبنائے ہرمز پر بات ہونی ہے، ایران پر تجارتی پابندیوں کے بارے میں بات ہونی ہے، تو دیکھنا یہ ہے کہ فریقین کتنی لچک دکھاتے ہیں اور مذاکرات کے لیے کتنی تیاری کے ساتھ آتے ہیں لیکن یہ دو تین دنوں میں حل کرنا ممکن نہیں۔
پاکستان نے اسرائیل کے خلاف اپنی لیوریج کو استعمال کیا؟
اس سوال کے جواب میں سفارتکار ضمیر اکرم نے کہاکہ اسرائیل ایک بدمعاش ریاست ہے اور اس کا مقصد تو کئی ملکوں میں تباہی پھیلانا ہے۔ پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات تو نہیں ہیں لیکن امریکا کے ساتھ ہیں اور امریکا کی لیوریج ہے اسرائیل پر کیونکہ اسرائیل کو اربوں ڈالر کا اسلحہ اور مالی امداد امریکا سے جاتی ہے اور امریکا اس لیوریج کو استعمال کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اسرائیل کی بھی امریکا پر بہت بڑی لیوریج ہے۔ اسرائیل امریکا کے کاروباری اداروں، سیاست اور میڈیا پر بہت زیادہ اثر و رسوخ رکھتا ہے تو امریکا کے لیے بھی اتنا آسان نہیں، خطے کے ممالک کو اب سمجھ آ جانی چاہیے کہ ان کو اصل خطرہ اسرائیل سے ہے۔
اسرائیل کی تنہائی کے عمل کا آغاز ہوگیا ہے
ایک سوال کے جواب میں سفارتکار ضمیر اکرم نے کہاکہ میں نہیں سمجھتا کہ امریکا اسرائیل کو تنہا چھوڑ سکتا ہے، لیکن امریکا میں لوگوں کو احساس ہونا شروع ہوگیا ہے کہ اسرائیل نے امریکا کو گمراہ کرکے اس جنگ میں دھکیلا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اسرائیل نے غلط انٹیلیجنس دی کہ ایران میں رجیم گر جائے گی، لیکن اس کے باوجود اسرائیل کا امریکا اور یورپ میں بہت زیادہ اثر و رسوخ ہے، لیکن اسرائیل کی تنہائی کے عمل کا اس وقت آغاز ہوگیا ہے۔
کیا پاکستان خطے کا نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر بن سکتا ہے؟
مزید پڑھیں: امن کے لیے پاکستان کی کامیاب سفارتکاری، عالمی سطح پر پذیرائی، بھارت میں شدید ردعمل
اس سوال کے جواب میں ضمیر اکرم نے کہاکہ ہمیں نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر بننے کی بجائے اپنے مسائل پر فوکس کرنا چاہیے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی بہت متوازن رہی ہے۔ پاکستان نے بہت سے ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو اچھا رکھا ہے اور مزید بہتر کررہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ امریکا نے ماضی میں ہمارے ساتھ کچھ ناانصافیاں بھی کی ہیں لیکن چین کے ساتھ ثالثی کے لیے بھی وہ ہمارے پاس آیا تھا اور اب ایران کے ساتھ ثالثی کے لیے بھی ہمارے پاس آیا ہے۔













