ہمارے گھروں کی ہوا میں نہایت باریک مائیکرو پلاسٹک ذرات پائے جاتے ہیں اور ہم سالانہ لاکھوں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں انہیں سانس کے ذریعے اندر لے سکتے ہیں۔ تاہم چند سادہ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے ان سے بچاؤ ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روزانہ کتنے ہزار مائیکرو پلاسٹک ذرات کیسے ہمارے جسم میں داخل ہو رہے ہیں؟
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اگر آپ اپنے کپڑوں کے لیبل دیکھیں تو زیادہ امکان ہے کہ ان میں مصنوعی کپڑا (سنتھیٹک فیبرک) شامل ہو۔ یہ کپڑے سستے، رنگین اور مختلف اقسام میں دستیاب ہوتے ہیں لیکن یہی کپڑے گھروں میں مائیکرو پلاسٹک پھیلانے کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہیں۔
جب ہم ایسے کپڑے پہنتے، دھوتے یا سکھاتے ہیں تو ان سے نہایت باریک ریشے ہوا میں خارج ہوتے ہیں۔ سانس لیتے وقت یہ ذرات ہمارے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔
مائیکرو پلاسٹک کہاں سے آتے ہیں؟
مائیکرو پلاسٹک تقریباً ہر جگہ موجود ہیں۔ یہ پلاسٹک سے بنی اشیا، خوراک، پانی، اور روزمرہ استعمال کی مصنوعات کے ذریعے ہمارے جسم میں داخل ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ان کا بڑا حصہ ہم گھروں کے اندر سانس کے ذریعے لیتے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق گھروں کے اندر ہوا میں مائیکرو پلاسٹک کی مقدار باہر کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کا تقریباً 90 فیصد وقت گھروں کے اندر گزارتے ہیں۔
گھر میں مائیکرو پلاسٹک کے اہم ذرائع
پلاسٹک یا کیمکلز سے بنے سنتھیٹک کپڑے، صوفے، پردے اور بستر قالین اور کارپٹ، واشنگ مشین اور ڈرائر اور گھریلو گرد (ڈسٹ)۔ یہ ذرات اکثر گرد میں جمع ہو جاتے ہیں اور ذرا سی حرکت سے دوبارہ ہوا میں پھیل جاتے ہیں۔
صحت پر ممکنہ اثرات
مائیکرو پلاسٹک کے اثرات پر تحقیق ابھی جاری ہے لیکن ابتدائی نتائج تشویش ناک ہیں۔ یہ پھیپھڑوں میں جا کر سوزش پیدا کر سکتے ہیں، نہایت چھوٹے ذرات جسم کے اندرونی اعضا تک پہنچ سکتے ہیں اور دمہ اور سانس کی دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
بچاؤ کے طریقے
ماہرین کے مطابق مکمل طور پر بچاؤ ممکن نہیں لیکن کچھ عادات بدل کر خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔
کپڑوں کا انتخاب
قدرتی کپڑے جیسے کپاس، اون یا لینن استعمال کریں اور غیر ضروری کپڑے دھونے سے گریز کریں۔

کپڑے دھونا اور سکھانا
کم دھلائی کریں، کپڑے باہر سکھانے کو ترجیح دیں اور واشنگ مشین میں فلٹر استعمال کریں۔
صفائی کا خیال
ویکیوم کرتے وقت کھڑکیاں کھلی رکھیں،ایچ ای پی اے فلٹر والا ویکیوم استعمال کریں، پہلے گیلے کپڑے سے صفائی کریں تاکہ گرد نہ اڑے۔ ایچ ای پی اے فلٹر ایسا فلٹر ہے جو ہوا کو صاف کرتا ہے اور گرد، جراثیم، دھواں اور مائیکرو پلاسٹک جیسے چھوٹے ذرات کو روک لیتا ہے۔
ہوا کی صفائی
ایئر فلٹر استعمال کریں اور کمرے میں مناسب وینٹیلیشن رکھیں۔
مزید پڑھیے: مائیکروپلاسٹکس انسانی صحت کے لیے کس قدر خطرناک ہیں؟
علاوہ ازیں ماہرین کا کہنا ہے کہ مائیکرو پلاسٹک سے مکمل بچاؤ ممکن نہیں کیونکہ یہ ہر جگہ موجود ہیں۔ تاہم روزمرہ عادات میں تبدیلی سے ان کے اثرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔














