عرب میڈیا سے تعلق رکھنے والی صحافی نادیہ بلبیسی نے امریکا اور ایران کے پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کے دوران اپنے دورہ پاکستان کو خوشگوار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یہاں کے ماحول، انتظامات اور عوام کے رویے سے بے حد متاثر ہوئی ہیں۔
العربیہ سے وابستہ صحافی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہ ان کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے اور وہ صبح سے اسلام آباد میں موجود ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پاکستانی عوام نہایت بااخلاق اور مہمان نواز ہیں جبکہ منتظمین نے صحافیوں کی سہولت کے لیے بہترین انتظامات کیے ہیں۔
انہوں نے اسلام آباد کو سرسبز شہر قرار دیتے ہوئے کہاکہ انہیں اس بات کی توقع نہیں تھی کہ شہر اس قدر خوبصورت ہوگا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد مذاکرات پاکستان کے لیے مستقبل میں ایک مضبوط پلیٹ فارم ثابت ہوں گے جس کے ذریعے وہ عالمی سطح پر اہم کردار ادا کر سکے گا، کیونکہ اس نوعیت کی ثالثی کسی بھی ملک کے لیے نہایت اہم ہوتی ہے۔
امن مذاکرات کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے نادیہ بلبیسی نے کہاکہ امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان اختلافات واضح ہیں تاہم دونوں فریق کسی نہ کسی حل کی تلاش میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد پہلی بار اس سطح کی امریکی نمائندگی ایرانی وفد کے ساتھ دیکھی جا رہی ہے، جس سے ان مذاکرات کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے، اگرچہ حتمی نتائج کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔
پاکستان کے کردار پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان کے ایران اور امریکا دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، جس کی وجہ سے وہ ثالثی کے عمل میں ایک اہم حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ سعودی عرب بھی ان مذاکرات کو امید کی نظر سے دیکھ رہا ہے اور چاہتا ہے کہ ان کے نتائج خطے میں سیکیورٹی کو یقینی بنائیں۔
ان کے مطابق خطے میں کسی بھی کشیدگی کے اثرات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
پاکستان سعودیہ دفاعی تعاون کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی شراکت داری اہمیت کی حامل ہے اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات اس عمل میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
اپنے دورہ پاکستان کے تجربات بیان کرتے ہوئے نادیہ بلبیسی نے کہاکہ وہ یہاں کے کھانوں، ثقافت اور عوامی رویے سے بہت متاثر ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پاکستانی کھانے انتہائی لذیذ ہیں جبکہ عوام غیر ملکیوں کے ساتھ نہایت خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ پاکستانی عوام کی مہمان نوازی نے ان پر گہرا مثبت اثر چھوڑا ہے اور وہ مستقبل میں پاکستان کے مزید شہروں کا دورہ کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔













