جنوبی امریکی ملک ارجنٹائن میں گلیشیئرز کے تحفظ سے متعلق قوانین میں نرمی کے بعد ماہرین، کسانوں اور ماحولیاتی کارکنوں نے پانی کی فراہمی کے مستقبل پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا تشویش کا باعث، تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے، وزیراعظم شہباز شریف
مینڈوزا کے علاقے میں واقع ایک انگور کے باغ کی مالک ورجینیا ڈی ویلے کا کہنا ہے کہ ان کی کاشتکاری کا مکمل انحصار اینڈیز پہاڑوں سے آنے والے پانی پر ہے جو برف اور گلیشیئرز کے پگھلنے سے حاصل ہوتا ہے۔
ان کے مطابق اگر پانی نہ ہو تو شراب کی پیداوار بھی ممکن نہیں۔ اینڈیز کے گلیشیئرز اور برف پگھل کر نہ صرف کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں بلکہ گھروں تک پانی بھی پہنچاتے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ مینڈوزا پانی کی بیٹی ہے۔
گلیشیئرز اور پانی کی اہمیت
ماہرین کے مطابق ارجنٹائن میں تقریباً 16,968 گلیشیئرز موجود ہیں جو ملک کے 36 دریائی بیسنز اور 12 صوبوں کو پانی فراہم کرتے ہیں، جہاں تقریباً 7 ملین افراد آباد ہیں۔
خشک موسموں میں یہی گلیشیئرز زرعی زمینوں اور پانی کی فراہمی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں خشک سالی بڑھ رہی ہے۔
قانون میں تبدیلی کیا ہے؟
ارجنٹائن نے سنہ 2010 میں دنیا کا پہلا گلیشیئر تحفظ قانون منظور کیا تھا، جس کے تحت گلیشیئرز کو قدرتی آبی ذخائر قرار دیا گیا اور ان پر کسی بھی نقصان دہ صنعتی سرگرمی پر پابندی تھی۔
لیکن حالیہ ترامیم کے بعد اب صوبائی حکومتیں خود فیصلہ کریں گی کہ کون سے گلیشیئرز اسٹریٹجک اہمیت رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیے: کیاہمالیائی گلیشیئرز 2100ء تک 75فیصد پگھل جائیں گے؟
اگر کسی علاقے کو غیر اہم قرار دیا گیا تو وہاں سے گلیشیئرز کو قومی فہرست سے نکال کر تحفظ ختم کیا جا سکتا ہے۔
حمایت اور مخالفت
حکومت اور بعض حلقے اس تبدیلی کو معاشی ترقی کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں، خاص طور پر کان کنی اور معدنی منصوبوں کو فروغ دینے کے لیے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ممکن ہو گی اور توانائی کے شعبے کو ترقی ملے گی۔
لیکن ماحولیاتی ماہرین اور کارکنوں کا کہنا ہے کہ کان کنی سے دریاؤں کا قدرتی بہاؤ متاثر ہو سکتا ہے، لاکھوں افراد کی پانی کی فراہمی خطرے میں پڑ سکتی ہے اور ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ ہر گلیشیئر کسی نہ کسی صورت میں پانی کے نظام میں حصہ ڈالتا ہے اس لیے انہیں غیر اہم قرار دینا غلط فہمی ہے۔
مزید پڑھیے: انٹارکٹیکا میں 30 سال میں لاس اینجلس کے رقبے سے 10 گنا زیادہ برف پگھل گئی، تحقیق
ان کے مطابق نئے قوانین واضح نہیں جس سے مستقبل میں گلیشیئرز کے تحفظ پر سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
ماحول یا معیشت؟
کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کو توانائی کی منتقلی کے لیے تانبے اور لیتھیم جیسے معدنیات کی ضرورت ہے جو انہی علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ لیکن ماحولیاتی کارکنوں کے مطابق اگر غیر ذمہ دارانہ کان کنی کی گئی تو اس کے اثرات ناقابلِ تلافی ہوں گے۔
ارجنٹائن میں جاری یہ بحث دراصل ایک بڑے سوال کی عکاسی کرتی ہے کیا معاشی ترقی ماحول کے تحفظ سے زیادہ اہم ہے یا پانی اور قدرتی وسائل کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے؟
مینڈوزا کے کسانوں کے مطابق اس سوال کا جواب سادہ ہے کہ ’پانی کا ہر قطرہ قیمتی ہے کیونکہ اس کے بغیر زندگی اور معیشت دونوں ممکن نہیں‘۔
ارجنٹائن کے گلیشیئرز عالمی سطح پر بھی اہمیت کے حامل
ارجنٹائن کے گلیشیئرز صرف مقامی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اہمیت رکھتے ہیں۔
اگرچہ یہ براہ راست زیادہ تر ارجنٹائن کے پانی کے نظام اور زراعت کو سپورٹ کرتے ہیں لیکن بالواسطہ طور پر ان کا اثر عالمی معیشت اور خوراک کی فراہمی پر بھی پڑ سکتا ہے کیونکہ ارجنٹائن دنیا کے بڑے زرعی اور خوراک برآمد کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
اس لیے پانی کی کمی یا ماحولیاتی تبدیلیاں عالمی مارکیٹ میں اجناس کی قیمتوں اور سپلائی کو متاثر کر سکتی ہیں۔
علاوہ ازیں گلیشیئرز موسمیاتی تبدیلی کا اہم اشارہ بھی ہیں اس لیے ان میں ہونے والی تبدیلیوں پر دنیا بھر کے ماہرین اور ادارے نظر رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: گلگت بلتستان میں غیر معمولی درجہ حرارت کے باعث گلیشیئر سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا، پی ایم ڈی کی وارننگ
مزید برآں اینڈیز کے علاقے میں موجود معدنی وسائل جیسے تانبا اور لیتھیم عالمی توانائی اور الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کے لیے بھی اہم ہیں جس کی وجہ سے امریکا، چین اور یورپی ممالک کی کمپنیاں بھی اس خطے میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔













