روس اور یوکرین کے درمیان آرتھوڈوکس ایسٹر کے موقع پر 32 گھنٹوں کے لیے عارضی جنگ بندی ہفتے کی شام سے نافذ العمل ہو گئی ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اس جنگ بندی کا حکم جمعرات کو دیا تھا، جس کی تجویز یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔ تاہم یوکرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ثالثی میں روس یوکرین مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہ نکل سکا، ابوظبی بیٹھک بغیر کسی پیشرفت کے ختم
کریملن کے مطابق یہ جنگ بندی ہفتے کی شام 6 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق) سے شروع ہو کر اتوار کے اختتام تک جاری رہے گی۔
Today, we defined the parameters of our response to any potential violations of the ceasefire by the Russian army. We all understand who we are dealing with. Ukraine will adhere to the ceasefire and respond strictly in kind. The absence of Russian strikes in the air, on land, and…
— Volodymyr Zelenskyy / Володимир Зеленський (@ZelenskyyUa) April 11, 2026
یوکرینی صدر نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں واضح کیا کہ یوکرین اس وقت تک کوئی جوابی کارروائی نہیں کرے گا جب تک روس کی جانب سے فضا، زمین یا سمندر سے کوئی حملہ نہیں کیا جاتا۔
یوکرینی فوج نے بھی کسی بھی اشتعال انگیزی کی صورت میں فوری جوابی کارروائی کے لیے تیار رہنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روس یوکرین جنگ بندی کا انحصار پیوٹن پر ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
جنگ بندی کے آغاز سے چند گھنٹے قبل دونوں جانب سے شدید حملے دیکھنے میں آئے۔ روس نے یوکرین پر 160 ڈرون داغے جس کے نتیجے میں ملک کے جنوبی اور مشرقی حصوں میں 4 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔
دوسری جانب یوکرینی ڈرون حملوں سے روس کے علاقے کراسنوڈار میں ایک آئل ڈپو میں آگ لگ گئی اور روسی زیرِ قبضہ علاقوں میں بھی 4 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ملی ہیں۔
کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک نے سنیچر کے روز 175، 175 جنگی قیدیوں کا تبادلہ کیا ہے۔ اس تبادلے میں متحدہ عرب امارات نے ثالث کا کردار ادا کیا۔ قیدیوں کا تبادلہ ان چند شعبوں میں سے ایک ہے جہاں دونوں ممالک کے درمیان تعاون جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روس کا آرتھوڈوکس ایسٹر کے موقع پر 32 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی کا اعلان، یوکرین کی تصدیق
چار سال سے جاری اس تنازع کو ختم کرنے کے لیے امریکا کی زیرِ قیادت ہونے والے مذاکرات مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث تعطل کا شکار ہوچکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق 4 سال سے جاری یہ جنگ یورپ کی مہلک ترین جنگ بن چکی ہے جس میں لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں اور کروڑوں لوگ بے گھر ہوئے۔ اس وقت روس نے یوکرین کے 19 فیصد رقبے پر قبضہ کر رکھا ہے۔
اگرچہ حالیہ مہینوں میں فرنٹ لائن پر جنگ کی رفتار سست ہوئی ہے، لیکن ڈونیٹسک کے علاقوں میں صورتحال اب بھی یوکرین کے لیے کافی مشکل بنی ہوئی ہے۔
یوکرینی عوام اس عارضی جنگ بندی کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ گزشتہ سال بھی ایسی ہی کوشش کے دوران دونوں جانب سے سینکڑوں بار خلاف ورزی کے الزامات لگائے گئے تھے۔













