روس اور یوکرین کے درمیان ایسٹر کے موقع پر عارضی جنگ بندی نافذالعمل ہوگئی

ہفتہ 11 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

روس اور یوکرین کے درمیان آرتھوڈوکس ایسٹر کے موقع پر 32 گھنٹوں کے لیے عارضی جنگ بندی ہفتے کی شام سے نافذ العمل ہو گئی ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اس جنگ بندی کا حکم جمعرات کو دیا تھا، جس کی تجویز یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔ تاہم یوکرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی ثالثی میں روس یوکرین مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہ نکل سکا، ابوظبی بیٹھک بغیر کسی پیشرفت کے ختم

کریملن کے مطابق یہ جنگ بندی ہفتے کی شام 6 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق) سے شروع ہو کر اتوار کے اختتام تک جاری رہے گی۔

یوکرینی صدر نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں واضح کیا کہ یوکرین اس وقت تک کوئی جوابی کارروائی نہیں کرے گا جب تک روس کی جانب سے فضا، زمین یا سمندر سے کوئی حملہ نہیں کیا جاتا۔

یوکرینی فوج نے بھی کسی بھی اشتعال انگیزی کی صورت میں فوری جوابی کارروائی کے لیے تیار رہنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روس یوکرین جنگ بندی کا انحصار پیوٹن پر ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

جنگ بندی کے آغاز سے چند گھنٹے قبل دونوں جانب سے شدید حملے دیکھنے میں آئے۔ روس نے یوکرین پر 160 ڈرون داغے جس کے نتیجے میں ملک کے جنوبی اور مشرقی حصوں میں 4 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔

دوسری جانب یوکرینی ڈرون حملوں سے روس کے علاقے کراسنوڈار میں ایک آئل ڈپو میں آگ لگ گئی اور روسی زیرِ قبضہ علاقوں میں بھی 4 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ملی ہیں۔

کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک نے سنیچر کے روز 175، 175 جنگی قیدیوں کا تبادلہ کیا ہے۔ اس تبادلے میں متحدہ عرب امارات نے ثالث کا کردار ادا کیا۔ قیدیوں کا تبادلہ ان چند شعبوں میں سے ایک ہے جہاں دونوں ممالک کے درمیان تعاون جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روس کا آرتھوڈوکس ایسٹر کے موقع پر 32 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی کا اعلان، یوکرین کی تصدیق

چار سال سے جاری اس تنازع کو ختم کرنے کے لیے امریکا کی زیرِ قیادت ہونے والے مذاکرات مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث تعطل کا شکار ہوچکے ہیں۔

 ماہرین کے مطابق 4 سال سے جاری یہ جنگ یورپ کی مہلک ترین جنگ بن چکی ہے جس میں لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں اور کروڑوں لوگ بے گھر ہوئے۔ اس وقت روس نے یوکرین کے 19 فیصد رقبے پر قبضہ کر رکھا ہے۔

اگرچہ حالیہ مہینوں میں فرنٹ لائن پر جنگ کی رفتار سست ہوئی ہے، لیکن ڈونیٹسک کے علاقوں میں صورتحال اب بھی یوکرین کے لیے کافی مشکل بنی ہوئی ہے۔

یوکرینی عوام اس عارضی جنگ بندی کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ گزشتہ سال بھی ایسی ہی کوشش کے دوران دونوں جانب سے سینکڑوں بار خلاف ورزی کے الزامات لگائے گئے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شاہد آفریدی نے اسلام آباد مذاکرات کو خطے میں امن کے لیے خوش آئند قرار دے دیا

واٹس ایپ کا نیا فیچر: اب نامعلوم نمبرز کے اسٹیٹس بھی دیکھنا ممکن

بین الاقوامی پرواز میں بچے کی پیدائش، شہریت اور قانونی شناخت پر نئی بحث کا آغاز

گزشتہ سیزن میں پی ایس ایل ادھوری چھوڑنے کے سوال پر کوشل مینڈس کی خاموشی، میڈیا مینیجر کی مداخلت

امریکا اور ایران ایک میز پر، آگے کیا ہونے جا رہا ہے؟

ویڈیو

امریکا اور ایران ایک میز پر، آگے کیا ہونے جا رہا ہے؟

عرب میڈیا سے تعلق رکھنے والی صحافی پاکستانیوں سے متاثر، امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی اہم قرار دیدی

ایران، امریکا کو ایک جگہ بٹھانا بڑی کامیابی ہے، پاکستان دنیا کو کشیدگی سے بچانے کی راہ پر گامزن ہے، جرمن صحافی اسٹیفن شوارزکوف

کالم / تجزیہ

معرکۂ امن، اسلام آباد کی دہلیز پر بدلتی دنیا

وہیل چیئر پر دنیا کی سیاحت کرنے والی مہم جُو خواتین

اسلام آباد میں آخری اوور