پاکستان کا خوبصورت وفاقی دار الحکومت جو ان دنوں دنیائے ہیڈ لائنز پر چھایا ہوا ہے، امریکا ایران ثالثی معاملہ ہی ایسا ہے جس میں ایک طرف پورے مشرق وسطی کا امن جوڑا ہے تو دوسری طرف پوری دنیا کی معیشت کا مستقبل داؤ پرلگا ہے۔ مگر یہ لمحہ فوری نہیں آیا،اس کے پیچھے پاکستان کی خاموش، پیچیدہ اور پس پردہ سفارت کاری ہے جس نے امریکی نائب صدرجے ڈی وینس اور ایرانی سیاسی منظر نامے کے اہم کھلاڑی قالیباف کو اسلام آباد آنے پر مجبور کیا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پاکستان نے سفارتی مہارت آزمائی اور کامیاب ٹھہری، پاکستان اس حالیہ خاموش سفارتکاری مہم کی قیادت اسحاق ڈار نے کی مگر ماضی میں کئی بڑے نام ایسے نام تاریخ کے اوراق میں نقش ہیں جنہوں نے پاکستان کی مختلف سفارتی مہمات کی قیادت کی۔
مراکش کی آزادی کی جنگ اور ایک رات میں پاکستانی شہریت حاصل کرنے والے بلافریج
پاکستان کی تخلیق کو ابھی 6سال ہوئے ہیں اور معاملہ ہے مراکش کی آرزادی کی جنگ کا 1952میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی عمارت کے باہر ایک مراکشی سفارت کار کھڑا ہے۔ اس کا نام احمد بلافریج ہے۔ سلطان محمد پنجم نے اسے بھیجا ہے کہ سلامتی کونسل میں مراکش کی آزادی کا مقدمہ پیش کرے۔ مگر فرانسیسی وفد نے اسے روک دیا ہے کیوں کہ مراکش فرانسیسی نوآبادی ہے، بلافریج فرانسیسی رعایا ہے، اسے بولنے کا حق نہیں۔ فرانسیسی مداخلت پر بلافریج کو بولنے کی اجازت نہ ملی اور وہ عمارت سے باہر آ گئے، پھر ایک فون آیا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ سر ظفراللہ خان نے فوری حکم دیا پاکستانی سفارت خانہ رات کو ابھی کھولو۔ احمد بلافریج کو پاکستانی شہریت دو۔ پاکستانی پاسپورٹ جاری کرو۔ اگلی صبح احمد بلافریج نے سلامتی کونسل میں تقریر کی۔ مگر اب وہ فرانسیسی رعایا نہیں تھا۔ پاکستانی شہری تھا۔ پاکستانی پاسپورٹ اس کے ہاتھ میں تھا۔ فرانس خاموش ہو گیا۔
1956 میں مراکش آزاد ہوا۔ سلطان محمد پنجم نے احمد بلافریج کو وزیر اعظم بنایا۔ کہتے ہیں کہ بلافریج نے اپنے دفتر میں وہ پاکستانی پاسپورٹ فریم کروا کر لگایا اور ہر آنے والے مہمان کو فخر سے بتاتا: ’اس پاسپورٹ نے مراکش کی آزادی میں کردار ادا کیا۔‘ مراکش ورلڈ نیوز نے 2025 میں پاکستانی سفیر سید عادل گیلانی کا بیان شائع کیا جنہوں نے کہا: ’فرانسیسی سفیر نے بلافریج کو روکا کہ بول نہیں سکتے۔ اور وہیں اسی لمحے پاکستان نے شہریت اور پاسپورٹ دے دیا۔ یہ پاکستان کی خاموش مگر دلیرانہ سفارتی مہم کا پہلا واقعہ تھا جس کی قیادت سر ظفر اللہ خان نے کی جو بعد میں بین الاقوامی عدالت انصاف اوراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر بنے انہیں پاکستان کی سفارتکاری کے بانیوں میں سے شمار کیا جاتا ہے۔
آغا شاہی جن کا نام بین الاقوامی قانون میں ہمیشہ احترام سے لیا جاتا ہے
پاکستان جب خود ایک نوزائدہ ریاست تھی جس کو مہاجرین کے بھاری بوجھ، کمزور معیشت، غیر محفوظ سرحدوں کے چیلنجز درپیش تھے مگر سفارتی محافظ پر اقوام متعدہ میں یہ بھرپور طریقے سے متحرک تھا اور آزادی کی جنگ لڑتے مراکش، الجرائز سمیت دیگر ممالک کے لیے مسلسل ایک امید بنا ہوا تھا۔ سر ظفر اللہ خان کی ہدایت پر جو پاسپورٹ مراکش کے بلافریج کوجاری کیا گیا وہی الجزائر کے بانی احمد بن بیلا کو بھی ملا۔ ایسے ہی کئی پاسپورٹ مراکش کی آزاد ی کی جنگ لڑنے والے لبریشن آرمی کے متعدد افسران کو جاری کیے گئے اور ان میں سے اکثر مہمات کی نگرانی آغا شاہی ایونیو نے کی جو مختلف ادوار میں امریکا پاکستانی سفارتخانے اور یو این میں تعینات رہے۔ آغا شاہی پاکستان کے 13ویں وزیر خارجہ تھے جنہوں نے 1967سے 1972تک 4سال سے زائد عرصے تک پوری دنیا میں پاکستان کی نمائندگی کی اور فیلڈ مارشل ایوب خان، یحی خان اورذالفقار علی بھٹو کے ساتھ کام کیا۔
خاموش طبع سلطان محمد خان جن کی سفارتکاری نے دو بڑی طاقتوں کومل بیٹھنے کا موقع فراہم کیا
جولائی 1971میں پاکستان کی سفارتی ٹیم کی بچھائے ہوئے جال پر چل کر ہنری کسنجر نے بیجنگ تک رسائی حاصل کی اور خاموش طبع سلطان محمد خان کی سفارتکاری نے دو بڑی طاقتوں کومل بیٹھنے کا موقع فراہم کیا۔ سلطان محمد خان پاکستان کے ایک ممتاز سفارت کار تھے جنہوں نے امریکا، چین، کینیڈا اور جاپان میں پاکستان کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں اور 1971 میں سیکرٹری خارجہ کے عہدے پر فائز رہے۔ ان کے بطور سیکرٹری خارجہ ہوتے ہوئے پاکستان کی سفارتی تاریخ کا یہ نادر ترین واقع پیش آیا۔ اس وقت کے صدر یحیٰ خان نے اس نازک ترین سفارتی آپریشن کے لیے جن 2لوگوں پر بھرپور اعتماد کیا اور وہ اس پر پورا اترے ان میں ایک سلطان محمد خان تھے اور دوسرے آغاز ہلالی تھے جوامریکا میں پاکستان کے سفیر کے طور پر خدمات سر انجام دے رہے تھے۔
پاکستان کے انڈیا کے ساتھ معاملات ملکی تاریخ کا وہ گہرا گھاؤ ہیں جس کی پاتال میں بد اعتمادی، سازشیں، بیرونی عوامل، دوسرے فریق کی بزدلی اور اندورنی سیاست جیسی دستیوں آلائشیں موجود ہیں۔ یہ وہ بھاری پتھر ہے جو پاکستان کے پاؤں کی زنجیر بنا ہوا ہے مگر یہ معمہ حل ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ ماضی قریب اور بعید میں اس قضیے کے حل کے لیے درجنوں کوششیں ہوئیں مگر جنرل پرویز مشرف کے دور میں وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی قیادت میں پاکستان اس سنگین ترین مسئلے کے حل کے بالکل قریب پہنچ گیا تھا مگر پھر وہ آلائشیں اس راستے میں رکاوٹ بن گئیں۔اس سارے عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان تندو تیز سفارتکاری کی روئیداد خود خورشید محمود قصوری اپنی کتاب Neither a Hawk Nor a Dove میں رقم کر چکے ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














