میانمار کے صدر من آنگ ہلینگ نے نوبیل انعام یافتہ معزول رہنما آنگ سان سو چی کی قید میں کمی کردی ہے۔
یہ فیصلہ نئے صدر کی جانب سے دی گئی عام معافی کا حصہ ہے، جنہوں نے 5 سال قبل فوجی بغاوت کے ذریعے 80 سالہ رہنما کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔
80 سالہ آنگ سان سوچی 27 سال قید کی سزا کاٹ رہی تھیں، جو متعدد الزامات پر مشتمل تھی۔ ان کے حامیوں کے مطابق یہ الزامات سیاسی نوعیت کے تھے.
یہ بھی پڑھیں: انڈونیشیا میں میانمار کے صدر کے خلاف نسل کشی کا مقدمہ دائر
جن میں بغاوت پر اکسانا، بدعنوانی، انتخابی دھاندلی اور ریاستی راز افشا کرنے جیسے مقدمات شامل تھے، جن کا مقصد انہیں سیاسی میدان سے دور رکھنا تھا۔
نوبیل امن انعام یافتہ رہنما کے وکیل کے مطابق ان کی سزا کا تقریباً چھٹا حصہ معاف کیا گیا ہے۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ نوبیل امن انعام یافتہ رہنما کو باقی سزا گھر میں نظر بندی کے تحت کاٹنے کی اجازت دی جائے گی یا نہیں۔
Myanmar cuts ex-leader Aung San Suu Kyi's sentence, frees former president https://t.co/3wOiwqXpUP https://t.co/3wOiwqXpUP
— Reuters (@Reuters) April 17, 2026
آنگ سان سو چی نے ان الزامات کو لغو قرار دیا تھا۔ طویل عدالتی کارروائیوں کے اختتام کے بعد سے وہ عوامی سطح پر نظر نہیں آئیں اور ان کی موجودہ جگہ بھی نامعلوم ہے۔
اس سے قبل سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ صدر من آنگ ہلینگ نے 4,335 قیدیوں کے لیے عام معافی کی منظوری دی ہے، جو گزشتہ 6 ماہ کے دوران تیسری بار ایسا اقدام ہے۔
میانمار میں عموماً یومِ آزادی یعنی جنوری اور نئے سال یعنی اپریل کے موقع پر قیدیوں کو معاف کیا جاتا ہے۔
رہا ہونے والوں میں سو چی کے قریبی ساتھی ون منٹ بھی شامل ہیں، جو 2018 سے 2021 کی فوجی بغاوت تک صدر رہے۔
مزید پڑھیں: بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں روہنگیا کیس، میانمار کٹہرے میں
سرکاری نشریاتی ادارے ایم آر ٹی وی کے مطابق انہیں مخصوص شرائط کے تحت معافی اور باقی سزا میں کمی دی گئی ہے۔
فوجی حمایت یافتہ حکومت کے ترجمان نے فوری طور پر اس حوالے سے کوئی ردعمل نہیں دیا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ان اقدامات کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ آنگ سان سوچی سمیت تمام من مانی طور پر حراست میں لیے گئے افراد کی فوری رہائی کے لیے بامعنی کوششیں ضروری ہیں۔
مزید پڑھیں: چین نے میانمار فراڈ اسکیمز سے منسلک 11 افراد کو موت کی سزا دے دی
ان کے ترجمان کے مطابق پائیدار سیاسی حل کے لیے فوری طور پر تشدد کا خاتمہ اور جامع مکالمے کے لیے سنجیدہ عزم ناگزیر ہے، تاکہ میانمار کے عوام اپنے سیاسی حقوق آزادانہ اور پرامن طریقے سے استعمال کر سکیں۔
یاد رہے کہ 2021 میں من آنگ ہلینگ کی قیادت میں ہونے والی فوجی بغاوت کے نتیجے میں سوچی اور ون منٹ کی منتخب حکومت کا خاتمہ ہوا، جس کے بعد ملک خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ گیا، جو تاحال جاری ہے۔











