اسلام آباد: بیل گاڑی ہمیشہ سے ہی دیہی علاقوں کے لوگوں کی نقل و حرکت کا اہم ذریعہ رہی ہے، اس کے ڈھانچے میں 2 بڑے یا 4 چھوٹے پہے ہوتے ہیں، اور اس کے آگے بندھے 2 بیل اسے کھینچ کر دشوار گزار علاقوں سے گزر کر کئی من وزنی سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں۔
لیکن اگر اسی گاڑی کو کوئی انسان اپنے زورِ بازو سے کھیچ رہا ہو تو فورا ہمارے ذہن میں ایک ایسے دور کے انسان کا تصور ابھرے گا جس کا تعلق پتھر کے دور سے ہے۔ جب قدیم زمانے کے انسان نے بھاری بھرکم چیز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لئے لکڑی کے کچھ گول تختے لگائے ہوں گے اور اسے کھینچ کرایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا ہو گا۔
تاریخ کے مطابق مصریوں نے اس پہیے کا استعمال کر کے ایک پہیہ گاڑی بنائی اور بعد میں اہل یونان اور اہل روم نے مصریوں کی اسی پہیہ گاڑی کی نقل کر کے رتھ ایجاد کیا۔ جس کے ذریعے بیلوں کو کھینچا جاتا اور حل چلایا جاتا۔ یہی پہیہ گھوڑوں کے ساتھ جوڑ کر جنگوں میں استعمال کیے جانے لگا۔
اس کے بعد رومیوں نے 4 پائیوں والی بگی بھی تیار کی، جس کا اگلا دھڑا حرکت کرتا تھا، جس سے بگی کو موڑنا بہت آسان ہو گیا اور اسی اصلاح کی بدولت یہ گاڑی یا بگی اتنی مقبول ہوئی کہ ساری دنیا میں اس کو نقل و حمل کے لیے کام میں لایا جاتا تھا۔
لیکن آج کے ترقی یافتہ دور میں جب ہمیں زندگی کی ہر سہولت میسر ہے اور سب سے بڑی سہولت پٹرول یا ڈیزل سے چلنے والی گاڑیاں ہیں، جو نہایت ہی کم وقت اور محنت سے چلتی ہیں، شہر کے گنجان آباد اور ترقی یافتہ علاقوں میں بیل یا گدھا گاڑی پر بھاری بھرکم سامان کو انسان کھینچ رہے ہوں تو یقینا یہ ایک حیران کن عمل ہو گا جو ان غریب مزدوروں کی بے بسی اور غربت کی کہانی بیان کرتا ہے۔
راولپنڈی کا ایک گنجان آباد علاقہ ہے جس کا نام ’سلطان کا کھوہ‘ہے۔ اپنی تاریخی اہمیت کے علاوہ یہ علاقہ فرنیچر کی مارکیٹ کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔
فرنیچر کی اس مارکیٹ میں تیار کرنے سے فروخت تک سارا کام کیا جاتا ہے۔کچھ دکانوں پر لکڑی کی کٹائی کا کام ہو رہا ہوتا ہے تو کچھ پر اس کو تراش کر فرنیچر کی شکل دی جا رہی ہوتی ہے، پھر اس سامان کو لاد کر پالش والی دکانوں پر بھیجا جاتا ہے، جہاں ان کو پالش کر کے مکمل کیا جاتا ہے۔
آخر کار تمام مراحل مکمل ہونے پر اس فرنیچر کو فروخت کے لئے اسی مارکیٹ میں واقع بڑی بڑی دکانوں یا شورومز پر بھیچنے کے لئے سجایا جاتا ہے اور اس سارے عمل میں سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں پہیہ گاڑی اور کھنچنے والے سستے مزدور، جن کی گاڑی پر مہنگا پٹرول یا ڈیزل نہیں لگتا، لیکن اس گاڑی کو کھینچ کھینچ کر ان کے ہاتھوں کی ہتھلیاں سرخ ہو جاتی ہیں۔
رستم خان بھی ایک ایسے ہی مزدور ہیں، جو صبح سے اپنی پہیہ گاڑی کھینچ رہے تھے، جس کی وجہ سے نہ صرف ان کے ہاتھ سرخ ہو چکے تھے، بلکہ ہمت بھی جواب دے چکی تھی۔
وزن اٹھانا انتہائی محنت طلب کام ہےاور تھکن کے اثاران کے چہرے پر نمایاں تھے۔ انھوں نے اپنی پہیہ گاڑی پر سامان لادتے ہوئے بتایا کہ ان کی عمر بیت گئی اس بازار میں یہ کام کرتے کرتے۔
ایک سوال پر کہ ان کو اس کام کی کیا اجرت ملے گی؟ انہوں نے بتایا کہ 200 روپے دئیے جایئں گے۔ جب پوچھا گیا کہ اتنے کم پیسوں میں کیوں کام کر رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’جب کاربار نہیں ہوتا تو ان کو بھی کام نہیں ملتا، کسی کسی دن کچھ بہتر پیسے بن جاتے ہیں، یہاں مزدور اتنے زیادہ ہیں کہ یہ پھیرا نہ لے کے گئے تو دکاندار کسی اور کو بلا لے گا۔‘
رستم خان جن کا تعلق پشاور سے ہے، کئی برس قبل شہر میں کام کرنے آئے تھے، دن بدن بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سےان کے کمائے گئے پیسوں کا ذیادہ حصہ دوسرے مزدوروں کی طرح کھانے پینے اور رہائش کے کرائے میں صرف ہو جاتا ہے۔بے بسی ان کی آنکھوں سے عیاں تھی کہ ان سے ان کی ایک تصویر لینے کی اجازت لینا بھی بہت مشکل لگ رہا تھا۔
دوسری جانب دکانداروں کا کہنا تھا کہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے وہ پہیہ گاڑی چلانے والے مزدوروں سے کام لیتے ہیں جو گاڑیوں کی نسبت مناسب قیمت میں کام کر دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اس مارکیٹ میں سامان اٹھانے والی بڑی گاڑیاں بھی ہیں، لیکن وہ سامان کو دور دراز فروخت کے بعد لے جانے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔
یکم مئی آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں مزدوروں کا دن منایا جا رہا ہے۔ یہ واحد دن ہے جس دن دنیا کی اکثریت بلا تفریق مذہب، رنگ و نسل اور ملک مزدوروں کی یاد میں چھٹی کرتے ہیں، لیکن مزدور یہ چھٹی نہیں کرنا چاہتے۔
ایک چھٹی کا مطلب ہے اس دن دھاڑی نہیں ملے گی اور وہ اور ان سے جڑے خاندان کیسے گزارا کریں گے۔ ایسی صورت میں جب کئی کئی دن ان کو کام نہیں ملتا تو یہ چھٹی ان کے بو جھ کو بڑھا دیتی ہے۔
پاکستان میں لیبر قوانین کے تحت فیکٹریوں اور اداروں میں کام کرنے والے مزدوروں کی رجسٹریشن اور ان کا ریکارڈ لیبر ڈیپارٹمنٹ کے پاس ہونا ضروری ہے، تاکہ ان کے سوشل سیکیورٹی اور ورکرز ویلفیئر فنڈ کے فوائد یقینی بنائے جا سکیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس دن کے موقع پر مزدوروں کی بڑی تعداد جو اب تک رجسٹرڈ نہیں ہے، ان کو رجسٹر کیا جائے اور کم از کم اجرت کا ازسر نو جائزہ لے کر اس کو مہنگائی کے تناسب سے بڑھایا جائے۔
ای او بی آئی (Employees’ Old-Age Benefits Institution) میں رجسٹرڈ مزدوروں کی تعداد 18 لاکھ کے قریب ہے، لیبر فورس سروے جس کے نتائج نومبر 2025 میں جاری کیے گئے کے مطابق پاکستان کی لیبر فورس 7 کروڑ 72 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان میں تقریبا 80 لاکھ افراد بےروزگار ہیں۔
سروے کے مطابق پچھلے 4 سالوں میں 62 فیصد اضافے کے ساتھ اوسط ماہانہ اجرت 39،042 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














