امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت شروع کیے گئے امن عمل کا احترام کرنا ہوگا۔ انہوں نے بعض اسرائیلی حکام کی جانب سے اس معاہدے پر غیر معمولی بے چینی اور شدید ردعمل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: دستخط شدہ ایران، امریکا ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے شق وار مندرجات سامنے آگئے
یہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور ثالث پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان طے پائی تھی۔
وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران جے ڈی وینس نے کہا کہ بعض اسرائیلی سیاستدانوں کی جانب سے اس معاہدے پر تنقید کی جا رہی ہے جن کا مؤقف ہے کہ یہ معاہدہ ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق خدشات کو مکمل طور پر حل نہیں کرتا اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو محدود کر سکتا ہے۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ اسرائیل کو ایران کے ساتھ جاری امن عمل کا احترام کرنا ہوگا کیونکہ یہ معاہدہ خود ان کے لیے فائدہ مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیروت میں ایسے حملے جن میں شہری جانیں ضائع ہوتی ہیں ناقابل قبول ہیں۔
وینس کے مطابق اسلام آباد معاہدہ حقیقی نتائج دے رہا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں اضافہ ہوا ہے توانائی کی قیمتوں میں کمی آئی ہے اور تہران کی جانب سے ابتدائی سطح پر معاہدے کی پاسداری کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ رات آبنائے ہرمز سے 12.5 ملین بیرل تیل گزرا جو حالیہ تنازع کے آغاز کے بعد سب سے زیادہ سطح ہے۔
ان کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مسلسل کم ہو رہی ہیں اور گیس کی قیمتیں بھی 4 ڈالر فی گیلن سے نیچے آگئی ہیں۔
امریکی نائب صدر نے مزید کہا کہ ایران اپنے معاہدہ جاتی وعدوں کی پاسداری کر رہا ہے اور دو راتوں سے کسی بحری جہاز پر حملہ نہیں کیا گیا۔
Vice President JD Vance Briefs Members of the Media, Jun. 18, 2026 https://t.co/XxhTlbCrfC
— The White House (@WhiteHouse) June 18, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے جبکہ یورینیم افزودگی کی صلاحیت اور اس سے متعلق تنصیبات بھی ناکارہ ہو چکی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایران کی روایتی عسکری صلاحیت بھی نمایاں طور پر کمزور ہوئی ہے۔
معاہدے کے تحت ایران کے لیے مجوزہ 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو فنڈ سے متعلق سوال پر وینس نے واضح کیا کہ امریکا کوئی براہِ راست مالی امداد فراہم نہیں کرے گا اور ایران کو فوائد صرف اسی صورت میں ملیں گے جب وہ مکمل طور پر معاہدے پر عمل کرے گا۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد مفاہمتی یادداشت جاری، امریکا اور ایران 60 روز میں حتمی معاہدے پر مذاکرات کریں گے
انہوں نے کہا کہ اگر ایران اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا تو اسے کسی قسم کے فوائد حاصل نہیں ہوں گے۔
امریکی نائب صدر نے مزید کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان 60 روزہ مذاکراتی عمل باضابطہ طور پر شروع ہو چکا ہے اور یہ معاہدہ ایک روز قبل نافذ العمل ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا سفارتی دباؤ ایران کے رویے میں تبدیلی لا سکتا ہے یا نہیں۔














