امریکا نے اپنی فضائی حدود میں مٹرگشتی کرنے والے ایک چینی غبارہ کو جاسوس قرار دے کر جنوبی کیرولائنا کے ساحل پر مار گرایا تاہم چین کا کہنا ہے کہ وہ موسم کی صورتحال جانچنے والا غبارہ تھا جو راستہ بھٹک کر امریکا پہنچ گیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق پینٹاگون کے حکام نے بتایا کہ چند دن قبل امریکی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد سے اس غبارہ پر نظر رکھی جارہی تھی اور اب اسے لڑاکا طیارہ نے مار گرایا ہے۔
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ جاسوس غبارہ چین کی جانب سے امریکی فضائی حدود کی ناقابل قبول خلاف ورزی ہے اور گزشتہ کئی برسوں سے غباروں کی اس طرح کی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا جارہا ہے۔
امریکی صدر نے چینی جاسوس غبارہ مار گرانے پر امریکی فوج کو مبارکباد پیش کی جبکہ امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ کارروائی دانستہ اور قانون کے مطابق کی گئی ہے۔
جمعہ کے روز چین نے غبارہ کی ملکیت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا کام موسم کی صورتحال جانچنا تھا جو اپنے راستے سے بھٹک گیا تھا۔ چین نے امریکی فضائی حدود میں غبارہ کے غیر ارادی داخلہ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر افسوس کا اظہار بھی کیا تھا۔
قبل ازیں امریکا نے چینی غبارے کے معاملے پر سکیورٹی خدشات کے پیش نظر جنوبی کیرولائنا کے 3 ائیرپورٹس پر طیاروں کی آمد و رفت روک دی تھی۔ اس سے قبل جب وہ غبارہ یکم فروری کو جب ریاست مونٹانا سے گزرا تھا تو بلنگ لوگن ائیرپورٹ سے پروازوں کو احتیاطاً معطل کردیا گیا تھا۔
امریکی محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ وہ امریکا کی فضا میں پرواز کرنے والے مشتبہ چینی جاسوس غبارہ کو ٹریک کررہا تھا مگر حفاظتی وجوہات کے باعث اسے نہ گرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس وقت امریکی حکام نے یہ بھی کہا تھا کہ غبارہ اتنی بلندی پر سفر کررہا ہے جو فضائی ٹریفک کی گزرگاہ سے بہت اوپر ہے جبکہ اس سے زمین پر موجود افراد کے لیے کوئی خطرہ لاحق نہیں۔
چینی وزارت خارجہ کی ایک ترجمان نے پریس بریفننگ کے دوران یہ کہا تھا کہ حکام کی جانب سے اس معاملہ پر تحقیقات کی جارہی ہے اور حقائق واضح ہونے تک کوئی فیصلہ کرنے سے گریز کیا جائے۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ چین ایک ذمہ دار ملک ہے اور ہم بین الاقوامی قوانین کے مطابق اقدامات کرتے ہیں، ہمارا دیگر ممالک کی خودمختاری اور فضائی حدود کی خلاف ورزی کا کوئی ارادہ نہیں۔














