وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سرکاری اسپتال میں آگ لگنے سے 14 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی۔
پمز نرسری سانحے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق اگر ابتدائی طور پر آنے والی دونوں نرسز بچوں کو بچانے کی کوشش کرتیں تو ممکنہ طور پر مزید بچوں کو بچایا جاسکتا تھا۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ ابتدائی طور پر آنے والی 2 نرسز کے سامنے صورتحال موجود تھی، تاہم بچوں کو نکالنے کی مؤثر کوشش نظر نہیں آئی۔
سی سی ٹی وی کے مطابق اگر پہلی دو نرسز کوشش کرتیں تو شاید زیادہ بچوں کو بچایا جاسکتا،بعد میں آنے والی نرس نے ایک بچے کو نکالا۔
قوم کی ہیرو بیٹی۔۔
پمز کی ہیرو نرس رضیہ نورین مسیحی مذہب سے تعلق رکھتی ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق وہ بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق کی طرح جلتی آگ… pic.twitter.com/Lp2WsYL7TN— Shehroz Azhar (@shehrozazhar1) August 29, 2026
بعد ازاں آنے والی ایک نرس نے بچوں کو بچانے کے لیے کارروائی کی اور جلتی ہوئی نرسری سے ایک نومولود بچے کو باہر نکال لیا۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں بعد میں آنے والی نرس کی جانب سے اپنی جان خطرے میں ڈال کر نومولود کو متاثرہ نرسری سے باہر نکالنے کی کوشش واضح طور پر دیکھی گئی۔
فوٹیج کے مطابق ابتدائی لمحات میں بروقت اور مؤثر کوشش کی جاتی تو مزید بچوں کو محفوظ نکالنے کا امکان موجود تھا، تاہم بعد میں آنے والی نرس نے ایک نومولود کو بحفاظت باہر نکالنے میں کامیابی حاصل کی۔
واضح رہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پمز آتشزدگی کے واقعے میں اپنی جان کی پروا کیے بغیر ایک بچے کو بچانے والی نرس رضیہ نورین کے لیے ستارہ خدمت اور ایک کروڑ روپے کے انعام کی منظوری دے دی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پمز آتشزدگی کے واقعے میں اپنی جان کی پروا کیے بغیر ایک بچے کو بچانے والی نرس رضیہ نورین کے لیے ستارہ خدمت اور ایک کروڑ روپے کے انعام کی منظوری دے دی۔
یاد رہے کہ 26 اگست کو اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے نرسری وارڈ میں آتشزدگی کے المناک واقعے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے تھے، جبکہ ایک بچے کو زندہ بچایا گیا تھا۔ واقعے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے فوری تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے غفلت کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی تھی۔
وزیراعظم کی ہدایت پر پمز آتشزدگی واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی، جس نے واقعے کی وجوہات، ذمہ داروں کے تعین، اسپتال کے حفاظتی انتظامات اور ریسکیو کارروائی سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔
اب وزیراعظم شہباز شریف نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 افسران کو معطل کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف فوجداری کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔













