سندھ طاس معاہدہ برقرار، بھارت کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی قرار، پاکستان کا خیرمقدم

منگل 1 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت پاکستان نے دی ہیگ میں قائم ثالثی عدالت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے سے متعلق جاری کردہ فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت نے متفقہ طور پر بھارت کی جانب سے معاہدے کو التوا میں رکھنے کے اقدام کو ناقابلِ قبول قرار دے دیا ہے۔

وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق دی ہیگ کی عدالت برائے ثالثی نے سندھ طاس تنازع پر فریقین کو سندھ طاس معاہدے کی حیثیت سے متعلق اپنا فیصلہ اور عبوری اقدامات سے متعلق حکم جاری کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ معطل نہیں کیا جا سکتا‘، پاکستان کے مؤقف کو عالمی پذیرائی

تاہم تفصیلی فیصلہ اور حکم ابھی عدالت کی جانب سے شائع نہیں کیے گئے، جن کی آئندہ ایک ہفتے کے دوران اشاعت متوقع ہے۔

عدالت کے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق عدالت نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے کا فیصلہ معاہدے یا قابلِ اطلاق بین الاقوامی قانون کے تحت قابلِ قبول نہیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ معاہدہ نہ تو ختم ہوا ہے اور نہ ہی اس کا نفاذ معطل ہوا ہے بلکہ یہ بدستور مکمل طور پر نافذالعمل ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا پابند ہے اور اسے ان پر عملدرآمد کرنا ہوگا، جن میں مغربی دریاؤں پر پن بجلی کے منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق ذمہ داریاں اور تنازعات کے حل کا طریقہ کار بھی شامل ہے۔

پاکستان نے عدالت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، وزارت اطلاعات کے مطابق عدالت نے متفقہ طور پر بھارت کو ریٹل ہائیڈرو الیکٹرک پاور منصوبے کے ڈیم کی دیوار اور پاور انٹیک اسٹرکچر کو مقررہ سطح سے اوپر کنکریٹ کرنے سے روکنے کے لیے عبوری اقدامات بھی عائد کیے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’بھارتی رویہ جنوبی ایشیا کو تباہی کی طرف دھکیل سکتا ہے‘، انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز

یہ پابندیاں نیوٹرل ایکسپرٹ کے حتمی فیصلے کے 90 روز بعد تک برقرار رہیں گی، جبکہ نیوٹرل ایکسپرٹ کا حتمی فیصلہ جولائی 2027 میں متوقع ہے۔

عدالت نے تعمیراتی شیڈول سے متعلق رپورٹنگ کی شرط بھی عائد کی ہے جو نیوٹرل ایکسپرٹ کے حتمی فیصلے کے کچھ عرصے بعد تک نافذ رہے گی۔

حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ تفصیلی فیصلہ اور عبوری حکم شائع ہونے کے بعد ان کا بغور جائزہ لے گی اور اس امر پر غور کرے گی کہ یہ فیصلے دونوں ممالک کے درمیان سندھ طاس معاہدے کے تحت دوبارہ مذاکرات اور رابطے کی راہ ہموار کرنے میں کس طرح معاون ثابت ہوسکتے ہیں، تاکہ دونوں فریق معاہدے کے تحت اپنی پابند قانونی ذمہ داریوں کے مطابق آگے بڑھ سکیں۔

دریں اثنا وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ اللہ کا شکر ہے پاکستان سرخرو ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف پہلے دن سے واضح تھا جس کی اب ثالثی عدالت نے بھی توثیق کردی ہے۔

عطااللہ تارڑ نے مزید کہا کہ بھارت کے لیے ایک کے بعد ایک شرمندگی سامنے آرہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp