حکومت پاکستان نے دی ہیگ میں قائم ثالثی عدالت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے سے متعلق جاری کردہ فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت نے متفقہ طور پر بھارت کی جانب سے معاہدے کو التوا میں رکھنے کے اقدام کو ناقابلِ قبول قرار دے دیا ہے۔
وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق دی ہیگ کی عدالت برائے ثالثی نے سندھ طاس تنازع پر فریقین کو سندھ طاس معاہدے کی حیثیت سے متعلق اپنا فیصلہ اور عبوری اقدامات سے متعلق حکم جاری کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ معطل نہیں کیا جا سکتا‘، پاکستان کے مؤقف کو عالمی پذیرائی
تاہم تفصیلی فیصلہ اور حکم ابھی عدالت کی جانب سے شائع نہیں کیے گئے، جن کی آئندہ ایک ہفتے کے دوران اشاعت متوقع ہے۔
عدالت کے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق عدالت نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے کا فیصلہ معاہدے یا قابلِ اطلاق بین الاقوامی قانون کے تحت قابلِ قبول نہیں۔
*Ministry of Information and Broadcasting, Government of Pakistan*
*Press Release*
The Government of Pakistan takes note of the Press Release issued a short time ago by the Court of Arbitration in The Hague in the Indus Waters dispute noting that it has today issued to the…
— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) August 31, 2026
عدالت نے واضح کیا کہ معاہدہ نہ تو ختم ہوا ہے اور نہ ہی اس کا نفاذ معطل ہوا ہے بلکہ یہ بدستور مکمل طور پر نافذالعمل ہے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا پابند ہے اور اسے ان پر عملدرآمد کرنا ہوگا، جن میں مغربی دریاؤں پر پن بجلی کے منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق ذمہ داریاں اور تنازعات کے حل کا طریقہ کار بھی شامل ہے۔
پاکستان نے عدالت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، وزارت اطلاعات کے مطابق عدالت نے متفقہ طور پر بھارت کو ریٹل ہائیڈرو الیکٹرک پاور منصوبے کے ڈیم کی دیوار اور پاور انٹیک اسٹرکچر کو مقررہ سطح سے اوپر کنکریٹ کرنے سے روکنے کے لیے عبوری اقدامات بھی عائد کیے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’بھارتی رویہ جنوبی ایشیا کو تباہی کی طرف دھکیل سکتا ہے‘، انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز
یہ پابندیاں نیوٹرل ایکسپرٹ کے حتمی فیصلے کے 90 روز بعد تک برقرار رہیں گی، جبکہ نیوٹرل ایکسپرٹ کا حتمی فیصلہ جولائی 2027 میں متوقع ہے۔
عدالت نے تعمیراتی شیڈول سے متعلق رپورٹنگ کی شرط بھی عائد کی ہے جو نیوٹرل ایکسپرٹ کے حتمی فیصلے کے کچھ عرصے بعد تک نافذ رہے گی۔
حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ تفصیلی فیصلہ اور عبوری حکم شائع ہونے کے بعد ان کا بغور جائزہ لے گی اور اس امر پر غور کرے گی کہ یہ فیصلے دونوں ممالک کے درمیان سندھ طاس معاہدے کے تحت دوبارہ مذاکرات اور رابطے کی راہ ہموار کرنے میں کس طرح معاون ثابت ہوسکتے ہیں، تاکہ دونوں فریق معاہدے کے تحت اپنی پابند قانونی ذمہ داریوں کے مطابق آگے بڑھ سکیں۔
Alhamdulillah
Pakistan stands vindicated, our stance on Indus Waters Treaty has been clear from day one and it has now been validated by the Court of Arbitration as well. Embarrassment after embarrassment for India https://t.co/ttwUEXWFWT
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) September 1, 2026
دریں اثنا وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ اللہ کا شکر ہے پاکستان سرخرو ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف پہلے دن سے واضح تھا جس کی اب ثالثی عدالت نے بھی توثیق کردی ہے۔
عطااللہ تارڑ نے مزید کہا کہ بھارت کے لیے ایک کے بعد ایک شرمندگی سامنے آرہی ہے۔














