سلام سسٹر رضیہ نورین!

پیر 31 اگست 2026
author image

عمار مسعود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سلام ہے مسیحی برادری کی نرس رضیہ نورین کو، جس نے پمز ہسپتال کے نوزائیدہ بچوں کے،  آئی سی یو یونٹ  کی، جلتی آگ میں جان پر کھیل کر، ایک بچے کی جان بچا لی۔ سلام ہے رضیہ نورین پر، جس نے بچے کی جان بچاتے ہوئے نہ بچے کے والدین کے شناختی کارڈ کا پوچھا، نہ ان کی قومیت پر سوال کیا، نہ صوبائیت کا نعرہ لگایا، نہ ان سے کلمے سنے، نہ فرقوں کی بحث میں پڑیں، نہ مسلکوں کا قصہ چھیڑا، نہ ان کی رنگت کو تنازعہ بنایا، نہ  نسل کو پرکھا نہ ذات پات  کا قصہ چھیڑا۔ سلام ہے رضیہ نورین پر، اس نے وہ کیا جس کا درس اس نے سیکھا تھا۔ یہ درس صرف مسیحیت میں نہیں، ہر مذہب کی اساس ہے۔ اس کا نام انسانیت ہے۔ یہ ہر اجتماعی سوچ کی بنیاد ہے۔

ہم جس سماج میں رہتے ہیں، وہاں اب نیکی تقسیم ہو چکی ہے۔ فلاح کے کاموں میں بھی لوگ دھڑوں اور فرقوں میں بٹ چکے ہیں۔ ہر کوئی اپنے موقف کو درست منوانے میں اس شدت سے مصروف ہے کہ دوسرے کی اچھائیوں پر دھیان دینے کی کسی کو فرصت ہی نہیں۔

بات چند لمحوں کی تھی، اسی میں فیصلہ ہونا تھا۔ کس نے بچنا ہے؟ کس نے بچانا ہے؟ کس کو خدا نے عزت دینی ہے؟ کس کو سانسیں عطا کرنی ہیں؟ سسٹر رضیہ نورین نے اچھا کیا، ان چند لمحات میں کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوئیں۔ کسی اختلافی نعرے، نظریے اور نفرت کا خیال اپنے نزدیک نہیں آنے دیا۔ چند سیکنڈز میں انہوں نے اپنے اوسان بحال کیے، جلتی آگ میں کودیں، ایک ننھی سی زندگی کو سینے سے لگایا اور وہ کیا جو کارنامہ بن گیا۔ جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔ جس کا دنیا بھر میں ذکر ہے۔

اپنے اردگرد نگاہ ڈالیں تو سمجھ نہیں آتی کہ اس سماج میں کیا ہو رہا ہے؟ کیوں ہو رہا ہے؟ اس سماج میں بچیوں کی پسند کی شادی پر لوگوں کی غیرت جاگ اٹھتی ہے۔ لڑکیوں کو تعلیم دیتے اب بھی بہت سوں کو موت پڑتی ہے۔ طالبانی سوچ کے تحت گرلز اسکولز مسمار کر دیے جاتے ہیں۔ خواتین کو زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے دور رکھنا کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ جہالت اس انتہا پر ہے کہ فی میل ٹک ٹاکرز کے قتل کی خبر عام ہے۔ ہم نے دیکھا کہ کہیں تو  سسرال والے بہو کی جان کے دشمن بن جاتے ہیں اور اگر ان سے لڑکیاں بچ جائیں تو گھر والے ہی غیرت کے نام پر زندہ کو آگ لگا دیتے ہیں۔ خواتین پر ملازمت کے دروازے  کم ہی کھلتے ہیں اور معاشی معاملات میں بھی ان کو کم تر ہی سمجھا  جاتا ہے۔

پھر یوں ہوتا ہے کہ اس ظالم سماج میں رضیہ نورین جیسا ستارہ چمکتا ہے۔ چند لمحوں میں اپنی ذات کا احساس دلاتا ہے۔ ساری منفیت کو اثبات میں بدلتا ہے۔ سارے مظالم کو بھلاتا ہے۔ اقلیتوں کے غموں کو مٹاتا ہے۔ صنفی تفاوت کو دفن کر دیتا ہے۔

سوچیں تو رضیہ نورین کے اس دلیرانہ اقدام نے کس کس کو شکست دی؟ رضیہ نورین نے ہر اس شخص کو شکست دی جو صوبائیت کی آگ لگاتا ہے۔ ہر اس نظریے کو شکست دی جو صنفی امتیاز کا سبق دیتا ہے۔ ہر اس سوچ کو شکست دی جو اقلیتوں کے حقوق سلب کرنے پر موقوف ہوتی ہے۔ ہر اس فرد کو شکست دی جو انسانیت کو دھڑوں میں تقسیم کرتا ہے۔

پمز کا سانحہ بہت اذیت ناک ہے۔ ہم بہت چاہتے ہیں دنیا میں ہمارا نام ہماری عسکری کامیابیوں کی وجہ سے معروف ہو، ہم بہت چاہتے ہیں دنیا ہماری بین الاقوامی ثالثی کوششوں کے حوالے سے ہمیں جانے۔ لیکن جب بھی ہم ابتری کی تصویر سے نکلنا چاہتے ہیں، کوئی خوفناک حقیقت ہمیں درپیش ہوتی ہے۔ کبھی بلوچستان میں بس میں سے نکال کر شناختی کارڈ دیکھ کر غیر بلوچوں کو گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے۔ کبھی سرحد پار سے آنے والے دہشتگرد درجنوں کو شہید کر دیتے ہیں۔ کبھی کوئی دشمن ہمارے نام کو بٹہ لگانے آ جاتا ہے۔ دنیا اس موقعے پر ہماری سب کامرانیوں کو بھلا دیتی ہے۔ انہیں صرف اختلاف، انحراف اور استبداد یاد رہتا ہے۔

ایسے میں اثبات کا اشارہ بن کر رضیہ نورین گونجتی ہے۔ سب نفرتیں دم توڑ جاتی ہیں۔ سب کدورتیں ختم ہو جاتی ہیں۔ سب اختلاف کہیں دور رہ جاتے ہیں اور سوائے فخر کے کوئی اور کیفیت ہمارے پاس نہیں ہوتی۔

رضیہ نورین نے صرف نرسز کا نام روشن نہیں کیا۔ صرف مسیحی برادری کی انسان دوستی کا علم بلند نہیں کیا، انہوں نے پاکستان سے محبت کا انمٹ ثبوت دیا۔ پاکستان کے پرچم کو سرفراز کیا۔

وہ ساری دنیا جو پاکستان کی کامرانیوں سے خائف ہے۔ وہ سارے یوٹیوبر جو پاکستان مخالف خبر پر گِدھوں کی طرح لپکتے ہیں۔ وہ سارے تجزیہ کار جو اس ملک کے لوگوں کو اس ملک سے مایوس کرنے پر مامور ہیں۔ وہ سارے دانش ور جو قوم پر لعنتیں بھیجنے سے گفتگو کا آغاز کرتے ہیں۔ ان کی زبانوں کو اب قفل لگ جائیں گے۔ ان ذہنوں کو زنگ لگ جائے گا۔ کیونکہ پاکستان سے کسی کی بہادری، دلیری کی داستان ان کو قبول نہیں۔ کیونکہ اس کے نتیجے میں نہ ڈالر آتے ہیں، نہ ویوز ملتے ہیں۔

قائداعظم نے جو پاکستان بنایا تھا، اقبال نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا، یہ ملک جس مقصد کے لیے بنا تھا، یہ قوم جس نعرے پر متحد ہوئی تھی۔ یہ جھنڈا جن دو رنگوں سے سجا ہے۔ اس میں سفید رنگ کی ضامن رضیہ نورین ہے اور اس کی عزت، حرمت اور توقیر بڑھانے والے سبز رنگ ہم سب ہیں۔

یہی محبت کا، بے لوث قربانی کا مظہر پاکستان ہے۔ یہی مثبت سوچ اور انسانوں کے احساس کا نام پاکستان ہے۔ یہی خلوص اور خدمت کے جذبے میں گندھا ملک پاکستان ہے۔

رضیہ نورین فرد نہیں، اب ایک استعارہ ہیں اثبات کا۔ ہر اچھی بات کا۔ اس خطہ پاک سے عشق کا۔ اس پرچم کے رنگ کا۔ امید اور امنگ کا۔ اپنے پن کا۔ اس حسین چمن کا۔  ہمارے اپنے وطن کا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ملکہ الزبتھ دوم کو ناراض کردینے والے گوریلا آرٹسٹ ’ہیلچ‘ 34 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

اسکاٹش حکومت سے اسرائیل کے خلاف پابندیاں مکمل طور پر نافذ کرنے کا مطالبہ

نئے صوبوں کی مخالفت کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو سے اختلاف کررہے ہیں، مصطفیٰ کمال

لیونل میسی کا بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ترکیہ میں اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں، علاقائی سیکیورٹی اور دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال

ویڈیو

آبنائے ہرمز کے اعصابی مرکز لارک جزیرے پر امریکی حملہ، محدود کارروائی یا نئی جنگ کا آغاز؟

سرکاری و نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

پمز آتشزدگی: 1122 پر کال موصول ہوتے ہی ریسکیو فائر بریگیڈ کی گاڑی 6 منٹ میں اسپتال کیسے پہنچی؟

کالم / تجزیہ

پاکستان ہاکی کا زوال کیسے ختم ہوگا؟

قبض، گٹر اور انقلاب

اسپتال میں پیٹ نہیں، پورا نظام کٹا