بین الاقوامی مالیاتی جرائم پر نظر رکھنے والے ادارے فائنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) نے یورپی یونین کے رکن ملک کروشیا کو اپنی گرے لسٹ والے ان ممالک میں شامل کر دیا ہے، جہاں مالیاتی جرائم کے حوالے سے زیادہ نگرانی کی جارہی ہے۔
جمعہ کو فیٹف کی جانب سے اس ضمن میں اعلان کے بعد کروشیا یورپی یونین کا وہ واحد رکن ملک ہے جسے فیٹف کی گرے لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ کروشیا کے ساتھ ساتھ کیمرون اور ویتنام کو بھی گرے لسٹ میں شامل کیا ہے۔
فیٹف کی گرے لسٹ میں شمار کسی ملک کی معیشت کے لیے اچھا شگون نہیں سمجھا جاتا کیونکہ یہ قدم ان ممالک میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام میں خامیوں کے رد عمل کے طور پر اٹھایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ فیٹف کی گرے لسٹ میں متحدہ عرب امارات، پاناما اور مالی بھی پہلے سے شامل ہیں۔
فیٹفنے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا ہے کہ جب فیٹف کسی دائرہ اختیار کو بڑھتی ہوئی نگرانی کے تحت رکھتا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ مذکورہ ملک نے طے شدہ ٹائم فریم کے اندر اپنے مالیاتی نظام میں موجود تذویراتی خامیوں کو تیزی سے حل کرنے کے لیے ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنے کا عہد کیا ہے، جن کی نشاندہی کی گئی تھی۔
پیرس میں قائم فائنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے اس ہفتے اپنے باقاعدہ مکمل اجلاسوں میں سے ایک کا انعقاد کیا تھا۔ فیٹف ایک بین الحکومتی تنظیم ہے جو منی لانڈرنگ سمیت دہشت گردی کی مالی معاونت جیسے مالیاتی جرائم کیخلاف جنگ کے عالمی اصول و ضوابط طے کرنے کے بعد یہ جانچتی ہے کہ آیا رکن ممالک ان کا احترام کرتے ہیں یا نہیں۔
عرب ٹی وی چینل الجزیرہ کے مطابق چیئرمین فیٹف ٹی راجا کمار نے صحافیوں کو بتایا کہ کروشیا نے اپنے نظام میں رائج خرابیوں کو دور کرنے کی غرض سے ایک ایکشن پلان کا عہد کیا ہے۔ انہوں نے کروشیا پر زور دیا ہے کہ وہ اس منصوبے کا جتنا ممکن ہو جلد از جلد نفاذ کرے۔
مالیاتی جرائم کی نگرانی پر مامور فیٹف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کروشیا کے ایکشن پلان میں، دیگر چیزوں کے علاوہ، قانونی انتظامات سمیت قانون سے وابستہ افراد کے غلط استعمال اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں نقد رقم کے استعمال سے وابستہ خطرات کا اندازہ لگانا شامل ہے۔
گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں فیٹف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تمام دائرہ اختیار کو بین الاقوامی مالیاتی نظام کے تحفظ کے لیے روسی فیڈریشن کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کی روک تھام سے موجودہ اور ابھرتے ہوئے خطرات سے چوکنا رہنا چاہیے۔
واضح رہے کہ فیٹف نے رواں برس فروری میں روس کی رکنیت معطل کر دی تھی۔گزشتہ روز فیٹف نے یہ بھی بتایا ہے کہ جون کی میٹنگ کے بعد فیٹف نے گرے لسٹ میں رکھے گئے کسی ملک کو صورتحال بہتر ہونے کی صورت میں ہٹایا نہیں گیا ہے۔














