ارشد شریف کی بیٹی اپنے والد کے نقش قدم پر

ہفتہ 15 جولائی 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 گزشتہ سال کینیا میں قتل ہونیوالے معروف صحافی ارشد شریف کی بیٹی علیزہ ارشد اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صحافت کے میدان میں اتر آئی ہیں اور اپنی شناخت بنانے کے لیے تیار ہیں۔

 میڈیا اور معاشرے پر اس کے اثرات کا مشاہدہ کرتے ہوئے اور تحقیقاتی رپورٹنگ کے لیے اپنے والد کے جذبے اور سچائی سے پردہ اٹھانے کے عزم سے متاثر ہو کر علیزہ نے اس پیشے میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ارشد شریف کی بیٹی کی جانب سے صحافت کو بطور پیشہ منتخب کرنے کے اس فیصلے نے صحافی برادری اور ان کے والد کے چاہنے والوں میں توجہ اور تجسس بیدار کیا ہے۔ بہت سے لوگ علیزہ کی ترقی کا مشاہدہ کرنے اور یہ دیکھنے کے لیے بے چین ہیں کہ وہ صحافت کے دائرے میں اپنی منفرد داستان کو کس طرح تشکیل دے گی۔

پی ٹی آئی رہنما شہباز گل نے ٹوئٹر پر علیزہ ارشد کی رپورٹ شیئر کرتے ہوئے انہیں خوب داد دی اور ان کے والد کو یاد کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

سینئر صحافی صابر شاکر نے بھی اس پیغام کے ساتھ پوسٹ شیئر کی کہ شہید ارشد شریف زندہ و تابندہ ہوتا رہے گا ہر صبح ہر شام ہر روز ہر جگہ ۔۔۔۔ آزادی فکر کا چراغ کبھی نہیں بُجھے گا

سوشل میڈیا صارفین نے بھی علیزہ ارشد کو سراہتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہاد کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تیکناف سرحد سے گرفتار تمام 53 افراد کیمپوں میں مقیم روہنگیا مہاجر نکلے، بنگلہ دیشی سرحدی فورسز

کوئٹہ: سرکاری ملازمین کی احتجاجی تحریک کا دوسرا مرحلہ شروع، 15 جنوری کو لاک ڈاؤن کا اعلان

امریکی قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے، گرین لینڈ کا دوٹوک مؤقف

پیپلزپارٹی کا احتجاج: حکومت نے اسپیشل اکنامک زونز ترمیمی آرڈیننس واپس لے لیا

بنگلہ دیش کی سخت شرائط کے تحت غزہ بین الاقوامی فورس میں شمولیت پر آمادگی

ویڈیو

کیا ونڈر بوائے آ رہا ہے؟ پی ٹی آئی کی آخری رسومات ادا

ٹھیلے سے ریسٹورنٹ تک، سوشل میڈیا کے بل بوتے پر کامیابی کی انوکھی کہانی

’باادب بامراد‘: شاگردوں کا استاد کے لیے بے مثال احترام، گاڑی بطور تحفہ پیش کردی

کالم / تجزیہ

ہیرا ایک ہی ہے

’نہیں فرازؔ تو لوگوں کو یاد آتا ہے‘

تحریک انصاف کا دشمن کون؟