گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کو شو کاز نوٹس جاری

اتوار 16 جولائی 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے گلگت بلتستان میں وزیر اعلٰی کے انتخاب کے دوران پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے والے پی ٹی آئی نمائندوں کو شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کے مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق شوکاز نوٹس ایم ایل اے گلگت بلتستان فتح اللہ خان اور حشمت اللہ خان کے نام جاری کیا گیا ہے۔

جاری کردہ نوٹس کے مطابق پارٹی قیادت نے شو کاز میں شامل منحرف ارکان پرعدم اعتمادی کا اظہار کیا اور کہاکہ قیادت کے علم میں ہے کہ ان افراد نے پارٹی کے فیصلے کے خلاف ووٹ دیا ہے اور گلگت بلتستان میں الیکشن کے دوران پارٹی کے خلاف سازش میں ملوث ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

نوٹس کے مطابق تمام افراد کو پارٹی کی جانب سے تین روز کے اندر تحریری طور پر وضاحت پیش کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے، جواب نہ ملنے یا غیر تسلی بخش ہونے کی صورت میں پارٹی پالیسی اور قواعد کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔

واضح رہے رواں ہفتے 13 جولائی کو پاکستان تحریک انصاف نے وزیراعلٰی گلگت بلتستان کے انتخاب کا بائیکاٹ کیا، جس پر تحریک انصاف کے ہی فارورڈ بلاک کے رکن حاجی گلبر خان وزیر اعلٰی گلگت بلتستان منتخب ہوگئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

محمد یونس کی طارق رحمان کو مبارکباد، بی این پی کی جیت کو تاریخی قرار دیا

امریکا میں مقیم سکھ رہنما گرپتونت سنگھ کے قتل کی سازش، بھارتی شہری نے اعتراف کرلیا

بجلی کے ٹیرف میں تبدیلی کا بوجھ متوسط اور نچلے طبقے پر نہیں پڑنا چاہیے، آئی ایم ایف

عمران خان کا چھپ کر علاج کروانا قابل قبول نہیں، علیمہ خان پھٹ پڑیں

ایران میں ڈالر کی کمی پیدا کر کے ریال کو گرا دیا گیا، امریکی وزیر خزانہ کا اعتراف

ویڈیو

’ویلنٹائن ڈے کو اپنی اقدار کے مطابق منا کر نکاح کو آسان بنانا ہوگا‘

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟