رضا ربانی نے بل کی کاپیاں کیوں پھاڑیں؟

بدھ 2 اگست 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قومی اسمبلی کی مدت ختم ہونے میں 10 دن رہ گئے ہیں، مسلم لیگ ن اور اتحادیوں کی حکومت نے قانون سازی کا عمل تیز کر دیا ہے، قومی اسمبلی سے گزشتہ ایک ہفتے میں 50 سے زائد بل منظور کر لیے گئے ہیں، اتنی تعداد میں بلز کی منظوری پر اپوزیشن کے ساتھ اتحادیوں کو بھی تحفظات ہیں۔ ارکان پارلیمنٹ کا مؤقف ہے کہ بلز کی کاپیاں بھی ارکان کو نہیں دی جا رہیں۔

قانون سازی کے منفی اثرات

ارکان پارلیمنٹ کا موقف ہے کہ نئی قانون سازی کے بلز متعلقہ کمیٹیوں کو بھی نہیں بھیجے جا رہے اور نئی قانون سازی پر ایوان میں بحث بھی نہیں کرائی جا رہی۔ ممبران اسمبلی کی جانب سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جلد بازی میں کی گئی قانون سازی کے منفی اثرات ہوں گے۔

گزشتہ روز قومی اسمبلی نے ایک درجن سے زائد بل منظور کیے گئے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل سمیت ایسے بل بھی پاس کروائے گئے جو ایجنڈے پر موجود ہی نہیں تھے۔

آج 12 بلز کی منظوری

جمعرات 27 جولائی کو قومی اسمبلی نے 24 بل منظور کیے جبکہ جمعہ 28 جولائی کو قومی اسمبلی نے 29 بل منظور کیے، گزشتہ روز بھی قومی اسمبلی سے 6 بل پاس کروائے گئے، جبکہ آج قومی اسمبلی سے 12 بل منظور کرائے گئے ہیں۔

مجھے لگ رہا ہے کہ میں سینیٹ میں نہیں ہوں

سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ نئی روایات ڈالی جا رہی ہیں، مجھے لگ رہا ہے کہ میں سینیٹ میں نہیں ہوں، میری آنکھوں میں پٹی ہو، میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں، جو وزیر کہے یا کابینہ کہے اس پر ہاں کہ دوں، وہ کہیں دن ہے تو میں کہوں دن ہے، وہ کہیں رات ہے۔

گزشتہ 10 دنوں سے کیا ہو رہا ہے مجھے سمجھ نہیں آ رہا

گزشتہ 10 دنوں سے کیا ہو رہا ہے مجھے سمجھ نہیں آ رہا، میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی لیگیسی سی ہوں، رضا ربانی نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں، میں پارٹی ڈسپلن کا پابند ہوں، جناب چیئرمین آپ کیا کرنا چاہ رہے ہیں، آج آپ یہ کر رہے ہیں، کل آپ کی حکومت ختم ہو گی آپ اپوزیشن بنچوں پر آئیں گے، کیا لیگیسی لے کر آئیں گے؟

ہم ہاؤس سے باہر چلے جاتے ہیں، سینیٹر کامران مرتضیٰ

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ اگر ہمارے 2 وزیر ہیں حکومت میں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم یہاں بول نہیں سکتے اور جو قانون سازی ہو گی اس پر ہاں کہیں گے، اگر اس طرح قانون سازی کرنی ہے تو ہم ہاؤس سے باہر چلے جاتے ہیں۔

ایسی قانون سازی جمہوریت کے لیے خطرہ ہے، مولانا اکبر چترالی

رکن اسمبلی مولانا اکبر چترالی نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کیا ہو گیا ہے کہ حکومت کو ایک دم سے قانون سازی کی یاد آ گئی ہے؟ ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ حکومت گھوڑے پر سوار ہو کر قانون سازی کر رہی ہے، ایسی قانون سازی جمہوریت کے لیے خطرہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ، الیکشن کمیشن نے کمیٹی قائم کر دی

بیت الخلا سے دو لڑکیوں کی لاشیں برآمد، چیٹ جی پی ٹی سے خودکشی کے خوفناک طریقے پوچھنے کا انکشاف

تربت میں گرین پیپلز بس سروس کا آغاز، شہریوں کو جدید سفری سہولیات فراہم

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی بحرین کے وزیرخارجہ سے ٹیلی فونک گفتگو، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

عدالت ملزمان کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی، تہرے قتل کیس میں وفاقی آئینی عدالت کے ریمارکس

ویڈیو

لاہور میں ملک کی پہلی سمارٹ روڈ روٹ 47 کی خصوصیات کیا ہیں؟

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

کالم / تجزیہ

ایران کی موزیک دفاعی پالیسی کیا ہے، اس نے کیا کرشمہ کر دکھایا؟

بوئے خوں آتی ہے امریکا کے افسانے سے

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟