چھ فروری دو ہزار تئیس کو آنے والے تباہ کن زلزلہ نے جہاں جنوبی ترک شہر انطاکیہ کے سارے رہائشی علاقے کو ادھیڑ کر رکھ دیا۔ وہیں عبداللہ المحمد کے خاندان سے محفوظ زندگی کا احساس بھی چھین لیا ۔ یہ احساس مضبوط کرنے میں طویل وقت لگا تھا۔
سن دو ہزار بیس میں ، جب شام کی سرکاری فوج نے صوبہ ’ ادلب ‘ کا کنٹرول واپس لینے کے لئے ’ سراقب ‘ شہر خالی کروایا تو عبداللہ المحمد کا خاندان ترک سرحد کے قریب شہر’ سرمدا ‘ میں مقیم ہوگیا۔ تاہم وہ سرکاری فوج اور مخالف فورسز کے مابین ہونے والی لڑائی سے دور نہ ہوسکا۔ سرکاری فوج مخالف فورسز پر جو بم برساتی تھی ، وہ بعض اوقات ان کے گھر سے کچھ ہی دور گرتے تھے۔
عبداللہ المحمد چاہتا تھا کہ اس کی بیٹی ’ سلوا ‘بموں کی آواز سے خوف زدہ نہ ہو۔ انھوں نے بم گرنے کی آواز کو ایک کھیل میں تبدیل کردیا۔ جیسے ہی بم گرنے کی آواز سنائی دیتی ، وہ کہتی : ’’ او ، بم گرا ‘‘۔ اور پھر باپ بیٹی خوب زور سے ہنسنے لگتے۔ سلوا خوش ہو کر تالیاں پیٹنے لگتی ۔ بعد ازاں یہ خاندان ترک شہر ’ انطاکیہ ‘ کی طرف ہجرت کرگیا۔

تین سال بعد، اب اس باپ بیٹی کی زندگی قہقہوں سے خالی ہوگئی ہے ۔ ان تین برسوں کے دوران میں انھیں کچھ ایسی مصیبتوں سے واسطہ پڑا جن کے سبب ان کی زندگی بکھر کر رہ گئی ہے۔ اور پھر زلزلہ نے اس خاندان کو آن لیا۔
عبداللہ المحمد کو چھ فروری کے وہ لمحات بخوبی یاد ہیں ، اس نے بتایا:’’ زلزلہ اس قدر شدید تھا کہ میں نے کمرے میں دوسری طرف پڑی ہوئی ’ سلوا ‘ کی طرف بڑھنے کی کوشش کی تو جھٹکے نے مجھے زور سے پیچھے کی طرف دھکیل دیا۔ میں ایک ایسی کیفیت میں تھا جب آپ کو لگتا ہے کہ آپ زندگی اور موت کے درمیان میں پھنس کے رہ گئے ہیں۔ آپ کو اپنی نیکیاں یاد آتی ہیں اور آپ مسکراتے ہیں۔ گناہ یاد آتے ہیں تو آپ اللہ سے استغفار طلب کرنے لگتے ہیں۔‘‘
پھر اس نے اپنی چھ سالہ شدید خوفزدہ بیٹی کو بانہوں میں اٹھایا اور بیوی کے ساتھ نیچے جانے کے لئے سیڑھیاں اترنے لگا ۔ اس نے بتایا : ’’ نیچے اترے تو ہماری راہ میں ایک گری ہوئی دیوار رکاوٹ بن گئی۔ دوسری طرف ہمارا ہمسائیہ کھڑا تھا۔ میں نے سلوا کو اسے تھمانا تھا لیکن شدید خوفزدہ بیٹی نے مجھے زورسے بھینچ رکھا تھا۔ میں نے زبردستی اسے اپنے سے جدا کیا اور ہمسائیے کے حوالے کیا۔ ‘‘
سڑک پر پہنچ کر انھوں نے شکستہ رہائشی عمارت کی طرف ایک نگاہ ڈالی جس میں ان کا فلیٹ تھا۔ یخ بستہ ہوا ان کے چہروں سے ٹکرا رہی تھی اور بارش انہیں بھگو رہی تھی۔ اسی اثنا میں ایک بار پھر زلزلہ آگیا ، ایک گونج تھی ، گرج تھی ۔
’’ مجھے یوں لگا ، جیسے میرے پائوں تلے زمین پھٹ رہی ہو۔ اردگرد بلند وبالا عمارتیں گر رہی تھیں۔ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ بھاگ کر کہاں جائیں ! لمحہ بھر میں ہر طرف ملبے سے چیخیں سنائی دینے لگیں۔ لوگ ان آوازوں کی طرف بھاگ رہے تھے کہ انھیں نکال سکیں۔‘‘
’’ لوگوں کو دیوانہ وار ادھر ادھر بھاگتے دیکھ کر ’ سلوا ‘ نے بھی چیخنا شروع کردیا۔ کئی گھنٹوں بعد انھیں ایک کار میں پناہ مل گئی جہاں انھوں کے کچھ دیرآرام کیا اور حرارت حاصل کی۔ ’ سلوا ‘ اب بھی سردی اور خوف سے ٹھنڈی پڑی ہوئی تھی ۔ وہ تھوڑے وقفے سے قے کر رہی تھی ‘‘۔
تھوڑی دیر بعد عبداللہ المحمد ، بیوی او بیٹی سمیت ترک شہر’ میرسن ‘ کی طرف چل نکلے جہاں ان کے رشتہ دار رہتے تھے ۔ انھوں نے چند ایک چیزیں اٹھا رکھی تھیں ۔ عبداللہ المحمد کے جسم پرایک جیکٹ تھی ۔ وہ بھی اس کی اپنی نہیں تھی۔ وہ رشتہ داروں کے ہاں پہنچے تو ان کے عزیز سڑک پر خیمہ لگائے بیٹھے تھے۔ وہ گھر جانے سے خوفزدہ تھے کیونکہ زلزلہ کے آفٹر شاکس سے زمین بار بار لرز رہی تھی ۔
عبداللہ المحمد کہہ رہا تھا : ’’ قیامت کا ساماں تھا۔ جب ہم شام میں تھے۔ حملہ ہوتا تھا تو ہمیں پتا تھا کہ کس طرف بھاگ کر جانا ہے۔ تاہم اب صورت حال بالکل مختلف تھی۔ مصیبت تو پاؤں کے نیچے تھی۔ ‘‘
عبداللہ نے کوئی پناہ گاہ تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن نہ مل سکی۔ کھانے پینے کا سامان بھی نہں تھا۔ ابھی تک امدادی تنظیمیں نہیں پہنچی تھیں۔ چنانچہ وہ رشتہ داروں کے گھر میں ٹھہر گئے جو پہلے ہی لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ وہ اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھ رہے تھے کہ وہ زندہ بچ گئے ۔ اس نے بتایا : ’’ میری بیوی کی کزن کا خاندان اب بھی ملبے تلے دبا ہوا ہے۔ ( جب وہ یہ باتیں کر رہا تھا ، زلزلہ کو آئے ہوئے نو دن گزر چکے تھے )۔ میرے ایک دوست کے دو بچے ( عمریں نو اور دس برس ) بھی اب تک لاپتا ہیں۔
عبداللہ المحمد بیوی اور بیٹی سمیت ایک دوسرے گھر میں رہ رہے ہیں۔ ’ سلوا‘ شدید صدمہ میں ہے۔ وہ گم سم سی رہتی ہے۔ قہقہے دور کی بات اس کے چہرے سے مسکراہٹ بھی غائب ہوچکی ہے۔ وہ اپنے ماں باپ سے کئی سوالات پوچھتی رہتی ہے ۔
’’ یہ کیا ہوا ؟ ملبے کے نیچے لوگ ۔۔۔۔ اس کا کیا مطلب ہوتا ہے ؟ لوگ ملبے کے نیچے کیسے زندہ رہتے ہیں؟؟ ‘‘
باپ کو سمجھ نہیں آ رہی کہ ’ سلوا ‘ حقیقت کیسے برداشت کرسکے گی۔ چنانچہ وہ بیٹی کے بعض سوالوں کے جواب میں سچ بولتا ہے اور بعض اوقات جھوٹ ۔ وہ بیٹی کو بہرصورت ٹراما سے نکالنا چاہتا ہے تاہم بخوبی جانتا ہے کہ اس بار قہقہے کام نہیں آئیں گے۔
زلزلے جیسی صورت حال میں بچے سمجھتے ہیں کہ ان کا باپ بھی کچھ نہیں کرسکتا۔ حالانکہ وہ ہمیشہ والد کو ہیرو کا درجہ دیتے ہیں ۔ سلوا بھی سمجھتی ہے کہ اب سب لوگ بے بس ہیں۔
عبداللہ المحمد کہتا ہے کہ بیٹی کو اس ٹراما سے باہر نکالنے کے لئے ہم ہر ممکن تدبیر اختیار کر رہے ہیں۔
ایک سال پہلے اس خاندان نے کینیڈا میں سکونت کے لئے درخواست دی تھی۔ تاہم اس کی منظوری کا عمل کافی سست ہے۔ وہ ایسا گھر چاہتے ہیں جو ہمیشہ کے لئے ان کا ہو، جہاں ان کی بیٹی پھر سے مسکرا اٹھے ۔
عبداللہ کا کہنا ہے : ’’ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ بچی کے دماغ سے زلزلہ کو نکال باہر کرنا ہے۔ تاہم مجھے کوئی حل سمجھ نہیں آ رہا ۔ میں ہمیشہ مسائل کا حل تلاش کرلیتا تھا لیکن اس بار کوئی حل نہیں مل رہا ہے۔ ‘‘
سلوا اب ساڑھے چھ برس کی ہے لیکن سکول میں داخل نہیں ہو سکی ۔ امید ہے کہ اگلے برس ضرور سکول جائے گی۔

















