کراچی کی احتساب عدالت نے پیپلز پارٹی کے سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن کے خلاف پونے 6 ارب روپے کی کرپشن سے متعلق ریفرنس میں نیب ترمیم کے تحت عدالتی دائرہ اختیار چیلنج کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے۔
شرجیل میمن سمیت دیگر ملزمان احتساب عدالت میں پیش ہوئے، جہاں مقدمہ کی کارروائی کا دوبارہ آغاز کرنے کا حکم دیتے ہوئے عدالت نے نیب ترمیم کے تحت عدالت کے دائرہ اختیار چیلنج کرنے کی درخواست مسترد کردی۔
احتساب عدالت کے جج کا کہنا تھا کہ کل سپریم کورٹ کا حکم نامہ ملا ہے، نیب ترامیم سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد درخواست غیر موثر ہوچکی ہے، سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کیا جائے گا۔
’اب تو نیب ترامیم ختم کردی گئیں ہے، سپریم کورٹ کا حکم نامہ بھی سامنے ہے، کیس کا ٹرائل جہاں رکا تھا وہیں سے شروع کیا جائے گا، گواہان کو طلب کرتے ہوئے مقدمہ کی کارروائی آگے بڑھاتے ہیں۔‘
عدالت نے آئندہ سماعت پر گواہوں اور ملزمان کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے ریفرنس کی سماعت 5 اکتوبر تک ملتوی کردی ہے۔
قومی احتساب بیورو کے پروسیکیوٹر کے مطابق شرجیل انعام میمن پر اختیارات کے نا جائز استعمال کا الزام ہے جو محکمہ اطلاعات سندھ میں اشتہارات کی مد 2013 اور 2015 کے دوران تقریباً پونے 6 ارب روپے کے اشتہارات دیے گئے جو کرپشن کا باعث بنے۔ ایڈورٹائزنگ ایجنسی نے چینل کو کم رقم دی جبکہ حکومت سے زیادہ رقم وصول کی گئی۔
محکمہ اطلاعات سندھ میں کرپشن سے متعلق دائر نیب کا ریفرنس احتساب عدالت میں زیر سماعت ہے جس میں 17 ملزمان نامزد ہیں۔
کرپشن ریفرنس میں نیب آرڈیننس کے تحت درخواست شریک ملزم سلمان منصور کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ شرجیل انعام میمن سمیت دیگر کے خلاف 2016 میں ریفرنس دائر ہوا تھا۔














