کراچی کے علاقے پٹیل پاڑہ میں کارروائی کرتے ہوئے سندھ پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے اہلکاروں نے کالعدم لشکر جھنگوی کا مبینہ دہشت گرد حافظ قاسم رشید گرفتار کیا ہے، جس کی قتل کی وارداتوں میں ملوث ہونے کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آئے ہیں۔
سندھ پولیس کے محکمہ انسداد دہشتگردی یعنی سی ٹی ڈی کے ترجمان نے ایک بیان میں اس کارروائی کی بابت بتایا ہےکہ دہشتگرد حافظ قاسم رشید عرف گنجا کو خفیہ اطلاع پر گرفتار کرکے اس کے قبضے سے ہینڈ گرینیڈ، پستول اور بارودی مواد برآمد کیا گیا ہے۔
سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق دہشتگرد پہلے بھی گرفتار ہوکر جیل جا چکا ہے، ملزم نے دورانِ تفتیش جیل سے دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو چلانے کا انکشاف بھی کیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے عاصم کیپری اور اسحاق بوبی کے ذریعے معروف قوال امجد صابری کا قتل کروایا۔
ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش رینجرز پر حملے میں 4 اہلکاروں کے قتل کا بھی انکشاف کیا ہے، اس کے علاوہ صدر پارکنگ پلازہ کے قریب 2 آرمی اہلکاروں کی بھی ٹارگٹ کلنگ کا اعتراف کیا ہے۔

’ملزم کیخلاف مقدمات درج کرکے تفتیش شروع کردی گئی ہے، ابتدائی طور پر ملزم نے اسسٹنٹ سپرنٹینڈنٹ جیل پیر مسعود احمد اور ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ جیل عبدالرزاق عباسی سمیت قتل کی دیگر وارداتوں کا اعتراف کرلیا ہے۔مزید تفتیش جاری ہے، اہم انکشافات متوقع ہیں۔‘
کالعدم تنظیم کے دہشتگرد قاسم رشید کی گرفتاری کے ضمن میں جہاں سی ٹی ڈی کے ترجمان نے انہیں مایہ ناز قوال امجد صابری کے قتل میں ملوث قرار دیا ہے، تاہم دوسری جانب سی ٹی ڈی کے انچارج راجہ عمر خطاب کا کہنا ہے کہ قاسم رشید امجد صابری قتل کیس میں ملوث نہیں، امجد صابری قتل میں اسحاق بوبی اور عاصم کیپری ملوث تھے جنہیں سزائے موت سنائی جاچکی ہے۔














