نگراں وزیراعظم نے ڈی جی آئی ایس آئی کی مدت ملازمت میں توسیع کی وجہ بتادی

جمعہ 10 نومبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اہم انٹیلیجینس ایجنسی، انٹر سروسز انٹیلیجینس (آئی ایس آئی) کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی گئی ہے تاکہ ملک کو بڑھتی ہوئی عسکریت پسندوں کا سامنا کرتے ہوئے پالیسی کے تسلسل کو برقرار رکھا جا سکے۔

عرب نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو 20 نومبر 2022 کو تعینات کیا گیا تھا اور وہ رواں ماہ کے آخر میں ریٹائر ہونے والے تھے تاہم اب ان کی مدت ملازمت میں توسیع کر دی گئی ہے اور یہ کوئی انوکھا یا معمول سے ہٹ کر معاملہ نہیں۔

یہ پہلا موقع ہے جب پاکستان کے کسی حکومتی سربراہ نے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی توسیع پر عوامی طور پر تبصرہ کیا ہے۔ فوج نے اب تک ندیم انجم کی توسیع کا باضابطہ طور پر اعلان نہیں کیا ہے لیکن ان کی توسیع کے حوالے سے پاکستانی میڈیا میں گزشتہ کئی ہفتوں سے خبریں گردش کر رہی تھیں۔

ڈی جی آئی ایس آئی پاکستان کے اہم ترین عہدوں میں سے ایک ہیں جو قومی سیاست اور خارجہ تعلقات کے سنگم پر کام کرتے ہیں۔ یہ ایجنسی عسکریت پسندوں سے نمٹنے کی کوششوں کی نگرانی بھی کرتی ہے۔

توسیع پانے والے آخری ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا تھے جن کے دور میں ملک کے شمال مغرب میں عسکریت پسندوں کے خلاف بڑی کارروائیاں کی گئیں۔

ندیم انجم کے لیے توسیع بھی داعش جیسے گروپوں کے ساتھ ساتھ کالعدم طالبان تحریک پاکستان کی طرف سے عسکریت پسندی میں ایک بڑے اضافے کے دوران ہوئی۔

انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی نظام تسلسل کو ترجیح دیتا اور اس کی حمایت کرتا ہے اور پاکستانی حکومت و فوج دونوں یہ چاہتے تھے کہ فی الحال ندیم انجم ہی پالیسی پر عملدرآمد کے عمل کو آگے بڑھائیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی افسر کی مدت ملازمت میں توسیع ریاست کا صوابدیدی اختیار ہوتا ہے اور اس میں کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔

ندیم انجم کے ڈی جی آئی ایس آئی کا عہدہ سنمبھالنے کے ایک ہفتے بعد ہی ٹی ٹی پی نے یہ کہتے ہوئے کہ وہ پاکستانی حکومت کے ساتھ ایک ماہ طویل جنگ بندی کی مزید پابندی نہیں کرے گی اپنے جنگجوؤں پر زور دیا تھا کہ وہ پاکستان کے خلاف مسلسل فوجی مہم کے خلاف حملے دوبارہ شروع کریں۔ تب سے اس گروپ نے پولیس کمپاؤنڈز، سیکیورٹی قافلوں اور دیگر فوجی اور شہری اہداف پر حملے شروع کیے ہوئے ہیں۔

ستمبر میں اسلام آباد میں قائم آزاد سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق رواں سال کے پہلے 9 مہینوں میں پاکستان میں کم از کم 700 سیکیورٹی اہلکار اور عسکریت پسند مارے گئے جبکہ اس کے علاوہ بھی ملک بھر میں حملوں کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی ایک طویل فہرست ہے۔

اس صورتحال کے پیش نظر جنوری میں ہونے والے عام انتخابات کے لیے مختلف سیاسی پارٹیوں کی انتخابی مہم کے دوران بھی دہشتگرد واقعات کا خدشہ موجود ہے۔

انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ وہ عسکریت پسندی میں اضافے کو انتخابات میں ممکنہ تاخیر سے جوڑنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عسکریت پسند اپنی حکمت عملی بدلتے رہتے ہیں اور ہمیں اس کے مطابق  ہی جواب دینا ہوگا۔

لیول پلیئنگ فیلڈ

انوارالحق کاکڑ کی نگران حکومت عام انتخابات کی نگرانی کے لیے آئینی طور پر ذمہ دار ہے لہٰذا اسے اس حوالے سے مختلف چیلنجز کا بھی سامنا ہے جن میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے پارٹی کے خلاف سیاسی انتقام کے الزامات بھی شامل ہیں۔

ایک الزام یہ بھی ہے کہ کاکڑ حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ پاکستان مسلم لیگ ن کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے تاہم حکومت اور فوج دونوں اس کی تردید کرتے ہیں۔

نگراں وزیراعظم نے کہا کہ نگراں حکومت کی ایسی کوئی پالیسی نہیں ہے کہ کسی ایک یا دوسرے سیاسی گروہ کی حوصلہ افزائی یا حوصلہ شکنی کی جائے۔

پی ٹی آئی کی طرف سے پارٹی کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن اور عمران خان کے خلاف 100 سے زائد مقدمات کے حوالے سے لگنے والے الزامات کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ تمام جماعتوں کو عدالت میں جانے کا پورا حق حاصل ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اگر انہیں قانونی طور پر انتخابی عمل سے روکا جا رہا ہے تو وہ اس کے خلاف عدالتوں سے رجوع کرسکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp