کامن ویلتھ مبصر گروپ نے پولنگ عمل کو شفاف قرار دے دیا

جمعرات 8 فروری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں عام انتخابات کا جائزہ لینے کے لیے آنے والے کامن ویلتھ مبصر گروپ نے پولنگ کے عمل کو شفاف قرار دیا ہے اورا س پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، ملک میں عام انتخابات کا جائزہ لینے کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے مدعو کیے گئے بیرون ملک سے آنے والے مختلف مبصرین، صحافی اور آبزرورز نے ووٹنگ کی صورتحال کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔

اس سلسلے میں کامن ویلتھ مبصر گروپ کے 25 رکنی وفد نے اسلام آباد کے مختلف پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کیا۔ حلقہ این اے 47 کے مختلف پولنگ اسٹیشنز کے دورے کے دوران کامن ویلتھ مبصر وفد نے پولنگ کے عمل کو شفاف کرار دیا اور اطمینان کا اظہار کیا۔

’انٹرنیٹ سے زیادہ اہم ووٹ ڈالنا ہے‘

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کامن ویلتھ کے مبصر گروپ کے سربراہ نے کہا کہ عام انتخابات کے پولنگ عمل سے مطمئن ہیں، دنیا میں انٹرنیٹ سروس متعارف ہونے سے قبل بھی ہم الیکشن کرا رہے تھے، انٹرنیٹ سے زیادہ اہم ووٹ ڈالنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹنگ عمل میں انٹرنیٹ کی ضرورت نہیں البتہ نتائج بھیجتے وقت انٹرنیٹ بندش سے مسئلہ ہوگا۔

واضح رہے کہ کامن ویلتھ مبصرین کے دوروں کا مقصد پاکستان میں انتخابی عمل کی نگرانی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، محفوظ اسکول لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کیوں اہم ہیں؟

اسلام آباد پر چڑھائی کی کوشش کی گئی تو نقصان کی ذمے داری احتجاج کرنے والوں پر ہوگی، طارق فضل چوہدری

برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کے والد انتقال کرگئے، وزیراعظم شہباز شریف کا اظہار افسوس

انتشار کی سیاست کو پذیرائی نہ ملی تو مذہبی جذبات کا سہارا، سیاسی کمزوری کو عقیدت کا رنگ دینے سے حقائق نہیں بدلتے

صدر مملکت نے انڈونیشین بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ڈاکٹر محمد علی کو نشان امتیاز ملٹری عطا کردیا

ویڈیو

پاکستان میں ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا میلہ، دنیا بھر سے ممتاز آئی ٹی ماہرین کی شرکت

کیا 27 ستمبر کا احتجاج پی ٹی آئی کے لیے خطرہ ہے، صحافیوں کو بلوچستان کیوں بلایا گیا؟

اداکاری جمال شاہ کی وجہ سے چھوڑی، میرے پاس تشدد کے ثبوت موجود ہیں، فریال گوہر

کالم / تجزیہ

جین زی ماضی کی طرف کیوں جھانک رہی ہے؟

ایک سانس کی قیمت

’ساڈا دل توڑ کے توں ویں پچھتاویں گا‘