کیا بلوچستان میں وزیر اعلیٰ ایک بار پھر ‘باپ‘ سے ہوگا؟

پیر 12 فروری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عام انتخابات کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد ملک بھر میں سیاسی جماعتوں اور آزاد حیثیت سے کامیاب ہونے والے  امیدواروں کے درمیان حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت

بات ہو اگر رقبے کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کی تو اس وقت صوبے میں بھی سیاسی پنڈتوں نے حکومت سازی کے لیے سر جوڑ لیے ہیں۔ صوبائی اسمبلی کی 51 نشستوں پر غیر حتمی غیر سرکاری نتائج آنے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی11 نشستوں کے ساتھ صوبے کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے جبکہ مرکز کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن  اور جمعیت علمائے اسلام ف 10، 10 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

بلوچستان میں چوتھے نمبر پر آزاد امیدوار 6 نشستوں کے ساتھ ہیں، جبکہ 5 سیٹوں کے ساتھ بلوچستان عوامی پارٹی ایک بار پھر ایوان تک پہنچنے میں کامیاب رہی ہے۔ اس کے علاوہ نیشنل پارٹی 3، عوام نیشنل پارٹی 2، جماعت اسلامی، حق دو تحریک اور بی این پی مینگل اور بی این پی عوامی ایک ایک نشست لینے میں کامیاب رہیں ہیں۔

سیاسی حلقوں میں چہ میگوئیاں

غیر حتمی غیر سرکاری نتائج سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ میگوئیاں اور سوالات جنم لینے لگے ہیں کہ صوبے میں آئندہ حکومت اور وزیر اعلیٰ کس جماعت کا ہوگا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے سرفراز بگٹی اور نواب ثنااللہ زہری کے ناموں پر اتفاق کیا ہے۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے جام کمال، جمعیت علمائے اسلام ف کی جانب سے نواب اسلم رئیسانی جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی سے صادق سنجرانی کے نام اب تک سامنے آچکے ہیں۔

اسلام آباد کے لیے اڑان

ذرائع کا بتانا ہے کہ سرفراز بگٹی، ثنااللہ زہری اور صادق سنجرانی اسلام آباد کے لیے اڑان بھر چکے ہیں جبکہ دیگر خواہش مند بھی وزارت اعلیٰ کی کرسی کے لیے جوڑ توڑ کر رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق صوبے میں 4 جماعوں پر مشتمل مخلوط حکومت بنے گی۔ جس میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام ف کا اہم کردار ہوگا جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی بھی اسی حکومت کا حصہ ہو سکتی ہے۔

بلوچستان میں حکومت سازی وفاق میں حکومت پر منحصر ہوگی

سیاسی مبصرین کا موقف ہے کہ بلوچستان میں حکومت سازی وفاق میں حکومت پر منحصر ہوگی۔ اگر وفاق میں پاکستان پیپلز پارٹی حکومت بنا لیتی ہے تو مسلم لیگ ن صوبے میں حکومت بنائے گی جس صورت میں جام کمال وزیر اعلیٰ کے منصب پر ایک بار پھر براجمان ہونگے، لیکن اگر وفاق میں مسلم لیگ ن وفاق میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوگی تو ایسی صورت میں پیپلز پارٹی کا وزیر اعلیٰ ہو سکتا ہے۔

صادق سنجرانی بھی وزیر اعلیٰ بن سکتے ہیں

سیاسی ماہرین کے مطابق اس وقت سیاسی کھیل کی اصل رسی 6 آزاد امیدواروں کے ہاتھ میں ہے اگر یہ آزاد امیدوار باپ کا حصہ ہوجائیں تو صادق سنجرانی کے لیے قائد ایوان کے راہیں ہموار ہو جائے گی۔

اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ 6 میں سے 4 یا 5 آزاد امیدوار بی اے پی کا حصہ ہو سکتے ہیں کیونکہ کامیاب ہونے والے آزاد امیدوراں میں 3 کا تعلق باپ سے رہا ہے تو ایسے میں صادق سنجرانی بھی وزیر اعلیٰ بن سکتے ہیں تاہم ان تمام تر سوالوں کا جواب وقت ہی دے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لکی مروت میں پولیس کی بڑی کارروائی، خودکش بمبار سمیت فتنہ الخوارج کے 2 دہشتگرد ہلاک، ایک زخمی فرار

امریکی وسط مدتی انتخابات، ٹرمپ کا انتہا پسند بائیں بازو کو روکنے کا عزم

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

ملک و قوم کی حفاظت کرنے والے سیکیورٹی اداروں کے خلاف بات کرنا ماں کو گالی دینے کے مترادف ہے، جہاں آرا وٹو

گرین لینڈ کی پارلیمنٹ نے امریکا اور ڈنمارک کے ساتھ آرکٹک سیکیورٹی معاہدے کی منظوری دیدی

ویڈیو

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

پاک افغان مذاکرات کی کامیابی طالبان کے دہشتگردوں کے خلاف عملی اقدامات پر منحصر ہے، سابق سفیر ابرار حسین شاہ

ضلع ٹنڈو محمد خان میں بیڈ گورننس کی انتہا

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا