پھٹے کپڑے تو رفو کرلیتا ہوں، کاش ٹوٹے دل بھی جوڑ سکتا!

پیر 26 فروری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عید کا تہوار ہو یا شادی بیاہ کا موقع، یا پھر آپ نے کسی بھی تقریب کے لیے نئے کپڑے پہنے ہوں، اگر ان کپڑوں میں کوئی کھونچ لگ جائے تو ساری خوشی غارت ہوجاتی ہے۔

کپڑوں پر غریب یا متوسط طبقہ تو خاص مواقع کے لیے بھی چند سو یا چند ہزار سے زیادہ نہیں خرچ کرتا، لیکن امیر امرا کے ہاں مقابلہ لاکھوں میں ہوتا ہے۔ ایسے میں کپڑوں کا قیمتی جوڑا اگر چند بار استعمال ہی میں کسی کھونچ یا پھٹن کا شکار ہو جائے تو پہننے کے قابل نہیں رہتا۔

ایسے میں کسی ماہر رفوگر کے ہاتھوں اگر یہ لباس دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ آئے تو سارا غم رفوچکر ہوجاتا ہے۔ اسلام آباد میں اپنے والد صاحب کا کام آگے بڑھاتے رفوگر عمیر احمد کچھ ایسی ہی مہارت سے پھٹے ہوئے کپڑوں کو دوبارہ بے عیب کرتے ہیں جیسے کوئی ماہر سرجن اوپن ہارٹ سرجری کے بعد مریض کا سینہ سی دیتا ہے۔

عمیر نے یہ کام اپنے والد سے سیکھا ہے، ان کے بقول گاہک کے چہرے پر جو خوشی رفوشدہ کپڑے لوٹاتے ہوئے دیکھتے ہیں اس سے ساری محنت وصول ہوجاتی ہے۔ اس کام سے جہاں وہ خوشی محسوس کرتے ہیں وہیں ایک بات کا انہیں قلق بھی ہوتا ہے کہ کاش اسی طرح وہ ٹوٹے ہوئے دل بھی جوڑ سکتے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شادی کی تقریب میں حد سے زیادہ بے تکلفی، ہانیہ عامر اور یاسر حسین کی ویڈیوز وائرل

غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

آخری ٹی20: پاکستان کی آسٹریلیا کے خلاف بیٹنگ جاری، 2 کھلاڑی آؤٹ

حکومت کی جانب سے عوامی قرض قانونی حد سے تجاوز ہونے کا اعتراف، پی ٹی آئی کا شدید ردعمل

کوئٹہ: بلوچستان بھر میں دفعہ 144 نافذ، ایک ماہ کے لیے سخت پابندیاں عائد

ویڈیو

ریاض: پاکستان انٹرنیشنل اسکول میں سالانہ اسپورٹس گالا، نظم و ضبط اور ٹیم اسپرٹ کا بہترین مظاہرہ

لاہور میں ماں بیٹی کے مین ہول میں گرنے کا واقعہ، عوام کیا کہتے ہیں؟

وزیراعظم پاکستان سے آذربائیجان کے صدر کے خصوصی نمائندے کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں

وفاق اور گل پلازہ

’لڑکی لیزنگ پر لے لو‘