حکومت کو ’مینڈیٹ چور‘ کہنے والے علی امین گنڈاپور کیا شہباز شریف کو قائل کر سکیں گے؟

بدھ 13 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کو فارم 47 اور اور جعلی مینڈیٹ سے بننے والے وزیراعظم قراردے کر حلف برداری میں شرکت نہ کرنے والے خیبر پختونخوا کے وزیراعلی علی امین خان گنڈاپور آج اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے متوقع ملاقات میں چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کی تعیناتی اور صوبے کو درپیش مالی مشکلات پر بات چیت کا امکان ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ملاقات انتہائی اہم ہے جس کے ذریعہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور وفاق کے ساتھ اپنی صوبائی حکومت کے معاملات کو اسٹریم لائن کرنے کی کوشش کریں گے۔

چیف سیکریٹری کا تبادلہ اہم ایشو ہے

سینئیر صحافی و تجزیہ کار فدا عدیل سمجھتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ بننے اور سرکاری حکام سے بریفنگ لینے کے بعد علی امین کے رویہ میں کافی حد تک نرمی آئی ہے اور اپنے ابتدائی دنوں کے برعکس اب ان کے بیانات بھی سخت نہیں رہے۔

’وزیراعلی کے لیے نامزدگی سے حلف اٹھانے تک علی امین گنڈاپور کچھ زیادہ جارحانہ انداز میں نظر آئے لیکن اب ان کے رویہ میں نرمی آئی ہے، وہ وزیراعظم کے دورہ پشاور کے دوران بھی غائب رہے، ایسا لگتا ہے کہ انہیں اندازہ ہو گیا ہے کہ وفاق سے ورکنگ ریلیشن رکھے بغیر صوبے کی حکمرانی دشوار ہوگی۔‘

تجزیہ کاروں کے مطابق اسی لیے اب علی امین باقاعدہ طور پر وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کرنے اور اپنی بات منوانے کی مکمل کوشش کریں گے، علی امین نے گزشتہ دنوں صوبائی چیف سیکریٹری کی خدمات واپس لینے اور نئے چیف سیکریٹری کی تعنیاتی کے لیے مراسلہ ارسال کیا تھا، جو وفاق نے واپس کر دیا ہے۔

کیا فیصلہ متوقع ہے؟

صحافی فدا عدیل کے مطابق علی امین تحریک انصاف کے قریب سمجھے جانے والے شہاب علی شاہ کی چیف سیکریٹری کی تعیناتی کے خواہشمند ہیں، یہی وجہ ہے کہ اپنے مراسلے میں انہوں 3 کے بجائے صرف ایک نام ہی لکھا تھا، نئے چیف سیکریٹری کی تعیناتی میں تاخیر سے وہ تبادلے ممکن نہیں جو نئی حکومت چاہتی ہے۔

’میں سمجھتا ہوں کہ وزیر اعظم شہباز شریف صوبائی حکومت کے خواہش کے مطابق چیف سیکریٹری تعینات کردیں گے، شہاب علی شاہ اس سے قبل پرویز خٹک اور محمود خان کے ساتھ صوبے میں کام کر چکے ہیں اور ان کے بارے میں خیال ہے کہ وہ عمران خان کے اس وقت کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کے بھی قریبی تھے، اور اہم ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کر چکے ہیں۔‘

صوبے کو درپیش مالی معاملات

صحافی فدا عدیل کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈاپور کی وزارت اعلیٰ کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ خالی خزانے کا ہے اور مالی امور کے لیے صوبے کا مکمل انحصار وفاق پر ہے، امکان ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اپنی ملاقات میں وزیراعظم سے بجلی کے منافع کی مد میں بقایاجات کی ادائیگی کا معاملہ بھی اٹھائیں گے۔

ورکنگ ریلیشن مضبوط کرنے کی کوشش ؟

تجزیہ کارفداعدیل کے مطابق علی امین گنڈاپور وفاق سے ورکنگ ریلیشن مضبوط کرنے کے ساتھ سیاسی معاملات کو الگ رکھنے کی کوشش کریں گے۔ علی امین کے پاس دو عہدے ہیں، وہ وزیراعلیٰ ہونے کے ساتھ ساتھ پارٹی کے صوبائی صدر بھی ہیں۔

’بحیثیت وزیراعلیٰ سرکاری معاملات کو چلانے کے ساتھ ساتھ انہیں کارکنوں کا خیال بھی رکھنا ہو گا، جس کے لیے سیاسی بیان بازی بھی ضروری ہے، جلسے اور میڈیا کے سامنے ’ساڈا حق ایتھے رکھ‘ کا بیان تو دیں گے لیکن آج وزیراعظم کے سامنے شاید لہجہ نرم اپنانا ان کی مجبوری ہوگی۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کے نائیکوپ فعال، ویزے کا بھی کوئی مسئلہ نہیں، تحریک انصاف کا منفی پروپیگنڈا بے نقاب

دیامیر بھاشا ڈیم کا 4500 میگاواٹ بجلی منصوبہ منسوخ نہیں ہوا، وزارتِ اقتصادی امور نے گمراہ کن دعوؤں کو مسترد کردیا

جنوبی خیبر پختونخوا میں ریاستی رِٹ کی بحالی، متوازی طاقت کے مراکز کے خلاف فیصلہ کن کارروائی

’دنیا کے رنگ نرالے‘ امریکا میں روبوٹ ویٹر نے بھی ٹِپ مانگ لی

ایلینز کی تلاش میں انسان کا سب سے بڑا قدم، دنیا کی طاقتور ترین دوربین کی تیاری جاری

ویڈیو

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں