کراچی میں انوکھے چور سرگرم، درجنوں گھر گیس میٹر اور پائپوں سے محروم

جمعرات 16 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں چوی کی ایک انوکھی واردات رپورٹ ہوئی ہے جس میں چور راتوں رات اپنا کام دکھا گئے اور کسی کو کان و کان خبر تک نہ ہوئی تاہم جب مکینوں کو پتا چلا تو اس وقت تک صبح اور دیر دونوں ہوچکی تھیں۔

علاقہ مکینوں کو واردات کا پتا اس وقت چلا جب متاثرہ گھروں کی خواتین ناشتہ بنانے باورچی خانے میں داخل ہوئیں لیکن چولہے تھے کہ جل کر ہی نہیں دے رہے تھے جس پر انہوں نے اپنے مردوں کی ڈیوٹی لگائی کہ دریافت کیا جائے ماجرا کیا ہے۔ اس پر مرد تفتیش کرنے گھر سے نکلے تو ان پر عقدہ کھلا کہ ان کے گھروں کے گیس میٹرز ہی غائب ہیں جبکہ پائپ بھی کہیں دکھائی نہیں دے رہے۔

یہ واقعہ ہے آج سے 20 روز قبل کا جب سرجانی ٹاؤن کے علاقے میں بیک وقت 5 گلیوں سے 27 گیس میٹر چوری کر لیے گئے۔ چوروں نے محض میٹرز پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ پائپ بھی ساتھ ہی لے گئے۔

متاثرہ گلیوں میں بیک وقت یہ کارروائی ہوتی رہی اور چوروں نے اطمینان سے مطلوبہ میٹرز نکالے لیکن اس وقت کسی کو کوئی بھنک نہ پڑی۔

علاقہ مکین محمد شریف نے وی نیوز کو بتایا کہ ایک رات میں 27 میٹر چوری ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق 5 گلیوں میں گنتی کرنے کے بعد پتا چلا کہ 27 میٹر چلے گئے ہیں۔ متاثرہ مکینوں میں سے کچھ نے پولیس میں رپورٹ بھی درج کرائی ہے۔

محمد شریف کہتے ہیں کسی کو کان و کان خبر ہی نہ ہوئی اور ایک ہی رات میں اتنی بڑی واردات ہو گئی۔ ان کے مطابق جو میٹر کھل سکتا تھا کھول لیا گیا اور باقی توڑ کر لے جائے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب میٹر کے بغیر لوگوں نے ڈائریکٹ پائپ لگائے ہیں جبکہ گیس فراہم کرنے والی کمپنی کے اہلکار آکر میٹروں سے عاری جگہوں کی تصاویر لے کر چلے گئے ہیں لیکن انہوں نے اس فوٹو سیشن کے علاوہ اب تک کچھ نہیں کیا ہے۔

محمد شریف کہتے ہیں کہ تھانہ منگھوپیر میں میٹر چوری کی ایف آئی آر درج ہے لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی جبکہ علاقہ مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ارد گرد کے تمام کباڑیوں سے بھی دریافت کر لیا ہے لیکن میٹر اور پائپوں کا کہیں کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟