جسم فروشی نہیں خریداری کو جرم قرار دیا جائے، اقوام متحدہ کی اطلاع کار کا مطالبہ

بدھ 26 جون 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کی خصوصی اطلاع کار ریم السالم نے کہا کہ خواتین پر بڑھتے ہوئے تشدد، جنسی استحصال اور بدسلوکی کا سبب جسم فروشی کو فروغ دینا ہے، اس نظام کے باعث خواتین اور لڑکیاں ترقی سے محروم اور غربت کا شکار ہو جاتی ہیں۔

ریم السالم نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو پیش کردہ اپنی رپورٹ میں بتایا کہ جسم فروشی خواتین اور لڑکیوں کو ترقی کرنے اور آگے بڑھنے سے روکتی ہے، کیونکہ وہ محض اشیائے ضرورت کے حصول کی جدوجہد تک محدود ہوجاتی ہیں۔

’جسم فروشی تفریق و تشدد کے ایسے نظام کو دوام دیتی ہے جس سے ان کی مساوی حقوق کے حصول کی اہلیت کو نقصان پہنچتا ہے‘۔

ریم السالم نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ پدر شاہانہ رواج، معاشی عدم مساوات اور عالمگیریت جیسے عوامل جسم فروشی کے پھیلاؤ کا باعث بنتے ہیں۔ بنیادی نوعیت کی عدم مساوات زیادہ تر خواتین اور لڑکیوں کو ہی نقصان پہنچاتی ہے اور اس پر قابو پایا جانا ضروری ہے۔

انہوں نے اپنی رپورٹ میں جسم فروشی کے ساتھ منسلک انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا خاص طور پر تذکرہ کیا ہے۔ ان میں جسمانی، نفسیاتی اور معاشی تشدد بھی شامل ہے۔

’جسم فروشی کا نتیجہ تشدد، غیرانسانی و توہین آمیز سلوک اور جنسی استحصال ہے، اس سے تحفظ، وقار، اچھی صحت، نقل و حرکت کی آزادی اور خاندان بنانے کے بنیادی حقوق بھی متاثر ہوتے ہیں‘۔

رپورٹ کے مطابق، جسم فروشی غربت کو جنسی و نسلی رنگ دیتی ہے اور خاص طور پر پسماندہ خواتین اس کا ہدف بنتی ہیں۔ ریم السالم نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کیا کہ اس عمل نے خواتین اور لڑکیوں کے خلاف منظم تشدد کو معمول کی چیز بنا دیا ہے۔

’اس سے باہمی رضامندی سے ہونے والے جنسی عمل اور جنسی تشدد کے مابین امتیاز بھی ماند پڑ گیا ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پورنوگرافی اور جسم فروشی کو معمولی سمجھنا ہی سب سے بڑا نقصان ہے، اس کی وجہ سے عجیب و غریب جنسی توقعات جنم لیتی ہیں۔

’خاص طور پر بہت سی لڑکیاں پورنوگرافی میں خواتین کو جنسی کھلونے کے طور پر دکھائے جانے سے پریشانی محسوس کرتی ہیں‘۔

انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس فعل کو جرم قرار دینے کے بجائے۔ ان لڑکیوں اور خواتین کو متاثرین سمجھیں، اور جنسی افعال کی خریداری، اسمگلنگ اور دلالی کو جرم قرار دیتے ہوئے سخت اقدامات کیے جائیں۔

واضح رہے انہوں نے اپنی رپورٹ میں جسم فروشی اور اس سے جڑے محرکات کو حساس معاملہ قرار دیا، اور اس کی شکار متاثرہ خواتین کے حقوق کی وکالت اور نئی نسل کی خواتین کو اس فعل سے بچانے کے لیے اقدامات کرنے پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے سے رکشہ ڈرائیوروں کی آمدن آدھی رہ گئی

ایل پی جی کی درآمد مسابقتی بنیادوں پر کھولنے کا فیصلہ کرلیا، چند افراد کا گٹھ جوڑ توڑ دیں گے، عطااللہ تارڑ

شاہ چارلس کی وراثت سے شہزادہ ہیری کو محروم کیے جانے کا خدشہ بڑھ گیا

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں سے متعلق آج پھر اچھی خبر ملے گی، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے خوشخبری سنا دی

بی وائی ڈی سی لائن ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی پیداوار اگلے ماہ سے شروع ہوجائے گی، حبکو

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا