تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

منگل 3 نومبر 2026
author image

آصف محمود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جب آپ سیاست میں آتے ہیں تو آپ کے فیصلے اور آپ کی پالیسیاں زیر بحث آتی ہیں۔ تعریف بھی ہوتی ہےاور تنقید بھی ہوتی ہے لیکن دیکھنے میں یہ آ رہا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی پر تنقید کی جائے تو ان کے کارکنان کی جانب سے ویسا  اشتعال انگیز  رد عمل نہیں آتا جیسا تحریک انصاف، جے یو آئی  اور جماعت اسلامی کے کارکنان کی جانب سے آ تا ہے۔  سوال یہ ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟

ایک ہی ملک میں، ایک ہی ماحول میں، ایک ہی جیسی سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے رویوں میں اتنا فرق کیوں ہے؟ ( یاد رہے کہ آج کےسوال کا تعلق قیادت سے نہیں، کارکنان کے رویوں سے ہے)۔

کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ  مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کارکنان سے محروم ہیں اور ان کی قیادت کا مقدمہ لڑنے واالا ہی کوئی نہیں جب کہ  تحریک انصاف ، جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے کارکنان کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اسی لیے ان کا رد عمل دکھائی زیادہ دیتا ہے؟

کیا معاملہ یہ ہے کہ  مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے کارکنان اپنی قیادت کی نیک نامی کے بارے میں حساس نہیں ہیں اور تحریک انصاف ، جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے کارکنان اپنی قیادت کی نیک نامی کے بارے میں بہت حساس بہت ہیں؟

کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سیاسی اختلاف کو معمول کی کارروائی سمجھتی ہیں جب کہ باقی 3 جماعتوں کے کارکنان  تنقید کو ناقابل معافی گستاخی سمجھ کر پل پڑتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

یا اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے کارکنان سیاسی طور پر زیادہ میچور ہیں اور باقی تین جماعتوں کے کارکنان اپنی اپنی قیادت کے بارے میں عقیدت کے آسیب کا شکار ہیں؟ کیا یہ برداشت اور سیاسی رویوں کاتٖضاد ہے؟ کیا اسے سیاست اور کلٹ کی مختلف صورتوں کا فرق سمجھا جائے؟ میں کئی دنوں سے سوچ رہا ہوں کہ معاملہ کیا ہے۔

تحریک انصاف ہو، جے یو آئی ہو یا جماعت اسلامی، ان پر کوئی تنقید کر بیٹھے تو گویا ایک قیامت سی ٹوٹ پڑتی ہے، تحریک انصاف کے وابستگان گندی اور غلیظ گالیوں سے حملہ آور ہوتے ہیں جب کہ جے یو آئی اور جماعت اسلامی والے اس حد تک غنیمت ہیں کہ غلیظ گالیاں نہیں دیتے البتہ شدت ان کے ہاں بھی وہی ہے ۔ ان کے کارکنان  تنقید کی جسارت کرنے والے گستاخ پر دھارا بول دیتے ہیں۔ ایک ہی لمحے میں  وہ گستاخ، ضمیر فروش،  بکاؤ، لفافہ، لادین اور دین کا دشمن قرار پاتا ہے۔ سوال وہی  ہے: ایسا کیوں ہے؟

کارکنان تو سبھی کے ہیں کسی کے کم کسی کے زیادہ۔ کم از کم اتنے تو سب کے پاس ہوں گے کہ سوشل میڈیا پر دوسروں کو گالم گلوچ سے زچ کر سکیں۔ اس لیے یہ شاید کارکنان کی تعداد کا معاملہ نہیں ہے۔ تحریک انصاف تو مقبول قومی جماعتوں میں سے ایک ہے لیکن جے یو آئی اور جماعت اسلامی؟ ان کے کتنے کارکنان ہوں گے؟ پھر یہ کہ سوشل میڈیا کو دوسرں کو لعن طعن کرنے کے لیے آخر کتنے کارکنان چاہیں؟ یعنی یہ معاملہ کارکنان کی تعداد کی کمی بیشی کا نہیں ہے۔ بات کچھ اور ہے۔

قیادت کی نیک نامی کے بارے  میں حساسیت کا کم یا زیادہ ہونا بھی قرین قیاس نہیں ہے۔ سبھی اسی سیاست کے کردار ہیں۔ عمران خان صاحب کو دیگر سیاسی حریفوں پر کون سی اخلاقی برتری حاصل ہے؟ ان کا نامہ اعمال کون سا دوسروں سے منور ہےا ور جنٓگنوو ں کی طرح دمک رہا ہے؟ دوسروں کی طرح بلکہ ان سے کریہہ الزامات ان کے دامن سے بھی لپٹے ہیں۔

مزید پڑھیے: 27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

جماعت اسلامی کی قیادت کو ایک اخلاقی برتری ضرور حاصل رہی ہے ۔ جے یو آئی کی قیادت بھی نسبتا بہتر رہی ہے لیکن مولانا  کا طرز سیاست خاندان کو مناصب سے نوازنے میں ایسا ہی رہا ہے جیسا باقی سیاست دانوں کا ہے۔ ان کے عزیز و اقربا پر بھی  مروجہ سیاست کے روایتی لطف و کرم ویسے ہی ہیں جیسے دوسروں پر ہیں۔ اخلاقی وجود کے بارے میں کسی حساسیت یا فضیلت کی کہانی  جناب  اسلم غوری صاحب کے الفاظ میں اگر یہ ہو کہ ’مولانا کے ذاتی معاملات پر بات نہ کریں ورنہ بات ایون فیلڈ تک جائے گی‘ تو کیسا فرق، کیسی فضیلت؟ جو فرق ہے حصہ بقدر جثہ کا فرق ہے۔

تو پھر رویوں میں اتنا فرق کیوں ہے؟ یہ معاملہ کیا ہے؟ جو وجوہات مجھے سمجھ میں آئی ہیں، وہ یہ ہیں :

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ سیاسی جماعتیں ہیں، اور ان کے کارکنان بھی ان کو سیاسی جماعتیں ہی سمجھتے ہیں۔ جب کہ تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی اپنی اپنی ذات میں قافلہ حق ہیں اور کارکنان کو بھی یہی باور کرایا گیا ہے کہ سچائی اور حق پر تو صرف ہم ہیں اور ہم پر تنقید اصل میں باطل قوتوں کی کوزہ گری ہے۔

پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے کارکنان کے نزدیک سیاست حق اور باطل کا میدان نہیں ہے۔ تحریک انصاف ، جے یو آئی اور جماعت اسلامی  کے نزدیک یہ خیرا ور شر کی جنگ ہے۔ اور ہر ایک کا دعویٰ ہے جو اس کے ساتھ نہیں ہے وہ شر کے ساتھ ہے۔

جس اس فلسفہ حیات کے ساتھ سیاست کی جاتی ہے کہ ہم ہی راہ حق پر ہیں باقی سب غلط ہیں، صرف ہمارا خان ہی سچا ہے باقی سب چور اچکے ہیں، صرف ہمارا قائد ہی دین کی خدمت کے لیے اس میدان میں ہے باقی تو سب چور ہیں، تو  پھر یہی رویہ جنم لیتا ہے کہ طرز سیاست کے کسی پہلو  پر تنقید کرنے والا باطل کی سیاہ قوتوں کا گماشتہ نظر آتا ہے۔  یہ رویہ چھوٹے چھوٹے کلٹ بناتا ہے۔ ہر کلٹ میں شدت ایک جیسی ہوتی ہے البتہ زبان و بیان میں اور اس کے اظہار میں اپنے اپنے فکری پس منظرا ور ذوق کے اعتبار سے فرق ہوتا ہے۔

ان رویوں نے سیاست پر معروضی تبصرے کو مشکل بنا دیا ہے۔ یہی کیفت رہی توآگے چل کر  یہ ناممکن ہو جائے گا۔ آج یہ سب خوش ہیں کہ اپنے ناقدین کا انہوں نے شافی علاج تلاش کر لیا ہے لیکن ان زہریلے رویوں کا آزار کل جب انہی سیاسی جماعتوں اپنی لپیٹ میں لے لے گا تب معلوم ہو گا کہ سودو زیاں کا گوشوارہ کیسا ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب اور بنگلہ دیش: خبر، حقیقت اور فتنہ

سیاست بند گلی سے راستے نکالتے کا نام ہے لیکن ہماری سیاست نے سماج کے راستوں میں دیواریں کھڑی کر دی ہیں اور رشتوں میں زہر گھول دیا ہے  ۔ ابولکلام آزاد نے کہا تھا: سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ وہ زندہ ہوتے تو دیکھتے کہ سیاست کی آنکھ میں حیا کی لو بھی مدھم  ہو رہی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شہباز شریف کا آئی کیو آئزک نیوٹن کے قریب، حذیفہ رحمان نے سوشل میڈیا پر پنڈورا باکس کھول دیا

انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر ایم کیو ایم پاکستان کو شوکاز، انتخابی نشان خطرے میں پڑگیا

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا دورہ اٹک، 23 ارب روپے کے 59 روڈز اور 127 میگا ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح

بالی ووڈ اداکار تشار کپور بھی بھتہ خوروں کے نشانے پر، 5 کروڑ روپے نہ دینے پر سنگین نتائج کی دھمکی

ٹرمپ اقتدار کے آخری مرحلے میں مزید جارحانہ ہوسکتے ہیں، تجزیہ کاروں کا انتباہ

ویڈیو

جھڈو کے 208 سرکاری اسکولوں میں صرف 270 اساتذہ: خستہ حال جھونپڑوں میں پڑھائی، والدین کا بااختیار انتظامی یونٹ کا مطالبہ

کشمور کے 12 لاکھ شہری پانی کی بوند بوند کو ترس گئے، کروڑوں روپوں کے فلٹر پلانٹس بند، نئے صوبے بنانے کا مطالبہ

وسطی بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کی نئی راہ، خضدار میں 2 ارب 84 کروڑ روپے سے جنرل یونیورسٹی قائم

کالم / تجزیہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا

عالمی انتخابات اور ٹرمپ کا پنوتی دست شفقت