حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر پابندی عائد کرنے اورعمران خان، عارف علوی اور قاسم سوری کے خلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔
پی ٹی آئی پر پابندی کے حکومتی فیصلے کے خلاف سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل دیا جا رہا ہے۔ صحافی صدیق جان نے اس پر اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پی ٹی آئی پر پابندی لگا نہیں سکتی اور فرض کریں اگر ایسا ہو بھی گیا تو سنی اتحاد کونسل اور ایم ڈبلیو ایم موجود ہیں، عمران خان سے ان کی جان نہیں چھوٹنے والی۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ حکومت پی ٹی آئی پر پابندی لگا نہیں سکتی ،فرض کریں پی ٹی آئی پر پابندی لگا بھی دیں تو سنی اتحاد کونسل اور ایم ڈبلیو ایم موجود ہیں 🤣
خان سے ان کی جان نہیں چھوٹنے والی 😎— Siddique Jan (@SdqJaan) July 15, 2024
سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ کسی جماعت پر پابندی لگا دینے سے اس جماعت کی قیادت کو ختم نہیں کیا جا سکتا، انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاریخ کا وہ سبق ہے جو پیپلز پارٹی کو سمجھ آ چکا ہے لیکن مسلم لیگ ن کو ابھی سمجھ نہیں آیا۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ کسی جماعت پر پابندی لگا دینے سے اس جماعت کی قیادت کو ختم نہیں کیا جا سکتا یہ تاریخ کا وہ سبق ہے جو پیپلز پارٹی کو سمجھ آ چکا ہے مسلم لیگ ن کو ابھی سمجھ نہیں آیا pic.twitter.com/1rV7HY9ury
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) July 15, 2024
ایم کیو ایم لندن کے رہنما مصطفیٰ عزیز آبادی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پر پابندی عائد کرنے جیسے فیصلوں سے سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں پر تو پابندی لگائی جاسکتی ہے لیکن عوامی سیاست ختم نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے مسلم لیگ ن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دامن پر ایک یہی داغ باقی تھا آج وہ بھی لگوالیا، ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ کیا عوام اس فیصلے کو مانیں گے؟
حکومت کا پی ٹی آئی پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ ۔ اس طرح کے فیصلوں سے سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں پر تو پابندی لگائی جاسکتی ہے لیکن کوئی عوامی سیاسی ختم نہیں ہوسکتی۔کیا عوام اس فیصلے کو مانیں گے؟
مسلم لیگ ن کے دامن پر ایک یہی داغ باقی تھا آج وہ بھی لگوالیا@PTIofficial @pmln_org pic.twitter.com/wiUOABOAXb— Mustafa Azizabadi (@azizabadi) July 15, 2024
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نعیم حیدر پنجوتھہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کی باتیں کرنے والے اپنی قبر کھودنے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا حکم سپریم کورٹ بھی صرف اس صورت میں جاری کر سکتی ہے جب کوئی جماعت پاکستان کے خلاف ہو اور ہماری جماعت چند اشخاص کی پالیسیوں کے خلاف ہے ملک کے خلاف نہیں۔
انہوں نے ن لیگ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کو ملک دشمن جماعت کہنا ن لیگ کی بے شرمی اور ڈھٹائی ہوسکتی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے، عمران خان پاکستان کی خودداری اور مضبوطی کے لیے ہی جیل میں قید ہیں۔
یہ پی ٹی آئی پر پابندی لگانی کی باتیں کرنے والوں،اپنی قبر گھودنے جارہے ہو،پہلے ہی تمہارے ظلم کی وجہ سے تمہیں لوگوں نے رجیکٹ کیا،قانونی طور پر بھی آئین پاکستان کے آرٹیکل 17(2) کے تحت صرف سپریم کورٹ حکم جاری کر سکتی ہے اور وہ اس صورت میں جو جماعت کسی پاکستان کے خلاف ہو ہماری جماعت… pic.twitter.com/tm6rSGZaoF
— Naeem Haider Panjutha (@NaeemPanjuthaa) July 15, 2024
ایک صارف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو ختم کرنے والے خود ختم ہو گئے، پی ٹی آئی ایک سوچ ہے اور سوچ کو نہ کوئی ختم کر سکتا ہے، نہ قید اور نہ ہی اس پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔
صارف نے ن لیگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پہلے یہ پی ٹی آئی کے ساتھ لڑ رہے تھےاور اب عدالتوں کے ساتھ لڑیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے پہلے پارٹی کو توڑا لیکن ہم الیکشن جیت گئے اور اب بھی ہم ہر حد تک جائیں گے۔
پی ٹی ائی کو ختم کرنے والے خود ختم ہو گئے پی ٹی ائی ایک سوچ ہے اور سوچ کو کوئی ختم نہیں کر سکتا ,
نہ قید کر سکتا ہے ۔۔۔
نہ اس پر پابندی لگا سکتا ہے۔۔۔۔ پی ٹی ائی کو ختم کرنے والے خود ختم ہو چکے ہیں جس طرح کا انہوں نے عوام دشمن بجٹ پیش کیا ہے ۔۔تم لوگوں نے پہلے بھی ظلم کیے پارٹی… pic.twitter.com/dPenNreB0Q
— Ch Iftikhar Rasul Ghumman (@IftikharGuman) July 15, 2024
نوشین نامی صارف نے پی ٹی آئی پر پابندی کے فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کی پریس کانفرنس تھی یا خیالی پلاؤ؟
تارڑ کی پریس کانفرنس تھی یا خیالی پلاؤ؟ #تحریک_انصاف_تو_ہوگی pic.twitter.com/LZk2xBXfLn
— Nausheen Peerwani (@NausheenPirwani) July 15, 2024
صحافی شہزاد اقبال نے کہا کہ جمہوری دور میں آمرانہ فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ ایک طرف معیشت کا برا حال ہے، عوام مہنگائی میں پس چکے ہیں مگر حکومت کا فوکس پی ٹی آئی پر پابندی لگانے، صنم جاوید اور عمران خان کو گرفتار کرنے پر ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی اصل لڑائی پی ٹی آئی سے نہیں عدلیہ سے ہے۔
جمہوری دور میں آمرانہ فیصلے۔
معیشت کا برا حال ہے، عوام مہنگائی میں پس چکے ہیں۔ مگر حکومت کا فوکس اس پر ہے کہ جماعت پر پابندی لگادو، صنم جاوید کو گرفتار کرلو،عمران ایک کیس میں رہا ہوں تو پھر گرفتار کرلو-
حکومت کی اصل لڑائ اب پی ٹی آئ سے نہیں عدلیہ سے ہے— Shahzad Iqbal (@ShahzadIqbalGEO) July 15, 2024
پی ٹی آئی کے رہنما علی محمد خان نے ن لیگ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف پر پابندی لگانے کی کوشش کر کے دیکھ لو، اللہ اور قوم ہمارے ساتھ ہے۔
کوشش کر کے دیکھ لو ہمارا اللّٰہ اور ہماری قوم ہمارے ساتھ ہے !!!
— Ali Muhammad Khan (@Ali_MuhammadPTI) July 15, 2024














