کراچی میں سرکاری گاڑی کی ٹکر سے شہری کی ہلاکت، گاڑی کس کی تھی؟

اتوار 28 جولائی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کے علاقے ڈیفنس میں گزشتہ روز سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑی کی ٹکر سے شہری کے جاں بحق ہونے کا واقعہ سامنے آیا، جس کا مقدمہ اہلخانہ کی مدعیت میں درج کرلیا گیا۔

پولیس کے مطابق تیز رفتار سرکاری گاڑی میں لڑکا اور لڑکی سوار تھے، تیزرفتار گاڑی نے دوسری گاڑی کو ٹکر ماری پھر بنگلے کی دیوار سے ٹکرائی، اور گاڑی کے ٹکرانے سے بنگلے کی دیوار بھی گر گئی تھی، تاہم تحقیقات میں سرکاری گاڑی کا ریکارڈ سامنے نہیں آسکا۔

یہ بھی پڑھیں وزیراعلیٰ پنجاب کی سرکاری گاڑی کے نئے ٹائروں پر 2 کروڑ 73 لاکھ روپے صرف ہوں گے

محکمہ ایکسائز کے ذرائع کے مطابق سرکاری گاڑی بلوچستان حکومت کی ہے، اور گاڑی کے غلط استعمال پر محکمہ پبلک ہیلتھ بلوچستان کے ایکسیئن کو معطل کردیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق کراچی کےعلاقے ڈیفنس میں حادثے میں متاثرہ کار کا نمبر بلوچستان حکومت کے انجینیئر کو الاٹ کیا گیا تھا، محکمہ پبلک ہیلتھ انجینیئرنگ کےایکسیئن امتیاز احمد بطور پراجیکٹ ڈائریکٹر میڈیکل کالج نصیرآباد میں تعینات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں اسمگلنگ کے لیے سرکاری گاڑی استعمال کرنے والا ملازم معطل

ذرائع نے بتایا کہ یہ نمبر کار تھا مگر استعمال دوسری گاڑی پر کیا گیا، حکومت نے انجینیئر امتیاز احمد کو معطل کرکے مزید تحقیقات شروع کردی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کراچی: سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، بی ایل اے کے اہم کمانڈر سمیت 4 دہشتگرد ہلاک

پنڈی گھیب حملہ کیس: سزائے موت کالعدم، ملزمان کو فوری رہا کرنے کا حکم

عمران خان کے بیٹوں کو فوری ملاقات کی اجازت دی جائے، جمائمہ خان کی شہباز شریف سے اپیل

سلمان علی آغا کے متنازع رن آؤٹ پر ایم سی سی نے وضاحت جاری کردی

ایپل نے دوسری جنریشن کے ایئرپوڈز میکس 549 ڈالر میں متعارف کرا دیے

ویڈیو

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگے اسٹالز موجود ہیں

وی ایکسکلوسیو: نیو ورلڈ آرڈر کے بعد اگر ہم فیصلوں کی میز پر نہ ہوئے تو فیصلوں کا شکار ہو جائیں گے، خرم دستگیر

کیا آپ کی غلطیاں آپ کو جینے نہیں دے رہیں، دل کو ری سیٹ کیسے کریں؟

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا