ملک میں نیا کالا قانون بنا کر پوری اسمبلی کو ایک ’ایس ایچ او‘ کے تابع کردیا گیا، شاہد خاقان عباسی

بدھ 11 ستمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق وزیراعظم اورپاکستان عوام پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ایک جلسے کو روکنے کے لیے ملک میں ’کالے قوانین‘ بنائے جا رہے ہیں، پوری اسمبلی کو ایک ایس ایچ او کے تابع کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آرمی چیف کو ایکسٹینشن دینے سے ملک کو نقصان ہوتا ہے، شاہد خاقان عباسی

بدھ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اسلام آباد جلسے جلوسوں کے لیے نیا ایکٹ پاس کیا گیا ہے جس کے اختیارات انتظامیہ اور مجسٹریٹ اور پھر وزیر داخلہ کو دیے گئے ہیں، ملک میں اس قانون کی ضرورت نہیں تھی، ملک میں پہلے ہی ایسے قوانین موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ عوامی اجتماع روکنے کے لیے پہلے ہی کئی قوانین موجود ہیں،ایک جلسے کی وجہ سے پورے اسلام آباد کو بند کردیا گیا اور کالے قوانین بنائے گئے۔ ہماری بد نصیبی ہے کہ آج نہ جمہوریت، نہ عوام اور نہ ملک کی مشکلات کی بات کی جا رہی ہے بلکہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی نفی میں قوانین بنائے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:جہاں الیکشن چوری ہوتے ہیں وہاں سیاسی استحکام نہیں آتا، شاہد خاقان عباسی

سنگجانی میں پی ٹی آئی جلسہ کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا کہ بد نصیبی ہے کہ ایک جلسہ کو روکنے کے لیے پورے اسلام آباد کو بند کر دیا گیا، اس کے بعد ممبران اسمبلی کی جو اور جس طرح گرفتاریاں کی گئیں وہ درست نہیں ہے، اسپیکر کو اس کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے، دیکھنا چاہتا ہوں کہ اسپیکر گرفتار ارکان کے پروڈکشن آرڈ ر پرکیسے عمل کراتے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا  کہ یہ ہمارے ملک کی حالت ہے کہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے اور ایک جلسے کو روکنے کے لیے آپ نے پورا قانون بنا لیا۔

ایک ایسا قانون بنا دیا گیا جس میں پارلیمنٹیریئنز خود کو ایک ڈی سی اور ایس ایچ او کے تابع کر رہے ہیں، ایک جلسے کے لیے اپوزیشن سے خائف ہو کر کالے قوانین بنائے جا رہے ہیں ، آج صورت حال یہ ہے تو کل کو ایک ایس ایچ او پکڑ کر آپ کو تفتیش کے لیے لے جائے گا، ایک سیاستدان ایسا خود کر رہے ہیں تو کل کو یہ ملک کیسے چلے گا۔

یہ بھی پڑھیں:جنرل باجوہ کی جانب سے مارشل لا کی دھمکی دینے کی بات درست نہیں، شاہد خاقان عباسی

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک قانون کی تشریح کی ہے، قانون نہیں بنایا،  چیف جسٹس اپنی مدت ملازمت میں توسیع سےانکار کر کے تاریخ میں اپنا نام لکھوا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جلسہ کے دوران جو تقاریر ہوئی اس میں عوام کی بات کسی نے بھی نہیں کی، پورے جلسے کے دوران صرف ایک دوسرے پر الزامات اور گالم گلوچ کی گئی، جو الفاظ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے استعمال کیے وہ کسی کو زیب نہیں دیتے، ان کی مذمت نہ ہو تو جمہوریت کا حق ادا نہیں ہوتا۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ جب آپ ایک ذمہ دار آئینی عہدے پر ہوں تو جو بھی لفظ آپ بولتے ہیں وہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے، لوگ دیکھتے ہیں اور یہ آپ کی جماعت کی عکاسی کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کی بھارت کیخلاف سنسنی خیز فتح، ایف 2 ڈبل وکٹ سیمی فائنل میں جگہ بنالی

ڈونلڈ ٹرمپ اور میلانیا ٹرمپ کی شادی کی 21ویں سالگرہ، وائٹ ہاؤس کی مبارکباد

فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کا جلد پاکستان کے دورے کا اعلان

خیبرپختونخوا: مصنوعی ذہانت کے جدید ترین کیمروں سے لیس سیف سٹی منصوبہ، کیا قیامِ امن میں مدد ملے گی؟

کوئٹہ اور بالائی اضلاع میں برفباری کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟

ویڈیو

کوئٹہ اور بالائی اضلاع میں برفباری کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟

چکوال کی سائرہ امجد کا منفرد آرٹ: اسٹیل وول اور ایکرلیک سے فطرت کی عکاسی

وی ایکسکلوسیو: پی ٹی آئی دہشتگردوں کا سیاسی ونگ ہے اسی لیے اس پر حملے نہیں ہوتے، ثمر بلور

کالم / تجزیہ

کیمرے کا نشہ

امریکی خطرناک ہتھیار جس نے دیگر سپرپاورز کو ہلا دیاٖ

گل پلازہ کی آگ سے بننے والے دائرے