شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس، ایرانی صدر شرکت نہیں کریں گے

جمعہ 11 اکتوبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان شریک نہیں ہوں گے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان کے اجلاس میں  ایران کا اعلیٰ سطحی وفد شرکت کرے گا۔ ایرانی وفد کی قیادت ایران کےاول نائب صدر کریں گے۔

ایرانی نائب صدر اوّل ڈاکٹر محمد رضا عارف کی وفد کے ہمراہ 15 اکتوبر کو آمد متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیے شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس، پاکستان کے چیلنجز اور مواقع

ایرانی نائب صدر ایس سی او سربراہان مملکت اجلاس کی سائیڈ لائنز پر پاکستانی قیادت سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں پاک ایران تعلقات، خطے کی صورتحال، غزہ و لبنان کی صورتحال پر بھی بات چیت متوقع ہے۔

ڈاکٹر رضا محمد عارف مغرب سے تعلیم یافتہ انجینیئر اور اصلاح پسند رہنما ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں کیا ہوگا، یہ پاکستان کے لیے کتنا اہم ہے؟

واضح رہے کہ پاکستان 15-16 اکتوبر کو شنگھائی تعاون تنظیم کے اہم سربراہی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ یہ اجلاس دارالحکومت اسلام آباد میں ہوگا، جس میں دنیا کے مختلف ممالک کے مندوبین شرکت کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان میں بدامنی کی وجہ صرف معاشی مسائل نہیں، پروپیگنڈے نے حقائق کو مسخ کیا

عمران خان کی سزا معطل کرکے ضمانت پر رہا کیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

ایپسٹین کی موت کی وجہ خودکشی کے بجائے قتل ہے، پوسٹ مارٹم کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر کا دعویٰ

ٹی20 ورلڈ کپ: بھارت میں پاکستانی اسپنر کا خوف، سابق کرکٹر نے اپنی ٹیم کو اہم مشورہ دیدیا

محمد یونس کی طارق رحمان کو مبارکباد، بی این پی کی جیت کو تاریخی قرار دیا

ویڈیو

’ویلنٹائن ڈے کو اپنی اقدار کے مطابق منا کر نکاح کو آسان بنانا ہوگا‘

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟