بلوچستان میں بدامنی کی وجہ صرف معاشی مسائل نہیں، پروپیگنڈے نے حقائق کو مسخ کیا

ہفتہ 14 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان میں بدامنی صرف معاشی مسائل کی وجہ سے نہیں، اگرچہ کچھ علاقوں میں شرح خواندگی کم ہے اور نوجوانوں میں بے روزگاری 25 فیصد سے زیادہ ہے، لیکن دہائیوں پر محیط علیحدگی پسندانہ پروپیگنڈا کی وجہ سے نوجوان عسکری گروپوں کی طرف گئے۔

تاریخی طور پر صوبے کا قریباً 77 فیصد رقبہ رضاکارانہ طور پر پاکستان میں شامل ہوا، صرف قلات نے ابتدا میں مخالفت کی۔ تاہم بار بار ہونے والے پروپیگنڈے نے اس حقیقت کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔

اگرچہ ریاست نے اسکولوں، فنی تربیتی پروگراموں اور سی پیک سے جڑے ترقیاتی منصوبوں کو بڑھایا ہے، لیکن صرف معاشی اقدامات ہی ایسے تصوری تصادم کو حل نہیں کر سکتے۔

بلوچستان میں استحکام کے لیے ترقی کو اسٹریٹجک کمیونیکیشن، شہری شمولیت اور شفاف حکمرانی کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔

ایسے علاقے جہاں ریاست مخالف بیانیے زیادہ پھیلائے گئے، عسکری گروپوں میں بھرتی کے امکانات 60 فیصد تک زیادہ ہیں، بمقابلہ ان علاقوں کے جہاں شہری شمولیت کے پروگرام چلائے جاتے ہیں۔

ریاستی پروگراموں کے تحت 1200 سے زیادہ اسکول اور 30 ہزار سے زیادہ نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کر کے شمولیت کے لیے عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔

حکومت کی واضح جواب دہی اور شمولیتی حکمرانی اعتماد کو بڑھاتی ہے، عسکری گروپوں کی کشش کم کرتی ہے اور مقامی نوجوانوں کو بااختیار بناتی ہے۔

بلوچستان کے مسائل علمی، معاشرتی اور معاشی ہیں، صرف ریاست مرکزیت کے جامع نقطہ نظر سے ہی اعتماد اور عسکریت پسندی کے چکروں کو توڑا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟