کیا ناپید ہونے والا تسمانیئن ٹائیگر دوبارہ زندہ کیا جاسکے گا؟

جمعہ 18 اکتوبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں تسمانیئن ٹائیگر کو معدومیت سے واپس لانے میں اہم کامیابی ملی ہے۔

تسمانیئن ٹائیگر ایک بھیڑیا نما جانور ہے جو کبھی تسمانیہ کے جنگلوں میں آزاد گھومتا تھا اور بیسویں صدی میں معدوم ہوگیا تھا، تاہم امریکا اور آسٹریلیا کے محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ  اس ٹائیگر کو کلوننگ کے ذریعے معدومیت سے واپس زندگی کی طرف لایا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جی ٹی روڈ کنارے: برگد کا مردہ درخت دوبارہ زندہ ہو گیا

آخری تسمانیئن ٹائیگر کی موت 1936 میں ہوبارٹ کے چڑیا گھر میں ہوئی تھی، تسمانیہ کی بڑھتی ہوئی مویشیوں کی صنعت کو بچانے کے لیے اس ٹائیگر کا بڑے پیمانے پر شکار کیا گیا، اب اس ٹائیگر کو معدومیت سے واپس لانے کے لیے سائنسدانوں نے کوششیں شروع کردی ہیں۔

دیلاس میں قائم کمپنی کولوسل بائیو سائنسز کے مطابق تسمانیئن ٹائیگر کو دوبارہ زندگی دینے کے لیے کوششیں جاری ہیں، اس سے قبل کلوسل بائیو سائنس نے اونی میمتھس (اونی ہاتھی)  اور یہاں تک کہ ڈوڈو(بھدا سا پرندہ جو جزائر ماریشس ’بحرہند‘ میں پایا جاتا تھا، جسے انسان نے شکار کرکے صفحہ ہستی سے مٹادیا تھا) کو بھی واپس لانے کے لیے جین ایڈیٹنگ اور تولیدی حیاتیات میں جدید ترین پیشرفت کو استعمال کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سائنسدانوں نے پتھر کے دور کا ’میگا اسٹرکچر‘ دریافت کر لیا

کولسل بائیو سائنس کے چیف آفیسر بیتھ شاپیرو کے مطابق ’ہمارے نئے حوالہ جینوم کے لیے استعمال ہونے والے تسمانیئن ٹائیگر کے نمونے ان بہترین محفوظ قدیم نمونوں میں سے ہیں جن کے ساتھ میری ٹیم نے کام کیا ہے، ایسا نمونہ ہونا نایاب ہے جو آپ کو قدیم ڈی این اے سے اس کی نسل کو دوبارہ پیدا کرتا ہو’

طویل عرصے سے معدوم انواع کے جینیاتی کوڈ کی تشکیل نو کی زیادہ تر کوششیں اس حقیقت کی وجہ سے ناکام ہوجاتی ہیں کہ ڈی این اے نازک ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ٹوٹ جاتا ہے لیکن میلبورن کے ایک عجائب گھر میں الکوحل میں محفوظ ایک 108 سال پرانے نمونے سے ٹیم کو تھیلاسین (تسمانیئن ٹائیگر) کے ڈی این اے کی ترتیب درست حالت میں مل سکتی ہے، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ اس کا ڈی اینے 99.9 فیصد اصل ہے۔

یہاں تک کہ سائنسدان ان نمونوں سے ڈی این اے سے بھی زیادہ نازک آر این اے مالیکیولز نکالنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سائنسدانوں نے آکلینڈ اسپتال میں’ انجیوڈیما ‘ کا کامیاب علاج ڈھونڈ لیا

میلبورن یونیورسٹی کے پروفیسر اینڈریو پاسک نے کہا کہ اس بات پر بھی تحقیق جاری ہے کہ نئے پیدا ہونے والے تسمانیئن ٹائیگر کیا کھا سکتا ہے، اس کی زبان کا ذائقہ کیا ہوسکتا ہے، یہ کیا سونگھ سکتا ہے، اس کی بصارت کیسی ہے اور یہاں تک کہ اس کا دماغ کیسے کام کرتا ہے۔

پروفیسر اینڈریو پاسک کے مطابق ماہرین کی معدوم جانور کے جینز کو قریب ترین زندہ رشتہ دار میں موافقت کرتے ہیں، تسمانیئن ٹائیگر کے جین کا اصل ہونا اسے دوبارہ زندہ کرنے کی طرف ایک قدم ہے۔

سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ انسانوں میں استعمال ہونے والی تکنیکوں کی طرح انہوں نے لیبارٹری میں اگائے جانے والے ڈنارٹ خلیوں میں 300 سے زیادہ تھائیلسین سے ماخوذ جینیاتی ’ترامیم‘ کی ہیں اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کس طرح چھوٹے مرسوپیئل میں بیضے پیدا کرنا ہے اور اس کے رحم سے باہر اس کے ایمبریو کو بڑھانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سانحہ پمز، بچوں کو کیوں نہ بچایا جا سکا؟، تحقیقاتی کمیٹی نے 11 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کردی

خیبر پختونخوا: بنوں اور لکی مروت میں پولیس امن کمیٹی کا منصوبہ ناکام

امریکا میں سندھ طاس معاہدے پر عالمی سیمینار، بھارتی اقدامات خطے کی سلامتی کے لیے خطرناک قرار

روزگار، تعلیم، صحت اور ڈیجیٹل معیشت، افتخار گیلانی کا آزاد کشمیر کی ترقی کے لیے روڈ میپ سامنے آگیا

گل پلازہ سانحہ: جوڈیشل کمیشن کی 78 صفحات پر مشتمل رپورٹ منظرعام پر آگئی، اہم انکشافات

ویڈیو

ہمارا نظامِ صحت سڑ چکا، سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ سے تمام حقائق سامنے آجائیں گے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کراچی پاسپورٹ آفس اور ایئرپورٹ کا دورہ، سہولیات میں اضافے کا اعلان

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں