بہت ساری چیزیں ساتھ چل رہی ہیں!

ہفتہ 19 اکتوبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

’کابینہ کااجلاس کئی بار ملتوی ہو چکا ہے کیونکہ یہ پتا ہی نہیں کہ آئینی ترمیم کا مسودہ مسلم لیگ ن کا منظور کریں یا پیپلز پارٹی کا کیونکہ جمعہ کو جس مسودے پر اتفاق ہُوا، اُس پر اگر مکمل اتفاق ہوتا تو کابینہ سے منظوری مل جاتی‘۔

’اگر بلاول کی کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں تو مسلم لیگ ن کا مسودہ آجائے گا، جس کی پوری شقوں پر خود پیپلز پارٹی راضی نہیں، لیکن پھر معاملہ 19 ویں ترمیم کی طرح کہیں اور سے طے ہو اور سب کے کان پکڑ کے منظور بھی کروا لیا جائے جو کہ ’وہ‘ خود بھی نہیں چاہتے بلکہ مجھے نہیں لگتا کہ ’وہ‘ ایسا کریں گے‘۔

یہی وجہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری اب نئے پلان کے تحت پاکستان تحریک انصاف کو بھی ساتھ ملانا چاہا رہے ہیں اور پابندی کے باوجود خیر سگالی کے طور پر پی ٹی آئی کے 5 رکنی وفد کی عمران خان سے ملاقات بھی کروا دی۔

’وفد عمران خان کو سمجھائے گا کہ مان جاؤ ورنہ آگے اور مشکل دن آرہے ہیں اور اگر 10 دن کی قید تنہائی اور بہنوں کی گرفتاری کے بعد عمران خان کے سر سے ’سریا‘ نکل گیا ہو تو وہ مان جائیں اور یوں ایک متفقہ ترمیم آجائے جو ایک بہت ہی بڑا معجزہ ہوگا‘۔

مولانا فضل الرحمان کے قاضی فائز عیسیٰ سے بغض اور ہٹ دھرمی کے باوجود بلاول بھٹو زرداری پھر مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے لیے چلے گئے، جہاں اب اختر مینگل بھی آن بورڈ ہیں۔ مولانا فضل الرحمان بارگیننگ پوزیشن پر نہیں رہے اور یہ اب انہیں بھی پتا ہے۔

اختر مینگل اپنے دونوں سینیٹرز کی واپسی کی بات کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ مولانافضل الرحمان کے اپنے بندے ٹوٹ گئے ہیں اور اگر افہام و تفہیم سے ترمیم نہیں آئی تو پھر اسی طریقے سے آئے گی جس کا کل بلاول بھٹو نے ذکر کیا اور وہاں پھر پیپلز پارٹی بھی ڈرائیونگ سیٹ پر نہیں ہوگی۔

لیکن فی الحال حکومت کے پاس نمبرز پورے نہیں اور سارے نمبری صرف 2 نمبر طریقے سے ہی ساتھ ہوں گے ’اگر ایک نمبر والی بات ناکام ہوجائے تو‘۔

بہر صورت اگر کسی بھی صورت یہ آئینی ترمیم آگئی تو اس پورے ’ساگا ‘ کا ہیرو بلاول بھٹو زرداری ہوں گے جو نئے وزیراعظم کے لیے اپنا سی وی ’مقتدرہ‘ سے اَپروو کروا چکے ہیں۔

’مسلم لیگ ن کے وزرا بہت برے طریقے سے ناکام اور نااہل ثابت ہوئے ہیں۔ کمیٹی بھی خورشید شاہ چلا رہے تھے اور ’بلاول ڈپلومیسی‘ بھی صرف اور صرف پیپلز پارٹی کررہی ہے۔ تو وزیراعظم پھر بلاول کیوں نہ ہوں؟ یہ سوال آگے اُبھرے گا!

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری پاکستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے، وزیر خزانہ

پمز آتشزدگی: وزیراعظم کی بچے کو بچانے والی نرس کے لیے ستارہ خدمت اور ایک کروڑ روپے انعام کی منظوری

نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر بیرسٹر افتخار گیلانی کی شاہ غلام قادر سے اہم ملاقات، ناراضی ختم ہونے کا امکان

پمز سانحہ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 افسران معطل، وزیراعظم کا ذمہ داروں کے خلاف فوجداری کارروائی کا حکم

ہمارا نظامِ صحت سڑ چکا، سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ سے تمام حقائق سامنے آجائیں گے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

ویڈیو

ہمارا نظامِ صحت سڑ چکا، سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ سے تمام حقائق سامنے آجائیں گے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کراچی پاسپورٹ آفس اور ایئرپورٹ کا دورہ، سہولیات میں اضافے کا اعلان

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں