افغانستان میں مصنوعی منشیات کا استعمال کیوں بڑھ رہا ہے؟

ہفتہ 30 نومبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) کے مطابق افغانستان میں افیون کی پیداوار میں کمی کا رحجان برقرار ہے، تاہم کاشت کاروں کو متبادل زرعی مواقع مہیا نہ کیے گئے تو یہ کامیابی خطرے میں پڑ جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:افیون کی کاشت میں کس ملک نے افغانستان کو پیچھے چھوڑ دیا؟

طالبان حکمرانوں کی جانب سے ملک بھر میں منشیات پر کڑی پابندیوں کے باعث گزشتہ برس کی طرح رواں سال بھی ملک میں افیون کی پیداوار 2022 کے مقابلے میں 93 فیصد کم رہی۔ تاہم اس کمی کے نتیجے میں مصنوعی (لیبارٹری میں تیارکردہ) منشیات کی پیداوار اور استعمال میں اضافے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔

30 فیصد زیادہ افیون

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) کے مطابق رواں سال ملک میں 433 ٹن افیون پیدا ہوئی، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہے لیکن اس کے باوجود یہ 2 سال پہلے کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

12,800 ہیکٹر پر افیون کی پیداوار

’یو این او ڈی سی‘ کی جانب سے 6 نومبر کو جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال 12,800 ہیکٹر پر افیون پیدا کی گئی۔ اس کی قیمت تقریباً 260 ملین ڈالر تھی جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 130 فیصد زیادہ مگر 2022 میں پابندی سے پہلے کے عرصہ سے 80 فیصد کم ہے۔

مصنوعی منشیات کا خطرہ

ادارے نے افغانستان میں منشیات کے استعمال سے پیدا ہونے والے طبی مسائل پر قابو پانے کی صلاحیتوں اور وسائل پر اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی کے اشتراک سے بھی ایک جائزہ رپورٹ جاری کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں افیون کی غیرقانونی کاشت کیسے ہورہی ہے؟

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں منشیات کے عادی بیشتر افراد افیون اور ہیروئن استعمال کرتے ہیں تاہم میتھم فیٹامائن جیسی مصنوعی منشیات کے استعمال میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے عادی افراد کا علاج اور بھی مشکل کام ہے۔

خواتین مریضوں کی علاج معالجے تک محدود رسائی

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ منشیات کی لت کے علاج تک رسائی، اس مقصد کے لیے وسائل اور بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ملک کے 34 میں سے 32 صوبوں میں اس علاج کی سہولت موجود ہے لیکن خدمات کی فراہمی، ان تک رسائی کے حوالے سے مختلف علاقوں اور طبقات کے مابین نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ بالخصوص خواتین مریضوں کی علاج معالجے تک رسائی بہت محدود ہے۔

علاج گاہیں

ملک میں منشیات کے عادی افراد کی 82 علاج گاہوں میں سے صرف 17 صرف خواتین کے لیے مخصوص ہیں جو ایک تہائی سے کچھ زیادہ صوبوں میں واقع ہیں۔ جس کے باعث بہت سی خواتین کو ضروری علاج معالجہ اور دیکھ بھال میسر نہیں آتی۔

یہ بھی پڑھیں:طالبان کی پابندی کے باوجود افغانستان میں پوست کی کاشت میں کئی گنا اضافہ

علاوہ ازیں منشیات کی علاج گاہوں میں تربیت یافتہ عملے اور نیلوزون دوا سمیت ضروری سازوسامان کی بھی کمی ہے۔

متبادل زرعی مواقع کی ضرورت

ادارے کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر غادہ ولی نے کہا ہے کہ مسلسل دوسرے سال افیون کی کاشت اور پیداوار میں کمی مواقع کے ساتھ پیچیدہ مسائل کی عکاسی بھی کرتی ہے۔

عالمی برادری کو یہ یقینی بنانے کی کوششیں کرنا ہوں گی کہ افیون کی پیداوار میں کمی مصنوعی منشیات کی پیداوار میں اضافے کا سبب نہ بننے پائے۔

پوست کی کاشت پر انحصار

اس کے علاوہ پوست کی کاشت پر انحصار کرنے والی دیہی آبادی کو قانونی اور معاشی اعتبار سے فائدہ مند زرعی متبادل بھی دینا ہوں گے اور اس مقصد کے لیے بنیادی ڈھانچے، زرعی وسائل اور مستحکم روزگار پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

60 فیصد زیادہ آمدنی ہوتی ہے

انہوں نے بتایا ہے کہ رواں سال افغان کسانوں نے اس زمین پر پہلے سے بڑی مقدار میں اناج اور کپاس کاشت کی ہے جہاں کبھی پوست اگائی جاتی تھی۔ تاہم افیون کی کاشت سے کسانوں کو گندم کے مقابلے میں 60 فیصد زیادہ آمدنی ہوتی ہے۔جب تک انہیں منافع بخش اور قانونی متبادل نہیں ملیں گے تب تک معاشی مشکلات بعض کسانوں کو دوبارہ پوست کاشت کرنے پر مجبور کرتی رہیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:چترالی کاشتکاروں نے منشیات اگانے کی ٹھان لی، اصل وجہ کیا ہے؟

شمال مشرقی میں افیون کی کاشت

’یو این او ڈی سی‘ کے مطابق اب بیشتر افیون جنوب مغربی افغانستان کے بجائے ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں کاشت ہونے لگی ہے۔ رواں سال اس کی 2 تہائی پیداوار انہی علاقوں میں ہوئی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان مسائل پر قابو پانے کے لیے ملکی حکمرانوں اور عالمی برادری کے مابین ہنگامی بنیادوں پر تعاون ضروری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غزہ پر خاموشی قبول نہیں، اروندھتی رائے کا برلن فلم فیسٹیول میں شرکت سے انکار

ایم 9 موٹروے حادثہ: اموات کی تعداد 14 ہوگئی، 12 افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے نکلا

رواں سال ڈیڑھ لاکھ افغانوں کی وطن واپسی، افغانستان میں صورتحال سنگین

عمران خان کو نجی اسپتال میں داخل کرانے کا مطالبہ، حکومت کا ردعمل آگیا

ٹی20 ورلڈ کپ: محسن نقوی کا پاک بھارت میچ دیکھنے کے لیے سری لنکا جانے کا امکان

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟