مدارس بل پر دستخط نہ کرنا بدنیتی، اسلام آباد کی جانب مارچ کا فیصلہ کیا تو کوئی روک نہیں سکےگا، فضل الرحمان

اتوار 8 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ دینی مدارس کے بل پر دستخط نہ کرنا بدنیتی پر مبنی ہے، ہم مدارس کا ایک اجلاس بلا رہے ہیں، جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائےگا۔

پشاور میں ’اسرائیل مردہ باد‘ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کارکنوں سے وعدہ لیا کہ اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دینے کی صورت میں وہ تیار رہیں۔

یہ بھی پڑھیں مدارس بل پر مولانا فضل الرحمان کے تحفظات دور کیے جائیں، نواز شریف کی وزیراعظم کو ہدایت

مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ ہم موجودہ حکومتوں کو تسلیم نہیں کرتے، کیونکہ یہ اسٹیبلشمنٹ کی حکومتیں ہیں، ہم نے اگر اسلام آباد کی جانب بڑھنے کا فیصلہ کرلیا تو کوئی ہمیں روک نہیں سکے گا۔

انہوں نے کہاکہ حکومت 56 شقوں پر مشتمل جو آئینی ترمیم پاس کرنا چاہتی تھی اگر وہ پاس ہوجاتی تو نہ ملک بچتا اور نہ ادارے بچتے، لیکن ہم نے مشاورت کے ذریعے حکومت کو 34 شقوں سے دستبردار کرایا، اور پھر کچھ شقیں اپنی بھی شامل کیں جو سود اور وفاقی شرعی عدالت سے متعلق ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اس کے علاوہ مدارس کے حوالے سے ایک بل جو پہلے سے تیار تھا، اس پر حکومت سے اتفاق رائے ہوگیا، اور وہ دونوں ایوانوں سے پاس بھی ہوا لیکن صدر نے اس پر دستخط نہیں کیے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ آپ جانتے ہیں کہ ہم دینی مدارس میں سرکار کی مداخلت نہیں مانتے، مدارس آزاد حیثیت سے کام کریں گے۔

انہوں نے کہاکہ مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر ڈائریکٹوریٹ بنانے کا جو فیصلہ ہوا یہ معاہدے میں کہیں موجود نہیں تھا۔

سربراہ جے یو آئی نے کہاکہ ایک جرنیل جس شناختی کارڈ کی بنیاد پر پاکستانی ہے میں اور میرا کارکن بھی اسی کی بنیاد پر پاکستانی ہیں، ہم ملک کی بقا اور تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

فضل الرحمان نے کہاکہ ہماری اسٹیبلشمنٹ اور حکمرانوں نے ہمیشہ پاکستان کے نظریے کا انکار کیا، پاکستان ہمارے کچھ سرکاری محکموں کا نام نہیں، یہ ریاست عوام کی بنیاد پر ریاست کہلاتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ یہ سمجھتے ہیں کہ مولوی صاحبان تھک جائیں گے تو یہ ان کی بھول ہے، ہم جدوجہد جاری رکھیں گے اور یہ جنگ ہم ہی جیتیں گے۔

انہوں نے کہاکہ فلسطین میں مسلمانوں کا قتل عام ہورہا ہے لیکن مغربی دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، ان کو اب انسانی حقوق کی بات کرنے کا کوئی حق نہیں۔

انہوں نے کہاکہ اسرائیل فلسطینی مجاہدین کا مقابلہ نہیں کرسکتا، وہ معصوم اور بے بس مسلمانوں پر بمباری کررہا ہے، اس صورت حال میں ہم فلسطینی بھائیوں کے شانہ بشانہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں شہبازشریف کا مولانا فضل الرحمان کو ٹیلیفون، مدرسہ رجسٹریشن بل پر تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی

مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ حکمرانو زرا سوچو مودی تو ڈٹ کر کہتا ہے کہ ہم اسرائیل کے ساتھ ہیں، آپ کو فلسطینیوں کے حق میں کھل کر کھڑے ہونے کی جرات کیوں نہیں ہورہی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ثبوت نہ کوئی گواہ، پولیس نے شوہر کے قتل میں ملوث بیوی اور اس کے خاندان کو کیسے بے نقاب کیا؟

’پروجیکٹ فریڈم‘ کی عارضی معطلی خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سمت ایک اہم اور بروقت قدم ہے ، وزیر اعظم شہباز شریف

کراچی شدید گرمی کی لپیٹ میں: حکومتی اقدامات پر شہریوں کی رائے

کراچی میں شدید گرمی کی لہر: کن احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہیے؟

سونے کی قیمت میں حیران کن اضافہ، فی تولہ کتنا مہنگا ہوگیا؟

ویڈیو

کراچی شدید گرمی کی لپیٹ میں: حکومتی اقدامات پر شہریوں کی رائے

کراچی میں شدید گرمی کی لہر: کن احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہیے؟

معرکہ حق: بھارت اب پاکستان کی طرف دشمنی کی نظر سے دیکھنے کی ہمت نہیں کرے گا، اسلام آباد کے عوام کی رائے

کالم / تجزیہ

اگر مولانا فضل الرحمان اپوزیشن لیڈر ہوتے؟

انڈین بنگال میں ممتا بنرجی کو کیسے ہرایا گیا؟

ٹریل 5: فطرت، تنہائی اور خودکلامی