اگر مولانا فضل الرحمن اس وقت اپوزیشن لیڈر ہوتے تو کیا پاکستان تحریک انصاف کے مسائل کچھ کم نہ ہو چکے ہوتے؟ تحریک انصاف کو اس وقت جس نسخہ شفا کی ضرورت ہے وہ مولانا کے شفا خانے پر دستیاب ہے لیکن تحریک انصاف اسے یلدا حکیم، زلمے خلیل زاد، غیر ملکی اراکین پارلیمان اور لابسٹ کے دوا خانوں میں تلاش کر رہی ہے۔
تحریک انصاف کو اس وقت جوش جنون میں اندازہ نہیں ہے کہ وہ کھڑی کہاں ہے۔ اس کے ہاں خود احتسابی کا کوئی عمل نہیں ہے جو اسے بتا سکے کہ زمینی حقیقتیں کیا ہیں۔
پہلا مسئلہ تو یہ ہے کہ وہ قومی دھارے سے بہت تیزی سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ اس نے اپنے کارکنان کے اندر ایسا ردعمل نفرت اور اشتعال بھر دیا ہے کہ وہ حکومت اور ریاست کے فرق کو سمجھ ہی نہیں پا رہے اور ردعمل کی نفسیات میں وہ ہر اس بیانیے کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں جو ریاست مخالف ہو۔ یہ نہ صرف اس معاشرے بلکہ خود اپنے کارکنان کے ساتھ زیادتی ہے۔ کوئی سیاسی جماعت اپنے کارکنان کو اس انتہا تک نہیں لے جاتی جہاں تک تحریک انصاف لے گئی ہے۔
دوسرا مسئلہ قیادت کا رویہ ہے۔ اس کا یہ حال ہے کہ سب آتش فشاں ہیں۔ کوئی ایسا رہنما موجود ہی نہیں جو دیگر سیاست دانوں کے ساتھ بات کر سکے۔ یہ ہر وقت غیض و غضب کی حالت میں پائے جاتے ہیں اور ان کی نظر میں ان کے سوا سب چور ہیں۔ یہ مکالمے کی اہلیت ہی بھول چکے۔ بات کیسے آگے بڑھے۔ سیاست میں کبھی تیزی اور تنندی بھی ہوتی ہے لیکن یہ کیفیت اگر مسلسل ہی طاری رہنے لگے تو یہ اچھی علامت نہیں ہوتی۔
مزید پڑھیں: محمود اچکزئی صاحب، لطف آ رہا ہے؟
بالکل ایسے ہی جیسے آپ صرف فاسٹ باولرز سے میچ نہیں کھیل سکتے، آپ کو سپنر بھی چاہیے ہوتے ہیں اور میانداد جیسے دھیمے مزاج کے بلے باز بھی۔ تحریک انصاف کے پاس ایک تو سارے ہی فاسٹ باولر ہیں اور پر یہ باولر صرف باونسر پھینکا جانتے ہیں تاکہ اگلے کا جبڑا ٹوٹ جائے۔ اس حکمت عملی کے ساتھ میچ کا جو نتیجہ ہو سکتا ہے، وہی ہمارے سامنے ہے۔
تحریک انصاف کے ساتھ تیسرا بڑا مسئلہ یہ ہوا کہ یہ پارلیمانی امور سے لاتعلق ہو گئی۔ یہ پارلیمان میں متحرک رہتی اور کہیں حکومت کی مانتی، کہیں اپنی منواتی ، قائد حزب اختلاف کے لیے دستیاب آئینی گنجائش کو استعمال کرتے ہوئے پارلیمانی امور میں اپنے وجود کا احساس دلاتی تو بات آگے بڑھ سکتی تھی لیکن یہ ناراض ہو کر بیٹھ گئی اوراس نے حکومت کو واک اوور دے دیا۔ شروع شروع میں حکومت کو اس کی ضرورت محسوس ہوئی اور اسے اہم مواقع پر دعوت بھی دی جاتی رہی اور اسے راضی کرنے کے لیے وفود بھی بھیجے جاتے، لیکن جب اس نے فلسطین اور کشمیر جیسی اہم کاننفرنسوں میں شرکت سے انکار کیا تو اب کسی کو اس کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی۔ پارلیمان میں کام اس کے عدم تعاون کے بغیر بھی چل رہے ہیں۔ یہ ایک لیوریج کارڈ سے محروم ہو چکی۔ بلکہ یوں کہیے کہ اس نے خود کو اس سے خود ہی محروم کر لیا۔
اس کا چوتھا اور سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ نفسیاتی طور پر آج بھی 9 مئی کی سہہ پہر میں کھڑی ہے۔ اسے احساس ہی نہیں اس نے کیا کیا یا اس سے کیا کروایا گیا۔ اس نے آج تک نہیں سوچا کہ کن ہے جو اس کے فیصلوں کو سٹریٹجائز کر رہا ہے۔ یہ شہدا کی یادگاروں کی توہین پر آج تک شرمندگی کا اظہار بھی نہیں کر سکی۔ یہ اپنی حماقت کےا س بوجھ کو اتارنے کے لیے تیار ہی نہیں۔ اور زمینی حقیقت یہ ہے کہ 9 مئی کا بوجھ اتارے بغیر اس کے معاملات بہتر نہیں ہو سکتے۔
تحریک انصاف سے آخری بڑی غلطی یہ ہوئی کہ اس نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے لیے اپنے ہم مزاج اور ہم بیانیہ لوگوں کا انتخاب کر لیا۔ ہم مزاج لوگ ہی لانے تھے تو اپنی پارٹی سے ہی لے لیتے۔ اگر دوسری جماعت ہی کو یہ منصب دینا تھا تو پھر کچھ تو مختلف ہوتا جو پارٹی کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا۔
فرض کریں یہاں مولانا فضل الرحمان اپوزیشن لیڈر ہوتے تو منظر نامہ کیا ہوتا۔
مزید پڑھیے: مذاکرات میں پاکستان اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟
مولانا 9 مئی کی گرہ کھولنے میں کامیاب ہو چکے ہوتے۔ کامیاب نہ ہوتے تو تحریک انصاف کی تلخی کو معقولیت کے دائرے میں لانے میں مد گار ثابت ہو تے اور گرہ ڈھیلی ضرور کر چکے ہوتے۔
مولانا جس مزاج کے آدمی ہیں ، ایوان کا ماحول بھی بدل چکا ہوتا۔ اپوزیشن بھر پور طریقے سے اپنا آپ منوا رہی ہوتی۔ کچھ اہم امور پر وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر میں بامعنی مشاورت کے آئینی تقاضوں پر عمل شروع ہو چکا ہوتا اور اس اشتراک کار سے برف پگھلنا شروع ہو چکی ہوتی۔
پی ٹی آئی کے پاس ہیجان اور غیض و غصب کے سوا کچھ نہیں ہے۔ مولانا کی شکل میں انہیں دلیل کی قوت ملتی۔ ان کی بات شائستگی اور متانت سے کوئی کہنے والا ہوتا۔ اس کے ظاہر ہے کہ اپنے فوائد ہوتے۔
بطور اپوزیشن جو وزن مولانا کی بات میں ہے وہ آئینی ترمیم کے موقع پر سب دیکھ چکے۔ یہ حیثیت نہ اچکزئی صاحب کے پاس ہے نہ علامہ ناصر عباس کے پاس۔ مولانا کی اس قوت کو تحریک انصاف استعمال کر کے راستے ہموار کر سکتی تھی۔
مولانا کی صورت میں تحریک انصاف کو فیس سیونگ ملتی۔ اس نے اپنا پارٹی یوٹیوبرز کے حوالے کر رکھا ہے۔ قیادت سے بیانیہ نہیں آتا، بیانیہ سوشل میڈیا کے دھندے سے آتا ہے اور پارٹی قیادت اس بیانیے کے آگے بے بس ہے۔ وہ کوئی معقول اور حکیمانہ فیصلہ کرنا بھی چاہے تو نہیں کر سکتی کیونکہ اس پر پریشر آتا ہے، وہ ڈر جاتی ہے۔ تحریک انصاف اس دباو سے یہ کہہ کر نکل سکتی تھی کہ ہم نے مولانا کو فیصلے کا اختیار دیا ہے تو اب ان کا فیصلہ ہمیں اچھا نہ بھی لگے تب بھی ہم اسے قبول کریں گے اور یوں ایک راستہ نکالا جا سکتا تھا۔
مزید پڑھیں:ن اسرائیل کا مسئلہ کیا ہے؟
مولانا کی صورت میں تحریک انصاف کو جو فوائد مل سکتے تھے ان کی فہرست طویل ہے لیکن شاید مولانا کی کوئی نیکی کام آ گئی ہےا ور وہ اس امتحان سے بچ گئے ہیں کیونکہ سب کچھ کے بعد آخر میں تحریک انصاف کے کارکنان نے جو حسن سلوک مولانا کے ساتھ کرنا تھا وہ بھی دیکھنے والا ہوتا تھا۔ اس کوچہ یاراں کا یہی تو کمال ہے یہاں جو بھی آتا ہے دستار سلامت لے کر نہیں جاتا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













