یہ کراچی کے گنجان آباد علاقے نیو کراچی کی ایک سرد اور خاموش صبح تھی۔ فجر کے سائے ابھی گہرے تھے اور فاروق اعظم مسجد کے میناروں سے اذان فجر کی صدائیں بلند ہونے ہی والی تھیں کہ اچانک ایک گولی کی آواز نے فضا کا سکون تہہ و بالا کر دیا۔ مسجد کے بالکل سامنے والے مکان کے باہر ایک نوجوان خون میں لت پت گرا تھا۔ مقتول کا نام ریحان تھا، جس کی زندگی کا چراغ عین اس وقت گل کر دیا گیا جب وہ اپنے گھر کی دہلیز پر کھڑا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت میں دل دہلا دینے والا واقعہ، شوہر نے بیوی کو قتل کرکے 2 سالہ بیٹے کو جنگل میں چھوڑ دیا
ڈی ایس پی سلمان وحید کے مطابق پولیس جب موقع واردات پر پہنچی تو منظر کسی معمے سے کم نہ تھا۔ عموماً ایسی وارداتوں میں ڈکیتی یا چھینا جھپٹی کی مزاحمت سامنے آتی ہے، لیکن یہاں مقتول کا موبائل فون اور بٹوہ جیب ہی میں ہی تھا۔ کوئی چشم دید گواہ نہیں تھا، جبکہ مسجد کے نمازی صرف فائر کی آواز سننے کا دعویٰ کر رہے تھے، یہ ایک اندھا قتل تھا، جس کی گتھی سلجھانے کے لیے نہ کوئی ثبوت تھا اور نہ ہی کوئی گواہ۔
شک کے دائرے اور چھپے ہوئے سچ
تحقیقات کا آغاز ہوا تو کئی رُخ سامنے آئے۔ کیا یہ کوئی مذہبی تنازع تھا؟ یا سیاسی دشمنی؟ مقتول کی سیاسی وابستگی بھی تھی، لیکن پولیس کی گہری نظروں نے ایک الگ ہی زاویے کو بھانپ لیا۔ جب مقتول کے گھر والوں سے بات ہوئی تو پتا چلا کہ ریحان کی شادی محض ساڑھے 5 ماہ قبل صدف نامی خاتون سے ہوئی تھی۔ یہ صدف کی دوسری شادی تھی اور وہ ریحان سے عمر میں کچھ سال بڑی بھی تھی۔

تفتیش کے دوران جب صدف کے ماضی کو ٹٹولا گیا تو معلوم ہوا کہ اس کا پہلا شوہر منشیات کا عادی شخص تھا، جسے صدف کے بھائیوں نے مار پیٹ کر طلاق پر مجبور کیا تھا۔ لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی تھی اصل موڑ تب آیا جب پولیس نے ڈیجیٹل فرانزک کا سہارا لیا۔
خاموش قاتل، موبائل فون کا ڈیٹا
سی ڈی آر نے وہ راز فاش کیا جو صدف کے آنسوؤں کے پیچھے چھپا تھا۔ وہ دوسری شادی کے بعد بھی راتوں کو کئی کئی گھنٹے ایک شیزان نامی نوجوان سے رابطے میں تھی۔ شیزان وہی شخص تھا جس نے صدف کو بیوٹی پارلر بنوا کر دیا تھا اور جس کے ساتھ اس کے پرانے مراسم تھے۔
پولیس نے جب علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کھنگالی، تو دور ایک کیمرے میں نیلے شلوار قمیض پہنے ایک نقاب پوش شخص بھاگتا ہوا دکھائی دیا۔ یہ حلیہ اور ٹیکنیکل ڈیٹا جب یکجا ہوئے، تو پولیس شیزان کے دروازے پر جا پہنچی۔
سازش کے تانے بانے: ساس، سالہ اور محبوب
شیزان کی گرفتاری کے بعد جب اس سے سختی سے پوچھ گچھ ہوئی، تو اس نے وہ ہولناک سچ اُگل دیا جس نے سب کو دنگ کر دیا۔ یہ محض ایک جنونی عاشق کی کارروائی نہیں تھی، بلکہ ایک منصوبہ بند سازش تھی۔
ریحان نے صدف کا بیوٹی پارلر بند کروا دیا تھا اور اس پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ صدف اور اس کی ماں (ریحان کی ساس) اسے راستے سے ہٹانا چاہتے تھے۔ صدف کی ماں کا مؤقف تھا کہ اگر دوبارہ طلاق لی تو برادری میں ناک کٹ جائے گی، اس لیے قتل ہی واحد حل بچا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور: فائرنگ کا افسوسناک واقعہ، خاتون اور 2 بچے قتل، ملزم نے خودکشی کر لی
واردات سے 15 دن پہلے صدف کی ماں نے شیزان کو بلا کر اسے اُکسایا اور ریحان کے قتل کے عوض صدف سے شادی کا وعدہ کیا۔ اس سازش میں صدف کا بھائی جبران بھی برابر کا شریک تھا۔
قاتل نے اپنے بھائی کا نائن ایم ایم پستول چوری کر کے اس قتل کو انجام دیا، قاتل کا خیال تھا کہ وہ اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر وہ بچ نکلے گا۔ لیکن قانون کے ہاتھ اس کی گردن تک پہنچ گئے۔ پولیس نے آلہ قتل برآمد کر لیا اور فرانزک رپورٹ نے اس گولی کی تصدیق کر دی جو جائے وقوعہ سے ملی تھی۔
محبت، بے وفائی اور خاندانی رنجش کی اس بھینٹ نے ایک ہنستے بستے گھر کو اجاڑ دیا۔ آج ریحان منوں مٹی تلے ہے، جبکہ اس کی بیوی ساس، سالہ اور وہ عاشق جس نے اپنی زندگی برباد کر لی، سلاخوں کے پیچھے اپنے انجام کا انتظار کر رہے ہیں۔












