دمشق میں ترک سفارت خانہ 12 سال بعد آج سے اپنی سرگرمیاں شروع کر دے گا

اتوار 15 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دمشق میں موجود ترکیہ کے سفارتخانہ 12 سال بعد آج سے پھر کھل جائے گا۔

ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان کے مطابق دمشق میں ترک سفارت خانہ آج سے فعال ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:ترک انٹیلیجنس چیف کا 13 سال بعد شام کا دورہ، تاریخی مسجد میں نوافل ادا کیے

دمشق میں ترکیہ کے سفارتخانے کا عبوری چارج ڈی افیئرز کی ذمہ داری برہان کھور اوغلو کو سونپی گئی ہے۔ برہان کھور اوغلو اس قبل موریطانیہ میں ترکیہ کے سفیر کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے۔

ترکیہ میں براہ راست نشریات میں حکومتی ایجنڈا پیش کرتے ہوئے وزیر خارجہ حاقان فیدان کا کہنا ہے کہ کھور اوغلو اور ان کی ٹیم دمشق گئی ہے اور سفارت خانہ فعال ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:شامی صدر بشارالاسد نے ملک میں آخری چند گھنٹے کیسے گزارے؟

واضح رہے کہ شام کے دارالحکومت دمشق میں ترک سفارت خانہ 2012 تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے، تاہم بشارالاسد حکومت کی جانب سے اپنے عوام کیخلاف پُرتشدد کاررائیوں کے بعد ترکیہ نے 26 مارچ 2012 کو  دمشق میں اپنی سفارتی سرگرمیاں بند کر دی تھیں۔

تاہم استنبول میں شام کے قونصلیٹ جنرل نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھی تھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مجھ سے جلنے والوں کی اپنی کوئی پہچان نہیں، دیدار کے الزامات پر ریشم کا سخت ردعمل

ماہرین کا گوگل پر زور: بچوں کے لیے یوٹیوب پر اے آئی ویڈیوز بند کریں

پاکستان کی لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن دستوں پر حملوں کی مذمت، جنگی جرم قرار

ٹرمپ کا ایران جنگ جاری رکھنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

بنگلہ دیش: بی این پی رہنما الیاس علی کے لاپتا ہونے کے معاملے میں نئے انکشافات، سابق حکومت پر سنگین الزامات

ویڈیو

سعودی عرب سے ترسیلات اور حجاز مقدس سے متعلق شہریوں کے خیالات

حج اور عمرہ کی یادیں جو آنکھوں کو نم کر دیں

پیغام پاکستان بیانیہ، محراب و منبر کی اصلاح اور عدالتی انصاف شدت پسندی ختم کر سکتا ہے: علّامہ عارف الواحدی

کالم / تجزیہ

’میں نے کہا تھا ناں کہ پھنس جائیں گے؟‘

ہز ماسٹرز وائس

ایران یا سعودی عرب: پاکستان کو مشکل فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے؟