انیس سو بانوے سے ہر سال تین دسمبر معذوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جا رہا ہے ۔مگر اس ہیچمداں کے خیال میں بذاتِ خود معذور کی اصطلاح ہی متعصب ہے ۔ بیسویں صدی کے سب سے بڑے ماہرِ طبیعات سٹیفن ہاکنگ نے جس طرح اپنے کام اور زندگی سے جسمانی رکاوٹوں کے منہ پر تھوک کے دکھا دیا ۔اس کے بعد معذور یا معذوریت کی اصطلاح خود اپنے معنی ڈھونڈنے سے معذور لگتی ہے ۔
اگر کسی کا ایک جسمانی انگ نارمل انداز میں کام نہیں کر رہا تو قدرت نے اس کے دوسرے اعضا کو اتنا باصلاحیت اور متحرک بنا دیا ہے کہ وہ چاہے تو جسمانی رکاوٹ یا رکاوٹوں کے باوجود ایک کامیاب اور باوقار زندگی گذار سکتا ہے ۔بشرطیکہ سماجی و انتظامی ڈھانچہ بھی اس کا اتنا ہی ساتھ دے جتنا کہ ان لوگوں کا جنہیں دنیا ” جسمانی و زہنی نارمل ” کہتی ہے اور ان میں نیتن یاہو جیسے لوگوں کو بھی شمار کرتی ہے ۔
سماجی و انتظامی ڈھانچے کی کلیدی اہمیت کی بات میں یوں کر رہا ہوں کہ اگر سٹیفن ہاکنز جسمانی کمی بیشی جھیلنے والے انسانوں کا خیال رکھنے والے معاشرے میں پیدا ہونے کے بجائے پاکستان کے کسی متوسط گھرانے میں پیدا ہوتا تو قومی امکان ہے کہ مرتے دم تک چار دیواری میں قید ہوتا یا کسی غریب کی جھونپڑی میں پیدا ہوتا تو وہیل چییر پر یا سڑک پر گھسٹتا ہوا بھیک مانگ کر مرتے دم تک گذارہ کرتا۔
عالمی ادارہِ صحت کے مطابق دنیا کی سولہ فیصد آبادی ( ایک ارب تیس کروڑ ) کسی نہ کسی جسمانی کمی سے نبرد آزما ہے ۔اس میں سے دو تہائی آبادی ترقی پذیر ممالک میں ہے ۔جہاں سرکاری غفلت اور متعصب سماجی رویوں کے سبب اس طبقے کی اوسط عمر دیگر انسانوں کے مقابلے میں بیس برس تک کم ہے ۔
چونکہ انہیں روزمرہ تعمیری مصروفیات میں شامل رکھنے یا انکی خصوصی ضروریات کا خیال رکھنے کو نظرانداز کیا جاتا ہے لہذا اس طبقے میں ڈیپریشن ، سانس کی بیماریوں ، فالج ، ضیابطیس ، موٹاپے اور دیگر پیچیدگیوں میں مبتلا ہونے کا خطرہ عام لوگوں کے مقابلے میں دوگنا ہے ۔انہیں آمد و رفت کے دوران عام لوگوں سے پندرہ گنا زائد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ جسمانی کمی راہ چلتوں کی پھبتیوں ، فقرے بازی نیز تعلیم ، صحت اور روزگار کی سہولتوں میں امتیازی سلوک کو دعوت دیتی ہے ۔ اچھا بھلا انتہائی باصلاحیت انسان بھی اگر نارمل جسمانی تعریف پر پورا نہ اترے تو اسے نام نہاد نارمل سماج کے ایب نارمل سلوک سے ہر آن گذرنا پڑتا ہے ۔
اس طرح کے فقرے گھر اور گھر سے باہر سننا ایک معمول ہے ۔” اندھے ہو گئے ہو کیا ، ابے وہ تو پورا پاگل ہے ، بھائی اس کا جتنا چھوٹا قد ہے اتنا ہی بڑا فتنہ ہے ، ہاں زہین تو ہے مگر بے چارہ لنگڑا ہے ” ۔یعنی ان کی زہنی و جسمانی صلاحیتیں ابھارنے یا قدر کرنے کے بجائے ان پر ترس کھایا جاتا ہے ۔
اگر تمام فٹ پاتھوں ، عمارتوں اور ٹرانسپورٹ کو ان خصوصی افراد کے لئے کارآمد بنانے کی لازمی شرط لگا دی جائے تو ہر پروجیکٹ کی لاگت میں محض ایک فیصد کا اضافہ ہوگا مگر اس ایک فیصد اضافے سے جسمانی کمی بیشی کے شکار طبقے کے مسائل میں پچاس فیصد تک کمی آ سکتی ہے ۔لیکن نہ منصوبہ بندی کرنے والا اہل کار اور نہ ہی پروجیکٹ آرکیٹیکٹ اسے کوئی بنیادی ضرورت سمجھتا ہے ۔البتہ اس کمیونٹی کو سماجی بوجھ سمجھنے میں سب متفق ہیں۔
ریاست ان خصوصی افراد کی زندگی بہتر بنانے میں کس قدر سنجیدہ ہے اس کا اندازہ یوں لگا لیجے کہ آج تک محکمہ شماریات یہی گنتی نہیں کر پایا کہ پاکستان میں جسمانی کمی بیشی والے افراد کی آبادی کتنی ہے ۔یہ آبادی پینتیس لاکھ سے دو کروڑ ستر لاکھ کے درمیان بتائی جاتی ہے ( اس سے زیادہ سنگین مذاق اور کیا ہو گا ) ۔
جب یہی نہیں معلوم کہ ایسے افراد کی تعداد دراصل کتنی ہے تو ان کی بہتری کے بارے میں خاک پلاننگ ہو گی ؟
آپ کسی بھی متعلقہ منتری یا بابو سے پوچھ لیں کہ ان خصوصی افراد کو سماج کا نارمل فعال حصہ بنانے میں کسی بھی حکومت نے کیا متحرک کردار ادا کیا تو وہ فوراً انگلیوں پر قوانین گنوانا شروع کر دے گا۔
مثلاً یہی کہ انیس سو اکیاسی میں ضیا حکومت نے پہلی بار خصوصی افراد کی بحالی اور روزگار کے بندوبست سے متعلق قانون بنایا۔( ضیا سے پہلے کسی حکمران کو اس کا خیال یوں نہیں آیا کہ ان میں سے کسی کے بچے جسمانی کمی کا شکار نہیں تھے )۔
پھر منتری جی یہ بتائیں گے کہ دو ہزار بیس میں اس طبقے کی بہتری کے لئے پارلیمنٹ نے ” معذور افراد کے حقوق کا ایکٹ ” منظور کیا۔صوبوں نے اپنے اپنے طور پر بھی اضافی قانون سازی کی ۔اور یہ کہ پاکستان جسمانی کمی کے شکار افراد کے حقوق کے بین الاقوامی کنونشن کا بھی دستخطی ہے ۔
دو ہزار بیس میں سپریم کورٹ نے بھی وفاقی و صوبائی حکومتوں اور اداروں کو حکم دیا کہ اب تک نافذ قوانین پر عمل کرتے ہوئے سرکاری ملازمتوں میں معذور افراد کے لئے مختص کوٹے کو لازماً پر کیا جائے اور ملازمتی ماحول میں ان کی خصوصی ضروریات کا خیال رکھا جائے ۔نیز محکمہ شماریات اس طبقے کی باقاعدہ گنتی کرے اور دیگر اعداد و شمار جمع کر کے عدالت کو آگاہ کرے ۔( عدالت صرف حکم دے سکتی ہے عمل تو سرکار ہی کو کرنا ہے )۔
حالانکہ محض کامن سینس سے کام لینے سے بہت سے مسئلے حل ہو سکتے ہیں۔ مثلاً خصوصی بچوں کے لئے خصوصی اسکول بنانے پر لمبا خرچہ کرنے کے بجائے موجودہ سرکاری و نجی اسکولوں میں ہی ان کے لئے کوٹہ مخصوص کر کے گنجائش پیدا کی جا سکتی ہے ۔فیسوں میں رعائیت دی جا سکتی ہے ۔اساتذہ کو ان بچوں کی حساسیت کے بارے میں تربیت دی جا سکتی ہے ۔
تعلیمی نصاب میں جسمانی معذوری پر ترس کھانے کے بجائے انہیں ہم قدم سمجھنے کے بارے میں اسباق شامل ہو سکتے ہیں۔جب یہ خصوصی بچے عام اسکولوں میں دیگر ” نارمل ” بچوں کے ساتھ گھلیں ملیں گے تو زہنی و سماجی و تربیتی فاصلے بھی کم ہوں گے ۔
نادرا اگر اسپیشل افراد کے شناختی کارڈز میں کوئی ترمیم و اضافہ کر دے جس سے اس کمیونٹی کو ترجیحی بنیاد پر روزمرہ سہولتیں یا رعائتیں حاصل کرنے میں آسانی ہو تو نادرا کا مالی بوجھ آخر کتنا بڑھے گا ؟
بلڈنگ بائی لاز میں یہ ترمیم کیوں نہیں ہو سکتی کہ اب جو بھی نئی تعمیر ہو گی اس میں خصوصی افراد کی آمدو رفت کی آسانی کا دھیان رکھا جائے گا۔فٹ پاتھ ، عمارتوں کے داخلی دروازے اور پبلک روڈ و ریلوے ٹرانسپورٹ میں ایسی بسیں شامل کی جائیں جن پر وہیل چیرز آسانی سے چڑھ اور اتر سکیں۔
مگر ہر سال تین دسمبر کو ان اسپیشل افراد کے بارے میں اچھی اچھی گفتگو کرنے کے باوجود الحمدللہ اگلے ایک عشرے میں بھی کچھ خاص پیش رفت نظر نہیں آ رہی کیونکہ ریاست کی ترجیحات کچھ اور ہیں ۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













