26ویں ترمیم کیخلاف سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست آ گئی۔ سپریم کورٹ بار کے سابق 8 صدور نے عدالت سے 26ویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کردی۔
سردار لطیف کھوسہ اور بیرسٹر صلاح الدین کے ذریعے دائر درخواست میں سپریم کورٹ بار کے سابق 8 صدور نے استدعا کی ہے کہ حتمی فیصلے تک 26ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں ہونے والے تمام اقدامات کو معطل کیا جائے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم عدلیہ کی آزادی سے متصادم ہے اور یہ ترمیم اختیارات کی تقسیم کے اصول کے خلاف ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بغیر نہیں ہوسکتی تھی۔
مزید پڑھیں: 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف 2 مزید درخواستیں دائر، کل تعداد کتنی ہوگئی؟
تازہ درخواست کے بعد 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف مجموعی طور پر 11 درخواست دائر ہوچکی ہیں جن میں عدالت سے مذکورہ آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: نئی قانون سازی 26ویں آئینی ترمیم کی توہین، عدالت میں چیلنج کریں گے، مولانا فضل الرحمان
واضح رہے کہ 21 اکتوبر کو آئین کا حصہ بننے والی 26ویں ترمیم کو اگلے ہی روز سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا تھا۔ آئینی ترمیم کے خلاف اب تک اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی احمد خان بچھر، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان، بلوچستان بار کونسل، بلوچستان ہائیکورٹ بار کونسل اور لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے علاوہ سابق صدور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سمیت 8 وکلا کی جانب سے درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔














